دھاندلی مخول بن گئی

دھاندلی مخول بن گئی

سعد رفیق کے خلاف دھاندلی کا کوئی الزام نہیں مگر الیکشن کمیشن نے اسے ڈی سیٹ کرنے کا نوٹی فیکیشن جاری کر دیا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ کسی روز یہ الیکشن کمیشن مجھے کسی اسمبلی کا ممبر منتخب ہونے کا اعلان نہ کر دے۔ اس سے کچھ بھی بعید نہیں، یہ کسی مرے ہوئے شخص کو بھی رکن اسمبلی قرار دے سکتا ہے، ابھی تو اسے وہ کلی اختیارات حاصل نہیں ہیں جو بھارت کے الیکشن کمیشن کو حاصل ہیں ورنہ اس نے آئین کی کلاز باسٹھ تریسٹھ کا ایسا کلہاڑا چلانا تھا کہ شاید ہی کوئی ذی روح الیکشن لڑنے کا اہل قرار پاتا۔ویسے یہ الیکشن کمیشن اس قدر سخاوت کا ثبوت دیتا ہے کہ جاہل مطلق اصحاب جلیلہ کو بی اے، ایم اے، پی ایچ ڈی تسلیم کر لیتا ہے۔
تحقیق کا سلسلہ چل نکلا ہے اور یہ بات سامنے آئی ہے کہ الیکشن سے دو روز پہلے اردو بازار لاہور کے دو سو چھاپے خانوں سے ووٹ کی پرچیاں چھپوائی گئیں ، اس انکشاف کے بعد اس الیکشن کے تقدس کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے۔ ہم سنتے تھے کہ نجم سیٹھی نے پنکچر لگائے۔ میرا اعتراض تھا کہ رات کے ساڑھے گیارہ بجے نواز شریف نے کس برتے پر وکٹری تقریر فرمائی۔ بحث جیسے مرضی کر لیں، اورا س بحث سے نتیجہ یہ نکل بھی آیا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی تو پھر بھی نیا لیکشن ہو گا اور اس الیکشن میں بھی وہی ہو گا جو پہلے الیکشن میں ہوا، یہی بندے الیکشن لڑیں گے، یہی پارٹیاں میدان میں ہوں گی، یہی وعدے دہرائے جائیں گے کہ لوڈ شیڈنگ چھ ماہ میں ختم یا ڈی جے بٹ کے طنبوروں سے نیا پاکستان جنم لے گا۔اور نئے الیکشن کا نتیجہ بھی وہی گا جو پہلے آیا۔
پاکستان میں ہر الیکشن کا نتیجہ ایک جیسا آتا رہا ہے، حکمرانوں کی موجودہ نسل پچھلے چالیس برس میں نہیں بدلی ، کوئی مر گیا تو وہ الیکشن کمیشن کی مجبوری ہے مگر مرنے والے کا بیٹا، بھائی، خاوند ، بیوہ، بھتیجا ،بھانجا آ گیا۔ چہرے اور نام بدلے مگر خاندان نہیں بدلے۔آئین میں اس امر کی گنجائش نہیں کہ ہم اپنے امیدوار یا سیاسی جماعتیں کسی دوسرے ملک سے درا ٓمد کر سکیں مگر دوہری شہریت والوںکی تو ایک قطار لگی رہتی ہے اور ان سے کوئی تعرض نہیںکرتا الایہ کہ ایان علی کی طرح رنگے ہاتھوں پکڑا جائے۔مگر ایان علی کا کسی نے کیا بگاڑ لیا ہے۔
اس ملک میں جمہوریت یا آمریت میں بھی کوئی فرق نہیں کیا جاتا، جو چہرے جمہوری نظام میںپیش پیش نظرا ٓتے ہیں، وہی آمریت میںبھی چھائے رہتے ہیں۔بھٹو نے ایوبی آمریت کی آغوش میں آنکھ کھولی، نواز شریف نے ضیائی آمریت میں، جماعت اسلامی کو ہر رنگ اچھا لگتا ہے۔کوئی ایم ایم اے کا برقع پہن کر فوجی آمریت کے چھاتے تلے آ جاتا ہے۔
کیا پہلی مرتبہ دھاندلی کے الزامات لگے ہیں۔ہم فیشن میں فوجی آمروں کو گالیاں دیتے ہیں، اگر یہ کم ہیں تو اور نکال لی جائیں، مگر پہلا جھرلو ایک آئی جی قربان  صاحب نے چلایا،اسی کے نام پر لاہور میںپویس کا جی ایچ کیو قائم ہے۔ یہ کونسا زمانہ تھا، سچی بات یہ ہے کہ مجھے زبانی یاد نہیں مگر اس وقت ابھی مارشل لا کی علت کا ظہور نہیں ہواتھا،  ذرا ذہن پر زور ڈالئے کہ اس خالص جمہوری دور میں اور کیاہوتا تھا، راتوں رات حکمرانی کے لئے نئی پارٹی بن جاتی تھی۔ پہلی اقتدار لیگ ری پبلکن پارٹی تھی۔ تب وفا داریاں نیلام ہوتی تھیں، ہارس ٹریڈنگ کھلے عام ہوتی تھی۔ چھانگامانگا، میریٹ ، مالم جبہ کے نیلام گھر تو نئی نسل کی آنکھوںکے سامنے چلے۔
پیپلز پارٹی کہتی ہے کہ اس نے کبھی کسی فوجی آمریت کا ساتھ نہیں دیا، یہ دعویٰ ٹھیک ہوتا اگر چیئرمین پیپلزپارٹی نے خود سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن کر اقتدار پر جپھا نہ مارا ہوتا۔
اور پیپلز پارٹی یہ تو مانے کہ ستر کے الیکشن کو اس نے قبول نہ کیا ، اکثریت تو عوامی لیگ کے پاس تھی، پیپلز پارٹی کو اپوزیشن میں بیٹھنا تھا، کیوںنہیں بیٹھی، اس کی تشریح بلاول صاحب ہی ٹویٹر پر کر دیں۔ زرداری کو تو کی بورڈ پر انگلیاں چلانا نہیں آتیں۔ تاریخ کی بدنام تریں دھاندلی کا سہرا بھی پیپلز پارٹی کے سر سجا۔ستتر میں پی این اے نے قومی اسمبلی کے الیکشن کے بعد دھاندلی کاالزام عائد کیا اور صوبائی اسمبلیو ں کے الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا، یہ بائیکاٹ نظرآتا تھا۔ دھاندلی کے ا س شور میں جمہوریت کا دھڑن تختہ ہو گیا۔بھٹو کی جان بھی گئی، اور بالکل غلط۔
ضیا الحق کے بعد کئی الیکشن ہوئے۔ پہلے الیکشن میں پیپلز پارٹی کو سادہ اکثریت میسر نہ تھی مگر اسے حکومت دے دی گئی، یہ حکومت چند ماہ سے زیادہ نہ چل سکی، اس کے بعد آئی جے آئی کی حکومت بنی، اس کا بھی یہی حشر ہوا۔ان انتخابات میں بھی ایسی بلیم گیم چلی کہ چشم فلک بھی شرما گئی۔ جو حکومت ٹوٹی ، اس پر کرپشن، اقربا پروری کے الزامات مخالف پارٹی نے لگائے۔ اصل میں یہ سارا کھیل الیکشن نتائج کو قبول نہ کرنے کے مترادف تھا، محترمہ نے تو صاف کہا تھا کہ نتائج کمپیوٹر کی کوکھ سے نکلے ہیں۔یعنی وہی دھاندلی کا شور۔
ایک الیکشن جنرل مشرف نے کروایا، اس دور میں ق لیگ کا پتلا گوندھ کر اس میں جان ڈالی گئی، جنرل احتشام ضمیر زندہ رہتے تو شاید اپنی آپ بیتی منظر عام پر لے آتے کہ کس طرح جنرل ضیا نے یک طرفہ الیکشن کروایا،مگر پھر بھی جمالی کی حکومت ایک ووٹ کی طاقت سے بنی، اس قدر ناپائیدار حکومت کے لئے حوادث زمانہ کے ایک جھونکے کی ضرورت تھی، پانچ برسوںمیں تین وزیر اعظم اور پراپیگنڈہ پھر بھی یہی کہ پہلی مرتبہ کسی پارلیمنٹ نے مدت پوری کی ہے، یہ مدت تو زرداری کے دور میں بھی پوری ہو گئی مگر جیسے ہوئی، خدا ایسی ذلت کسی اور کو نہ دکھائے ۔
 دھاندلی اصل میں ہمارا قومی نشان اور قومی افتخار بن چکی ہے۔
فیس بک پر بچے چھیڑتے ہیں کہ ملک میں پانی کے گلاس کو زنجیر کے ساتھ باندھنے کی ضروت پڑتی ہے، شیخ سعدی تو رو پڑا تھا کہ یہ کیسا ملک ہے جہاںکتے آزاد ہیں اور پتھروں کو زمین سے باندھ دیا گیا ہے اورہمارے ملک میں نمازی سجدے کی حالت میں نیچے سے چوری چوری دیکھتا ہے کہ کیا اس کے جوتے چوری تو نہیں ہو گئے۔اس ملک میں ہم ووٹنگ میں دیانت تلاش کرنے چلے ہیں۔
کیا فائدہ ان کج بحثیوں کا، ہزار الیکشن کروا لیں ، چہرے یہی ، پارٹیاں یہی، اور نتیجہ بھی یہی۔ تو چلئے اس نظام کو چلنے دیں، یہ ناجائز ہی سہی، دھاندلی زدہ ہی سہی، یہاں پینتیس برس کے مارشل لائوں کے ساتھ خوشی خوشی نباہ کر لیا گیا تو اس جمہوری دھاندلی کو بھی قبول کر لیں۔ ان حکومتوںکو بھی چلنے دیں۔ پی ٹی آئی ا نقلاب کا شوق اپنے صوبے میںپورا کرتی رہے، مسلم لیگ پنجاب میں بجلی پیدا کرتی رہے، میٹرو بناتی رہے اور پیپلز پارٹی سندھ میں انسانی سروںکے اوپر تخت سجائے بیٹھی رہے۔ بلوچستان میں ہمیشہ سے سبھی نے راج کیا ہے ا ور ہمیشہ شور بھی مچایا ہے کہ وہ استعمار کے غلام ہیں۔یہ کھیل آئندہ بھی جاری رہے گا۔
دھاندلی کے مخول کو کہیں نہ کہیں ختم ہونا ہے۔مسلم لیگ بھی کہے دھاندلی، پی ٹی آئی بھی کہے دھاندلی ا ور پیپلز پارٹی بھی کہے دھاندلی، اور دھاندلی زدہ حکومتیں بھی چل رہی ہیں ۔خدا را لوگوں کو اس قدر بیوقوف نہ سمجھیں۔اس قدر بیوقوف نہ بنائیں، کسی پارٹی نے دھاندلی کے الزام کے بعد اپنی حکومت بنانے سے انکار نہیں کیا، بس میٹھا میٹھا ہپ ہپ!!