نمرُود کی باقِیات اور مردُود ڈینگی؟

کالم نگار  |  اثر چوہان
 نمرُود کی باقِیات اور مردُود ڈینگی؟

خبر ہے کہ ’’عالمی دہشت گرد تنظیم ’’داعِش‘‘ کے جنگجُوئوں نے دریائے دجلہ کے کنارے تین ہزار تین سو سال قبل آباد کئے گئے شہر ’’نمرُود‘‘ میں لُوٹ مار کی اور پھر اُس کی باقِیات کو تباہ کر دِیا۔‘‘ اقوامِ متحدہ کے تعلیمی ٗ سائنسی اور ثقافتی ادارے ’’UNESCO‘‘ نے نمرُود شہر کی تباہی کو جنگی جُرم قرار دِیا ہے۔‘‘ حضرت ابراہیمؑ کے ہم عصر بابل کے بادشاہ ’’نمرُود‘‘ کے مرنے کے 700 سال بعد (شاید) اُس کے وارثوں نے ’’نمرُود شہر‘‘ بسایا ہو گا؟ خُدائی کا دعویٰ کرنے والے نمرُود نے حضرت ابراہیمؑ کو خُدائے واحد کی تبلیغ کرنے سے منع کِیا لیکن وہ ثابت قدم رہے تو نمرُود نے اُن کو رسیّوں میں بندھوا کر پہاڑ کے برابر لکڑیوں کے ڈھیر میں بھڑکتی ہُوئی آگ میں ڈلوا دِیا۔ علّامہ اقبال کہتے ہیں ؎

’’بے خطر کُود پڑا آتشِ نمرُود میں عِشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی‘‘
پھر اللہ تعالیٰ نے آگ کو حُکم دِیا۔ ’’اے آگ سرد ہو جا اور ابراہیمؑ پر سلامتی بن!‘‘ آگ سرد ہو گئی اور حضرت ابراہیمؑ زِندہ و سلامت آتشِ نمرود سے باہر آ گئے لیکن وہ نمرُود کے روّیے سے تنگ آ کر فلسطین ہجرت کر گئے۔ کتابوں میں لِکھا ہے کہ ’’آتشِ نمرُود نِصف فرلانگ کے احاطے میں جلائی اور بھڑکائی گئی تھی اور اُس کی تپِش سے دو فرلانگ تک کوئی بھی انسان او ر جانور اُس کے قریب سے نہیں گُزر سکتا تھا۔‘‘ مِرزا غالبؔ نے پاکستان کی ہر آمرانہ اور جمہوری حکومت کی بندگی (تابعداری/ غلامی) کرنے والے عوام کی ترجمانی کرتے ہُوئے بہت پہلے کہا تھا ؎
’’کیا وہ نمرُود کی خُدائی تھی؟
بندگی میں مرا بھلا نہ ہُوا!‘‘
ہمارے ہر شہر اور گائوں میں بے روزگاری ٗ مہنگائی ٗ چوری ٗ ڈاکے ٗ قتل و غارت اور دہشت گردی کی آگ بھڑکی ہُوئی ہے۔ 60 فی صد سے زیادہ مفلُوک اُلحال لوگ اِس بھڑکتی ہُوئی آگ میں جل رہے ہیں۔ یہ لوگ اللہ اور رسولؐ کا نام لیتے اور آخرت پر بھی ایمان رکھتے ہیں لیکن اللہ کی طرف سے ابھی تک کوئی حُکم نہیں آیا کہ ’’اے آگ سرد ہو جا اور اِن بھُوکے ٗ ننگے ٗ بے گھر یا کچے گھروں میں رہنے والے لوگوں کی سلامتی بن!‘‘ اب اولیائے کرام کا دَور بھی نہیں کہ وہ کرامات دکھا کر مسائل زدہ عوام کے مسائل حل کر دیں اور نہ ہی ہندوستان کے اُن عوام دوست مسلمان بادشاہوں کا جِن کے حُکم سے سلطنت کے شہروں اور دیہات میں غریبوں کے لئے لنگر خانے کھولے گئے تھے۔ اُن بادشاہوں کی طرف سے اولیائے کرام کی درگاہوں کے لئے ہر مذہب کے لوگوں کو مُفت کھانا کھِلانے کے لئے زرعی زمینیں بھی وقف کی گئی تھیں جن پر بعد میں اولیائے کرام کی اولاد نے قبضہ کر لِیا جِن میں سے اکثر پر کرپشن کے مقدمات زیرِ التوا ہیں۔ شاید یومِ حشر کی عدالت کے لئے۔
عُلماء حق گوشۂ عافیت میں مصروفِ عبادت ہیں اور سیاسی عُلماء نوابوں اور جاگیرداروں کی سی زِندگی بسر کر رہے ہیں جِن میں سے کچھ ’’خلافت کے دعوے دار‘‘ بھی ہیں۔ حُکمران طبقہ ٗ اُن کے اتحادی اور اعلیٰ حکومتی افسران سرکاری خرچ پر حج ٗ عُمرے اور مہنگے علاج کے لئے اپنے اہلِِ خانہ اور ملازمین کو بھی لے جاتے ہیں لیکن عام لوگ جعلی ڈاکٹروں/ حکیموں کے علاج سے مر جاتے ہیں اور جو نہیں مرتے انہیں خُودکُش حملہ آور مار دیتے ہیں۔ ہر چھوٹا ٗ بڑا حُکمران خُودکُش حملوں کا شکار ہونے والوں کو ’’شہید‘‘ قرار دے کر اُس کے وارثوں کو سرکاری خزانے سے5 لاکھ روپے کا اعلان کر کے ٗ مِیڈیا میں حاتم طائی ثانی (2 نمبر) بن جاتا ہے۔ بادشاہوں اور اب جمہوری دَور میں بھی اکثر عُلماء کا یہ فتویٰ ہے کہ ’’امارت اور غُربت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔‘‘ قائدِاعظم کے پاکستان ایوانِ بالا کے انتخاب میں نمرُود ٗ فرعون اور قارون کی صفّات کے حامل سیاستدان/ مذہبی قائدِین کے مسکراتے اور قہقہے لگاتے ہُوئے چہروں کو دیکھ کر وطن ِ عزیز کا تو ہر بھُوکا ٗ ننگا اور کچے گھر کا مکین آسمانوں کی طرف دیکھ کر کہہ رہا ہو گا کہ ؎
’’تری ذات ہے اکبری سَروری !
مری بار کِیوں دیر اِتنی کری؟‘‘
قرآنِ پاک کو ’’اساطِیر اُلاوّلِین‘‘ (پہلے لوگوں کی کہانیاں) کہا گیا ہے۔ اِس میںنمرُود سمیت کئی بادشاہوں / حُکمرانوںکی عِبرت ناک کہانیاں بھی درج ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے بعد میں آنے والے بادشاہوں/ حُکمرانوں کو عقل سِکھانے کے لئے قرآنِ پاک میں محفوظ رکھا ہے لیکن ’’داعِش‘‘ کے دہشت گردوں نے ’’نمرُود شہر‘‘ میں پہلے لُوٹ مار کی پھر اُسے تباہ کر دِیا۔ یعنی علّامہ اقبال کی تعلیمات کے برعکس کِشور کُشائی سے پہلے مالِ غنیمت لُوٹ لِیا۔ اپنی مرضی کی شریعت نافذ کرنے کا خواہش مند کوئی بھی دہشت گرد قرآنِ پاک سے نمرُود کا نام اور اُس کا عِبرت ناک انجام کیسے حذف کر سکتا ہے؟ کیا فرماتے ہیں دہشت گردوں کے ’’سہولت کار‘‘ بِیچ اِس مسئلے کے؟ نمرُود کی موت کا باعث ایک مچھّر تھا جو اُس کی ناک کے ذریعے اُس کے دماغ میں گھُس گیا اور ’’جب وہ مچھّر اُس کے دماغ میں اُچھل کُود کرتا تو نمرُود کو بہت تکلیف ہوتی۔ درباری طبِیبوں کے نُسخے کے مطابق نمرُود کے سَر پر اُس کا کوئی درباری جُوتِیاں مارتا تو اُسے کچھ دیر کے لئے آرام آ جاتا۔
مَیں نے اپنے پنجابی جریدہ ماہنامہ ’’چانن‘‘ لاہور کے اکتوبر 2011ء کے شمارے میں پہلی بار اپنے کالم میں ’’خادمِ اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو تجویز پیش کی تھی کہ وہ ’’ایک تحقیقاتی کمیٹی کے ذریعے پتہ چلائیں کہ نمرُودکی موت کا باعث ڈینگی تھا یا کوئی دوسری نسل کا مچھّر؟‘‘ مَیں نے یہ بھی عرض کِیا تھا کہ ’’اُس خصوصی کمیٹی کی رپورٹ کی ایک کاپی صدر زرداری کو بھجوائی جائے؟‘‘ لیکن خادمِ اعلیٰ تعمیر و ترقی کے دوسرے منصوبوں میں مصروف رہے۔کل بابائے ٹلّ چند لمحوں کے لئے میرے خواب میں آئے اور انہوں نے بڑے وثوق سے بتایا کہ ’’میری تحقیق کے مطابق نمرُود کی موت کا باعث ڈینگی ہی تھا۔‘‘ اِس کے بعد بابا ٹلّ اپنا ٹلّ بجائے بغیر صِرف اِتنا کہ کر چلے گئے کہ ’’خادمِ اعلیٰ پنجاب مردُود ڈینگی سے جو چاہیں سلُوک کریں ٗ مَیں تو پیارے پاکستان سے ڈینگی سیاستدانوں کو نکال باہر کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہُوں۔‘‘ بابا ٹلّ نے مجھے کچھ کہنے کا موقع ہی نہیں دِیا۔ ورنہ مَیں اُن سے عرض کرتا کہ ’’کئی ڈینگی سیاستدانوں کی تو بیرونی مُلکوں میں جائیدادیں اور کاروبار بھی ٗ وہ تو وہاں مستقل ’’Settle‘‘ ہو جائیں گے لیکن پاکستان میں جِینے اور مرنے کی قَسم کھائے ہُوئے غریب غُرباء کیا کریں گے؟
موذی ڈینگی کا لشکر اگست کے مہینے میں پھر پنجاب پر حملہ آور ہو گا۔ جو لوگ بیروزگاری ٗ مہنگائی ٗ قتل و غارت ٗ ٹارگٹ کِلنگ اور خُودکُش حملوں سے نہیں مرتے انہیں ڈینگی لشکر مار دیتا ہے۔ خادمِ اعلیٰ کے بس میں جو کچھ ہو گا وہ تو کر لیں گے اور وزیراعظم نواز شریف اور اُن کی حکومت بھی اُن کی مدد کرے گی لیکن میری سِندھ ٗ بلوچستان اور خیبر پی کے کے وزرائے اعلیٰ سیّد قائم علی شاہ ٗ ڈاکٹر عبدالمالک اور جناب پرویز خٹک سے دَست بَستہ دُرخواست ہے کہ ’’آپ پنجاب پر ڈینگی کے حملے کو پُورے پاکستان پر حملہ سمجھیں اور خادمِ اعلیٰ سے یک جہتی کا اِظہار کریں۔ ڈینگی لشکر کو پنجاب سے پرواز کر کے پاکستان کے باقی تین صُوبوں میں پہنچنے کے لئے وفاقی وزیرِ داخلہ چودھری نثار علی خان سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ اِس بات کو ذہن میں رکھیں کہ ’’نمرُود کی موت کا باعث مردُود ڈینگی‘‘ تھا۔