دوروزہ سےرت النبی کانفرنس .... ایک روح پرور اجتماع

کالم نگار  |  نعیم احمد
دوروزہ سےرت النبی کانفرنس .... ایک روح پرور اجتماع

نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ اس مملکت خداداد کو پےغمبر اعظم و آخر کا روحانی فےضان سمجھتا ہے کےونکہ بانی¿ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کا ےہی فرمان ہے۔ ےہ ادارہ اس مملکت کو عالم اسلام کا قلعہ‘ اس کی قوت و شوکت کا مرکز بنانا چاہتا ہے کےونکہ بابائے قوم کی ےہی آرزو تھی۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ حضور اکرم سے کس قدر والہانہ عقیدت رکھتے تھے‘ اس کا اظہار 25 جنوری 1948ءکو عید میلاد النبی کے موقع پر کراچی بار ایسوسی ایشن کی طرف سے دیے گئے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کچھ یوں کیا: ”آج ہم یہاں تھوڑی سی تعداد میں اس عظیم شخصیت کے حضور خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں جن کے لیے نہ صرف لاکھوں دل احترام سے لبریز ہیں بلکہ جو دنیا کے عظیم ترین لوگوں کی نظر میں بھی محترم ہیں۔ میں ایک حقیر آدمی اس عظیم المرتبت شخصیت کو کیا خراج عقیدت پیش کر سکتا ہوں۔ رسول اکرم ایک عظیم رہبر‘ عظیم قانون دان‘ عظیم مدبر اور ایک عظیم فرمانروا تھے۔“
نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ اپنے محدود مالی وسائل مگر لامحدود ملی و قومی جذبوں سے مالا مال ہونے کی بدولت تسلسل سے اہل وطن کو باور کرا رہا ہے کہ اس مملکت کے قےام کا مقصد محض اےک خطہ¿ زمےن کا حصول نہےں بلکہ اسے اسلام کی تجربہ گاہ بنانا مقصود تھا جہاں قرآن و سنت پر مبنی اےک اےسا سےاسی‘ معاشی اور معاشرتی نظام تشکےل دےا جاسکے جسے دےکھ کر عہد حاضر کا انسان اِس امر کا قائل ہوجائے کہ دےنِ اسلام کے زرےں اصول آج بھی اسی طرح قابل عمل ہےں جس طرح نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی کی حےاتِ طےبہ اور خلفائے راشدےنؓ کے مبارک زمانے مےں تھے۔ باالفاظ دےگر ےہ ادارہ اس مملکت کو رےاست مدےنہ کا نقش ثانی بنانے کا آرزو مند ہے۔ ارض پاک کے بطلِ جلےل‘ امام صحافت اور نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے سابق چےئرمےن محترم مجےد نظامی مرحوم نے جو بذاتِ خود بہت بڑے عاشق رسول تھے‘ اس ادارے مےں روح ہی کچھ اےسی پھونک دی ہے کہ اب اس کا شمار وطن عزےز کے چند بڑے ملی و قومی اداروں مےں ہوتا ہے۔ عوام الناس اہم ملکی معاملات کے ضمن مےں اس کی طرف سے رہنما کردار ادا کرنے کی اُمےد رکھتے ہےں۔ اپنے اسی قد کاٹھ اور مقاصدِ وحےد کے طفےل ےہ ادارہ دشمنانِ دےن و وطن کے مذموم عزائم کی راہ مےں موثر ترےن رکاوٹ بن چکا ہے۔ ےہ اس مملکت کے اسلامی نظرےاتی تشخص کے تحفظ کا فرےضہ پوری تندہی سے سرانجام دے رہا ہے۔ محترم مجےد نظامی مرحوم نے 18برس قبل اےوانِ کارکنانِ تحرےک پاکستان لاہور مےں ماہ ربےع الاوّل کے دوران سےرت کانفرنسوں اور محافل عےد مےلاد النبی کے انعقاد کا آغاز کےا تھا۔ اس ماہ مبارک مےں تو اس اےوان مےں جشن کا سا سماں ہوتا ہے۔ طلبا و طالبات کے مابےن قرآن حکےم کی قرا¿ت‘ نعت خوانی اور تقرےری مقابلے منعقد ہوتے ہےں۔ خواتےن و حضرات کے لئے الگ الگ محافل مےلاد کا اہتمام ہوتا ہے۔عشاقِ رسول ان تقرےبات مےں جوق در جوق شرےک ہوتے ہےں اور نامور مشائخ عظام‘ جےد علمائے دےن اور دانشوروں کے خےالاتِ عالےہ سے اذہان و قلوب کو منور کرتے ہےں۔ ان تقرےبات کی خاص بات ےہ ہے کہ انہےں ہر مکتبہ¿ فکر سے تعلق رکھنے والے مقررےن اور حاضرےن رونق بخشتے ہےں اور ےہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی اےک روشن مثال ثابت ہوتی ہےں۔ اےک اےسا ہی روح پرور اجتماع دوروزہ سےرت النبیﷺ کانفرنس کی صورت گزشتہ روز اختتام پذےر ہوا جس کا کلےدی موضوع ”سےرت النبی کی روشنی مےں اتحادِ امت کے تقاضے“ تھا۔ کانفرنس کے شرکاءکے نام اپنے پےغام مےں تحرےک پاکستان کے مخلص کارکن‘ سابق صدر مملکت اور نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے چےئرمےن محترم محمد رفےق تارڑ نے کہا کہ حضرت محمد مصطفیﷺ نے اپنی امت کو اتحاد و اتفاق اور باہمی احترام کی تاکےد فرمائی اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہنے کا حکم دےا۔ آپ کے ارشاداتِ پاک کے تناظر مےں ہمےںاپنے طرز عمل کا جائزہ لےنا چاہئے اور اپنی زندگی کو سےرت النبیﷺ پر استوار کرنا چاہےے۔ کانفرنس کے پہلے روز سجادہ نشےن آستانہ¿ عالےہ حضرت شےر ربانی صاحبزادہ مےاںولید احمد شرقپوری مہمان خاص تھے جبکہ نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد‘ جسٹس (ر) خلیل الرحمن خان‘ ڈاکٹر طاہر رضا بخاری‘ جسٹس (ر) میاں نذیر اختر‘ علامہ محمد منشاءتابش قصوری‘ بیرسٹر سید وسیم الحسن نقوی اور نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے سیرت طیبہ کے مختلف پہلوﺅں پر اظہار خیال کیا۔
کانفرنس کے دوسرے روز صدارت کے فرائض تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے چیئرمین چیف جسٹس (ر) میاں محبوب احمد نے انجام دیے۔ مہمان خصوصی سجادہ نشین آستانہ¿ عالیہ بھرچونڈی شریف حضرت پیر میاں عبدالخالق قادری تھے جو بطور خاص سندھ سے اس کانفرنس میں شرکت کے لیے تشریف لائے تھے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں عید میلاد النبی کی خوشیاں منانے کے ساتھ اپنی زندگیوں کو سیرت مطہرہ کے سانچے میں ڈھالنا چاہئے۔ ربیع الاول کا اصل پیغام یہ ہے کہ مسلمان تمام مسلکی‘ گروہی اور فرقہ وارانہ اختلافات بالائے طاق رکھ کر امتِ واحدہ بن جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ کندھ کوٹ میں نظریہ¿ پاکستان فورم کا قیام آئندہ کچھ دنوں میں عمل میں آجائے گا جبکہ گھوٹکی میں یہ فورم پہلے ہی پوری طرح فعال ہو چکا ہے۔ ان فورمز کے قیام کا مقصد یہ ہے کہ سندھ کے عوام کو قیام پاکستان کے لیے ان کے اسلاف کی جدوجہد کے بارے آگہی فراہم کر کے انہیں تعمیر پاکستان میں سرگرم کردار ادا کرنے پر آمادہ کیا جا سکے۔ اختتامی نشست میں ڈاکٹر فرید احمد پراچہ‘ قاری محمد زوار بہادر‘ قیوم نظامی‘ علامہ نصیر احمد قادری اور آصف تنویر اعوان نے بھی اظہار خیال کیا۔حضرت پیر
میاں عبدالخالق قادری صاحب نے ملک و قوم کے استحکام اور خوشحالی کے لیے دعا کرائی۔ کانفرنس کے دونوں روز نظامت کے فرائض نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری جناب شاہد رشید نے بڑی عمدگی سے نبھائے۔ اختتامی نشست کے دوران وطن عزیز کے ممتاز نعت خواں سرور حسین نقشبندی نے بارگاہ رسالت مآب میں عاشق رسول حضرت حفیظ تائبؒ کا نعتیہ کلام ”نبی کے حسن سے ہستی کا ہر منظر چمکتا ہے“ دل موہ لینے والے انداز میں پیش کر کے حاضرین پر رقت طاری کر دی۔کانفرنس کے اختتام پر سرور کائنات حضرت محمد کی بارگاہ میں درود و سلام کانذرانہ پیش کیا گیا۔