ہمارا ہر دن یوم دفاع ہے

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

چھ ستمبر اب ہزار دنوں کا دن ہے۔ یہ 23 مارچ اور 14 اگست سے کم اہم نہیں ہے۔ اسے قومی سطح پر سرکاری طور پر منانا چاہئے۔ لاہور میں صرف دو قابل ذکر اجلاس ہوئے۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے زیر اہتمام ہر ایسے قومی موقعے پر شاندار تقریب ہوتی ہے۔ شاہد رشید اور ان کے ساتھی خاص طور پر اہتمام کرتے ہیں۔ صدارت ہمیشہ مجید نظامی کرتے ہیں۔ انہی کی قیادت میں قائداعظم کے پاکستان کے لئے جدوجہد ہو رہی ہے۔ دوسری شاندار تقریب محسنان پاکستان کے تحت عبداللہ گل نے کرائی۔ صدارت جنرل حمید گل نے کی۔
مجاہد صحافت مجید نظامی نے نظریہ پاکستان ٹرسٹ میں ایک شاندار اجتماع سے صدارتی خطاب میں کہا کہ ہمارا ہر دن یوم دفاع ہے۔ ہمیں ہر دن پاکستانی ہونے کے اعزاز کے ساتھ منانا چاہئے۔ شاہد رشید نے کمپیئرنگ کے دوران کہا کہ ہم اپنے شہیدوں اور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے اکٹھے ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر رفیق احمد کے علاوہ کموڈور نوید احمد نے کلیدی خطاب کیا۔
جنرل حمید گل نے بتایا کہ انہوں نے جنرل کیانی سے پوچھا تھا کہ تم نے دہشت گردی کی جنگ کو اپنی جنگ کہا ہے تو یہ بھی بتاﺅ کہ ہمارا دشمن کون ہے۔ ہمارا دشمن تو بھارت ہے۔ ہم نے اب تک ساری جنگیں بھارت کے خلاف لڑی ہیں۔ یہ جنرل حمید گل بھی جانتے ہیں کہ جنرل کیانی نے پاک فوج کی محبت پھر سے پاکستانی عوام کے دلوں میں زندہ کی ہے۔ یہ ایک معرکہ آرائی ہے مگر اسے امریکی محاذ آرائی میں ضائع نہیں ہونے دینا چاہئے۔ جنرل کیانی جانتے ہیں کہ آج بھی کہیں سے کسی شہید کا جسد خاکی گھر پہنچتا ہے تو وہاں اس کی مائیں بہنیں اور لوگ اس کا استقبال کرتے ہیں جیسے چھ ستمبر 65 کے شہیدوں کا کرتے تھے۔ اور وہی ترانے گونجتے ہیں جو چھ ستمبر سے 23 ستمبر تک پاکستان کی فضاﺅں میں بلند ہوتے تھے۔ آج تک انہی ترانوں نے ہمیں سربلند رکھا ہوا ہے۔ سیاچن گلیشیر تلے دب جانے والے شہیدوں کے لئے بھی یہی درد محسوس کیا گیا ہے جنرل کیانی کئی دفعہ گیاری گئے ہیں۔ آج خاص طور پر سپہ سالار اعلیٰ کا پیغام سامنے آنا چاہئے تھا۔ آج انہیں پی ٹی وی پر نمودار ہو کر لوگوں کے دل جیت لینا چاہئیں تھے۔ ہم صدر جنرل ایوب کے لئے دل میں نفرت رکھتے ہیں کہ اس نے مادر ملت کو دھاندلی سے ہرایا۔ مجھے سرگودھا کے مایہ ناز بزرگ وکیل میاں نصیر احمد نے بتایا تھا کہ سرگودھا میں ایک ملاقات کے دوران مادر ملت نے فرمایا کہ میں ہار گئی تو پاکستان ٹوٹ جائے گا اور پاکستان ٹوٹ گیا۔ مادر ملت صدر پاکستان ہوتیں تو کبھی ایسا نہ ہوتا اور یہ بھی نہ ہوتا جو ہو رہا ہے۔ ملک میں صدارتی نظام مضبوط ہوتا اور جمہوریت پروان چڑھتی۔ محترم مجید نظامی نے محترمہ فاطمہ جناح کو مادر ملت کہا تھا اور پھر قوم نے اس لقب کو امر کر دیا۔ جنرل ایوب تاریخ میں ہمیشہ کے لئے زندہ ہو جاتا۔ مگر ہمارے حکمران بڑے بدقسمت ہیں۔
اس کے باوجود چھ ستمبر 65ءکو لوگوں نے جنرل ایوب سے بھارتی جارحیت کے خلاف یہ الفاظ سُنے کہ ہمارا دشمن نہیں جانتا کہ اس نے کس قوم کو للکارا ہے۔ اب دشمن کی للکار کے جواب میں ہمارے جرنیل کیوں خاموش ہیں۔ وزیر داخلہ رحمن ملک مزاحیہ انداز میں کہتے ہیں کہ بلوچستان میں بھارت مداخلت کر رہا ہے تو اس کے جواب میں جنرل کیانی نے کیا کیا ہے۔ انہوں نے ایک بار بھارتی لیڈروں کو للکارا تھا تو پامال ہوتی ہوئی پاکستانی قوم جی اٹھی تھی۔ حکمرانو جرنیلو سیاستدانو یہ جان رکھو کہ پاکستان کا سب سے بڑا دشمن بھارت ہے۔ امریکہ اسرائیل اور یورپ اس کے مددگار ہیں۔
حکمران اور سیاستدان کس منہ سے بھارت دوستی کی بات کرتے ہیں۔ خدا کی قسم مشرقی پاکستان الگ نہ ہوتا اگر بھارت فوجی مداخلت نہ کرتا۔ مشرقی پاکستان تو غیر متنازعہ علاقہ تھا۔ اور کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ کشمیر میں مداخلت کے الزام میں بھارت پاکستان پر چڑھائی کر رہا ہے۔ بمبئی کی دہشت گردی کے لئے پاکستان کے خلاف چیخ رہا ہے۔ مگر ہم اپنے ملک میں اس کی دہشت گردی کے خلاف بات نہیں کرتے۔ جبکہ سب کچھ امریکہ کی مدد سے بھارت کر رہا ہے۔ اب کہا جا رہا ہے کہ بلوچستان میں بھی مشرقی پاکستان جیسے حالات بنائے جا رہے ہیں۔ تو یہ بھی بتاﺅ کہ یہ حالات کون بنا رہا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو پتہ ہے کہ بھارت یہ کھیل امریکہ کے ساتھ مل کر کھیل رہا ہے۔ مگر بھارت اور بھارت کے ایجنٹوں کو مایوسی ہو گی۔ مشرقی پاکستان اور بلوچستان میں بڑا فرق ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارے جرنیل فوجی افسران اور جوان دشمن کے دانت کھٹے کر دیں گے۔ پاکستان کے اندر پاکستان کے دشمن ہیں۔ انہیں بھی مزا چکھانا ضروری ہے۔ پاکستان کے حکمرانوں کا کردار بہت مشکوک ہے۔ یہ کتنی دردناک حقیقت ہے کہ غداروں کی فہرست میں سب سے زیادہ نام مسلمانوں کے ہیں۔
محسنان پاکستان فاﺅنڈیشن کے اجلاس میں ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ پاکستان ہمارا گھر ہے ہمارا ٹھکانہ ہے اس کی حفاظت کریں اور اللہ کے شکر گزار بندے بنیں۔ کبھی پاکستانی اور مسلمان ہونے پر دفاعی انداز اختیار نہ کریں بروقت پاکستان کے دفاع کے لئے سوچیں۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کی یہ بات جنرل حمید گل نے پسند کی کہ ہمارے ساتھ تاریخی فراڈ کیا جا رہا ہے۔ محسنان پاکستان کے لئے عبداللہ گل کی جواں مردانہ دردمندی بہت قابل تعریف ہے۔ اصل میں شہیدوں سے زیادہ محسن قوم کون ہوتا ہے؟ اجلاس کے لئے مبین، غزنوی، حافظ محمد عثمان، علی عمران اور تسنیم نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
آج وقت نیوز کے صبح کے پروگرام نیوز لاﺅنج میں اینکر پرسن امیر عباس اور مدیحہ الماس نے پروڈیوسر عمران عباس کے ساتھ مل کر بہت اچھا پروگرام چھ ستمبر کے حوالے سے پیش کیا۔ انہوں نے ناصر شیرازی کو خاص طور پر بلایا جس نے میجر شہید عزیز بھٹی کا رول ایک بہت مقبول ڈرامے میں پیش کیا تھا۔ یہ بات دل کو لگی کہ ایک پامسٹ کو ہاتھ دکھاتے ہوئے عزیز بھٹی کہتا ہے کہ تم دوسری باتوں کو چھوڑو۔ یہ بتاﺅ کہ میری قسمت میں شہادت ہے کہ نہیں ہے۔
شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے
آج قوم کو اس حیات کی بہت ضرورت ہے۔ قوم جنرل کیانی کی طرف دیکھ رہی ہے۔ دفاع پاکستان کے حوالے سے انہیں اپنا کردار یاد رکھنا چاہئے۔ ان لوگوں سے بھی ہشیار رہنے کی ضرورت ہے جو 1965ءکی جنگ میں روزانہ ریڈیو پاکستان لاہور آتے تھے اور بھارت کو بُرا بھلا کہتے تھے۔ اب وہی لوگ بھارت دوستی کے دائرے میں جکڑے گئے ہیں انہوں نے دولت کے لئے اپنے ضمیر کو قربان کر دیا ہے۔ اب وہ پاکستان کے اندر پاکستان کے خلاف باتیں کرتے ہیں۔ آئی ایس آئی اور دوسری ایجنسیاں کہاں ہیں؟ کیا پاکستان کے اندر پاکستان دشمن نظر نہیں آتے۔ ہم دشمن بھارت کی طرف دیکھنے کے لئے تیار نہیں تو بھارت کے ایجنٹوں پر تو نظر رکھیں۔