جامِ شہادت کے طلبگاروں کے نام!

کالم نگار  |  نعیم احمد
جامِ شہادت کے طلبگاروں کے نام!

6ستمبر ہماری قومی تاریخ کا ایک قابل صد افتخار دن ہے۔ اس دن پاکستان کی شیر دل افواج اور غیورعوام عددی اور مادی لحاظ سے کئی گنا بڑے دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئے تھے۔ یہ قول سچ ثابت کر دکھایا تھا کہ جس قوم میں اپنی آزادی کی حفاظت کا جذبہ موجود ہو‘ اسے دنیا کی کوئی طاقت غلام نہیں بنا سکتی۔ مزید برآں یہ امر بھی روز روشن کی مانند واضح ہوگیا کہ ربِّ ذوالجلال والاکرام کی نصرت‘ جذبۂ ایمانی اور پیشہ ورانہ قابلیت کے آگے دشمن کی عددی برتری کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران پاکستانی عوام اور افواجِ پاکستان کے درمیان اخوت و محبت کا ایک ایسا انمول اور انمٹ رشتہ بھی قائم ہوگیا جسے وقت کی دھول کبھی دھندلانہ سکے گی۔ 6ستمبر کی دوپہر اہل وطن سے خطاب کرتے ہوئے صدر جنرل محمد ایوب خان نے کہا تھا: ’’پاکستان کے دس کروڑ عوام جن کے دلوں میں لا الٰہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کی صدا گونج رہی ہے‘ اس وقت تک چین سے نہ بیٹھیں گے جب تک ہندوستان کی توپیں ہمیشہ کے لئے خاموش نہ کردی جائیں۔ ہندوستانی حکمرانوں کو ابھی تک احساس نہیں ہوا کہ انہوں نے کس قوم سے ٹکرلی ہے۔ اس قوم کے سینے نورِ ایمان سے فروزاں ہیں۔ انہیں اپنے مقصد کی صداقت کا پورا یقین ہے اور وہ اس خدائے واحد کے نام پر یک جان ہوکر لڑیں گے جس نے بنی نوع انسان سے وعدہ کررکھا ہے کہ فتح بالآخر حق کی ہوگی۔‘‘
اُس جنگ میں محاذ لاہور کے کمانڈر میجر جنرل ملک سرفراز خان(ہلالِ جرأت) کے مطابق ’’جنگ ستمبر 1965ء میں پاکستان کی کامیابی کی سب سے مقدم اور اہم ترین وجہ یہ تھی کہ پاکستان کے سامنے ایک نظریہ تھا جس کے تحت افواجِ پاکستان لڑ رہی تھیں۔ وہ نظریہ‘ نظریۂ اسلام تھا جس کی بناء پر برصغیر کی تقسیم معرضِ وجود میں آئی۔ مسلمانوں نے ’’پاکستان کا مطلب کیا… لاالٰہ الا اللہ‘‘ کا نعرہ لگا کر اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا تھا کہ ہمیں ایسا الگ ملک عطا ہوجائے جہاں ہم دین اسلام کی روح کے مطابق زندگی بسر کرسکیں تو ہم اپنے اداروں بلکہ اپنے جسم و جاں پر اسلام نافذ کردیں گے۔ اس نظریے نے پاکستان کے ہر سپاہی‘ ایئرمین‘ ملاح اور افسر کے دل میں قوتِ ایمان کا اسلحہ بھر دیا تھا۔ یہ جنگ پاکستانیوں نے جس بے جگری سے اس نظریے کے تحفظ میں لڑی‘ اس کا اعتراف غیر ملکی مبصرین نے بھی کیا۔ مثلاً ایک غیر ملکی مبصر لوئیس کرارنے لکھا: ’’اس قوم کو کون شکست دے سکتا ہے جو موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا جانتی ہو۔ میں نے پاکستانی افواج کے سپاہی سے لے کر جرنیل تک کو موت سے یوں کھیلتے ہوئے دیکھا جیسے بچے گلیوں میں کھیلا کرتے ہیں۔‘‘
جنگ ستمبر کو 52سال گزر چکے۔ ان دنوں جو ہتھیار جدید ترین تھے‘ آج متروک ہوچکے ہیں۔ آج جدید ٹیکنالوجی کے حامل مہلک ترین ہتھیار وجود میں آچکے جن میں ایک ذرائع ابلاغ بھی ہے۔ دشمن کی فوج اور عوام پر اپنی فوجی قوت اور برتری کی دھاک بٹھانے‘ ان کے حوصلے پست کرنے‘ انہیں میدانِ جنگ میں اترنے سے پہلے ہی نفسیاتی اور اعصابی طور پر شکست سے دوچار کرنے اور اسے اپنے اساسی نظریے کے متعلق ابہام کا شکار بنانے کے ضمن میں آج جو کردار ذرائع ابلاغ ادا کرسکتے ہیں‘ چند عشرے قبل اس کے بارے سوچنا بھی محال تھا۔ بھارت اس ہتھیار کو ہمارے خلاف پوری قوت سے استعمال کررہا ہے۔ وہ مملکت خداداد کی بنیاد نظریۂ پاکستان کی سچائی کو جھٹلانے اور ہماری نسل نو کو مادرپدرآزاد ہندووانہ ثقافت کا رسیا بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ ان کوششوں کے سد باب کے لئے ہمہ وقت سرگرم عمل ہے اور پاکستان کی نئی نسل کو قیامِ پاکستان کے حقیقی اسباب و مقاصد اور برہمن کی مسلمان دشمن ذہنیت سے آگاہ کرنے کی خاطر اپنی بساط سے بڑھ کر جدوجہد کررہا ہے۔ یہ ادارہ عوام الناس میں جذبۂ حب الوطنی اجاگر کرنے کے لئے تمام اہم قومی ایام کو بڑے تزک و احتشام سے مناتا ہے۔ یومِ دفاع پاکستان بھی ایک ایسا ہی دن ہے جب ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان لاہور میں ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں دشمن کے دانت کھٹے کرنے والے سابق فوجی افسران جنگ کے واقعات و مشاہدات بیان کرتے ہیں۔ گزشتہ روز منعقدہ تقریب میں بھی وہی جوش و ولولہ دیکھنے کو ملا جو ایسی تقریبات کا طرۂ امتیاز ہوتا ہے۔
تحریک پاکستان کے مخلص کارکن‘ سابق صدر مملکت اور نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین محترم محمد رفیق تارڑ نے علالت کے باوجود اس تقریب کو رونق بخشی اور جنگ ستمبر کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستانی قوم اور افواجِ پاکستان کے درمیان یکجہتی اور ہم آہنگی کا جو جذبہ دیکھنے کو ملا‘ وہ ہماری قومی تاریخ کا ایک تابناک باب ہے۔ آزمائش کی اس گھڑی میں ہر پاکستانی پر یہی جذبہ غالب تھا
کہ اپنی آزادی کا دفاع کرنا اور دشمن کو شکست فاش دینی ہے۔ تقریب سے نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد‘ سابق وفاقی وزیر ایس ایم ظفر‘ تحریک پاکستان کے کارکن کرنل(ر)سلیم ملک‘ معروف دانشور پروفیسر ڈاکٹر محمد اجمل خان نیازی‘ مشیر وزیراعلیٰ پنجاب رانا محمد ارشد‘ میجر(ر)محمد صدیق ریحان اور ممتاز کالم نگار محمد اکرم چوہدری نے بھی اظہارِ خیال کیا اور اس امر کی ضرورت پر زور دیا کہ دشمن کے مقابلے میںہمارا سب سے موثر ہتھیار باہمی اتحاد ہے جس کے ذریعے ہم اس کی ریشہ دوانیوں کو ناکام بناسکتے ہیں۔ پاکستان کے قیام میں تائید ایزدی شامل تھی اور اس کی بقاء بھی سایۂ خدائے ذوالجلال کی مرہون منت ہے۔ ہم دفاع وطن کے لیے جان قربان کرنے والے اپنے بہادر فوجیوں کو سلامِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری جناب شاہد رشید نے کہا کہ تقریب کے شرکاء بالخصوص نوجوانوں کا جوش و ولولہ دیکھتے ہوئے انہیں یقینِ کامل ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت ہمارے ملک کی طرف میلی نگاہ سے دیکھنے کی جرأت نہیں کرسکتی۔ آج ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں اور ہمارا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے۔ تقریب کے ابتدائی لمحات میں عالمی شہرت یافتہ نعت خواں حافظ مرغوب احمد ہمدانی نے ساغر صدیقی کا نعتیہ کلام ’’اے شاہِ زمن‘ اے ختم الرسلؐ‘‘ انتہائی پرسوز لہجے میں پیش کرکے حاضرین کے دل موہ لئے جبکہ اختتام پر پاک بھارت جنگوں‘ تحریک پاکستان‘ آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد کے شہدائے کرام کے بلندیٔ درجات کے لئے دعا کرائی گئی۔ جناب شاہد رشید نے اعلان کیا کہ کل جمعرات 7ستمبر کو یومِ ختم نبوت کے موقع پر اسی ایوان میں ایک خصوصی نشست منعقد ہوگی جس کے بعد میانمار کی حکومت‘ فوج اور بدھ دہشت گردوں کی طرف سے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔