میڈیا کی گاڑی بھی پانی سے چلنے لگی۔۔۔!

عمران خان نے وزیر اعظم بننے کی صورت میں نوے دن کے اندر ملک کی تقدیر بدلنے کا ایجنڈا پیش کیا تو ناقدین نے اعتراض کیا کہ عمران خان پانی سے گاڑی چلانے کا منصوبہ پیش کر رہے ہیںیعنی ناممکن کو ممکن کر دکھانا چاہتے ہیں۔عمران خان نے عوام کے جذبات کی عکاسی کی ہے۔ ان کا ہاتھ عوام کی نبض پر ہے۔کرکٹ کے میدان کا منجھا ہوا کھلاڑی ،عوام کے جذبات جیتنا جانتا ہے اور جیت کر دکھا سکتا ہے۔ گا البتہ اس کی پانی والی گاڑی کا انجام کیاہوتا ہے یہ آنے والا وقت ہی بتاسکے گا۔ ایک”پٹھان“ پانی والی گاڑی چلا سکتا ہے تو عمران خان پوراپاکستان چلاسکتا ہے۔عمران کے وعدوں پر بھی شبہ اور آغا کادعویٰ بھی پٹرول۔۔۔؟ میڈیا کرشمہ ساز ہے،جو چاہے دکھا سکتا ہے۔پانی سے گاڑی چلانے کا تجربہ پیش کرنے والا جب تک ہیرو تھا”انجینئر آغا وقار“کہلاتا تھا لیکن جب ڈاکو ثابت ہو ا”آغا وقار پٹھان“ کہلانے لگا۔ میڈیا کی تازہ رپورٹ کے مطابق پانی سے گاڑی چلانے کا موجد انجینئر آغا وقار احمد پٹھان کراچی میں ڈکیتی اور اسلحہ کے مقدمہ میں گرفتار رہ چکا ہے۔ ”ایک ڈاکو نے حکومت کو بھی لُوٹ لیا“۔ حکومت کو بے وقوف بنانا آسان نہیں بلکہ حکومت نے میڈیا کو بے وقوف بنایا ہے۔نام نہاد ذہین اینکروںکی ذہانت کو آزمایا ہے۔ آغا وقار ڈکیتی کے علاوہ سندھ پولیس میں اپنی ملازمت بھی پانی سے چلاتا رہا اور ڈیوٹی کئے بغیر سالوں سے تنخواہ لے رہاہے۔ دلچسپ امر یہ کہ اس کے محکمہ پولیس میں موجودگی اور ڈیوٹی پرہونے نہ ہونے کے بارے پولیس کے کسی افسر کو خبر نہیں۔اے آئی جی بھی لا علم ہیں کہ آغا وقار ان کا پی اے ہے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔پورے ملک کا نظام پانی پر چل رہاہے اور عوام ہوا پر معلق ہیں۔ پاکستانی ایک جذباتی قوم ہیں۔ شارٹ کٹ،خیالی پلاﺅ،ہوائی فائر اور ہتھیلی پرسرسوں اُگانے جیسے شوق پال رکھے ہیں۔ اقبال ؒ کے خواب کی یہ بھیانک تعبیر خوابوں کی دنیا میں خوش رہتی ہے۔ایک ڈاکٹر مریض سے ’آپ کے تین دانت کیسے ٹوٹ گئے؟ مریض’ جی وہ بیوی نے کڑک روٹی بنائی تھی‘۔ڈاکٹر’تو کھانے سے انکار کر دیتے‘۔مریض ’ جی ! وہی تو کیا تھا‘۔۔۔! اور بھولے بھالے پاکستانیوں نے بھی یہی کیا۔ان کے بھی جب تک دانت نہ توڑ دئے جائیں انہیں ہوش نہیں آتا۔دنیا بھر کے عقلمند انہیں سمجھاتے رہے کہ پانی کے ساتھ گاڑی چلانے کے تجربات کبھی حقیقت نہیں بن سکتے اور نہ ہی پاکستان کے پاس ایسی کوئی جادو گری یا کرشمہ سازی ہے کہ پاکستان دنیا میں منفردایجاد کا سہرہ اپنے سر لینے کا اعزاز حاصل کر سکے۔پاکستان کے معروف ٹی وی چینلز جو دکھاتے ہیں ،عوام انہیں حرف آخر سمجھنے لگتے ہیں حالانکہ میڈیا اکثر وہ چیزیں پیش کرتا ہے جن کا تعلق ملک و قوم کی بھلائی یا ترقی سے نہیں بلکہ ان کے بزنس سے ہے۔ مارکیٹ میںانہونی اور سنسنی خیز مواد کی مانگ ہے۔ پانی سے گاڑی چلانے کا تجربہ پیش کرنے والے ٹی وی چینلزنے اپنی حماقت کا سارا الزام وفاقی حکومت کے سر ڈال دیا جبکہ معاشرے میںسنسنی پھیلانے اور عوام کے جذبات سے کھیلنے سے پہلے خبر کی تصدیق کرنا میڈیا کی ذمہ داری ہے۔ عوام اس وقت تک بے خبر ہیں جب تک انہیں با خبر نہ کیا جائے۔ آغا وقار کو میڈیا نے ہیرو بنایا اور خود ہی زیرو بنا دیا ۔ریٹنگ سے مال بنا یا اور عوام کو بے وقوف بنادیا ہے۔عوام تو بے وقوف بننے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں مگر میڈیا اینکرز کو چاہیے کہ وہ اپنی شخصیت کو داغدار ہونے سے بچائیں۔ عوام پر میڈیاکی قلعی دھیرے دھیرے کھلتی جا رہی ہے اور ایک عام دیہاتی کو بھی ”میڈیا ریٹنگ“ کا مفہوم سمجھ آنے لگا ہے۔ پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا میں بعض چینلز کی اپنی گاڑی پانی سے چل رہی ہے ۔ریٹنگ کی خاطر عوام کا بلڈ پریشر ہائی کردیا جاتا ہے اور پھر ”کھودا پہاڑ نکلا چوہا “کی صورتحال میں معصوم بن جاتے ہیں کہ انہیں وفاقی حکومت نے ورغلایا تھا۔ بے بنیاد رپورٹس،خواہشات پر مبنی خبریں،مخصوص ایجنڈے اور سازشی عناصر کی پشت پناہی کرنے والے میڈیا چینلز کا اصل مقصد ”مال اور مفاد“ ہے۔میڈیا اینکرز اور صحافی حضرات سیاستدانوں کو عوام سے معافی مانگنے کی تلقین کرتے ہیں مگر خود اپنی نااہلی اور حماقتوں پر قوم سے معافی مانگنے کی جرات نہیں رکھتے۔ پاکستان کے ٹی وی چینلز پر پانی سے گاڑی چلتے دیکھ کر امریکہ کے ٹی وی چینلز پر براہ راست دکھائی جانے والی رپورٹ یاد آ گئی۔تین سال پہلے ایک امریکی شہری نے پوری قوم کے ساتھ وہ مضحکہ خیز کھیل کھیلا کہ ملک بھر کے ادارے حرکت میں آگئے۔پوری قوم کے اعصاب شل ہو گئے۔ایک عام شہری نے ایک غبارہ بنایا اور پولیس کو کال کرکے کہہ دیا کہ اس کا چھ سالہ لڑکا اس غبارے میں بیٹھ کر فضا میں اڑ گیاہے۔سی این این ٹی وی چینل میں تھرتھلی مچ گئی ۔ دنیا بھر کا میڈیا” غبارے میں لڑکا“ کی سٹوری کی گھنٹوں لائیو کوریج پیش کرتا رہا ۔اربوں ڈالروں کی اس میڈیاکوریج اور عوام کے اعصابی تناﺅ کی اذیت ناک کہانی کا اختتام بالآخر ایک بہت بڑے فراڈ پر ہوا۔ غبارہ زمین پر اتارا گیا جبکہ بچہ اپنے گھر کے گیراج میں چھپا بیٹھا تھا ۔بچے چونکہ غیر سیاسی ہوتے ہیں لہذا اس بچے نے بھی میڈیا اور پولیس کے سامنے اپنے والدین کا پول کھول دیا۔ والدین نے تمام ڈرامہ میڈیا کے ذریعہ سستی اور آسان شہرت حاصل کے لئے رچایا تھا۔اس فراڈ جوڑے کو سزا ہو گئی مگرامریکی میڈیا کی یہ سٹوری والدین کی سزا کے ساتھ ختم نہیں ہوئی ، عوام نے میڈیا کے خلاف مقدمہ دائر کرا دیا کہ بنا تحقیق رپورٹنگ سے نہ صرف عوام کا قیمتی وقت ضائع کیا گیا بلکہ ذہنی اذیت بھی پہنچائی گئی ۔ عوام کے شدید ردعمل کی صورت میں امریکہ کے پھنے باز ٹی وی چینلز کو بھی عوام سے معافی مانگنا پڑی۔پاکستان میں آزاد میڈیا تو آگیا ہے مگر آزادی کا جائز استعمال نہیں آیا۔بے بنیاد اور بلا تحقیق خبروں کی نشریات سے کالم نگاروں کی ریپوٹیشن خراب ہوتی ہے۔کالم نگار خبر وں کا محتاج ہوتاہے، ویسے ہی جیسے ڈاکٹر پتھالوجسٹ کی میڈیکل رپورٹ کا محتاج ہوتاہے۔ اگر لیبارٹری کی رپورٹ غلط ہو گی تو ڈاکٹرصحیح علاج تجویز نہیں کر سکے گا۔ بد نصیبی سے پاکستان میں میڈیکل اورمیڈیا رپورٹس میں شبہ پایا جاتا ہے۔ میڈیا کی ریٹنگ دوڑ میں صحافت کا شعبہ داغدار ہورہاہے۔ آغا وقار کا ماضی مجرمانہ ہے مگر کچھ مہربانوں کی وجہ سے اس کا مستقبل روشن ہونے جارہاتھا۔میڈیا کی اس کہانی کے غبارہ سے بھی ہوا نکل چکی ہے ۔ تمام ملبہ آغا وقاراوروفاقی وزیر خورشید شاہ کے سر ڈال دینے سے معاملہ ختم نہیں ہو گا،میڈیا اینکرز اور مالکان کو قوم سے معافی مانگنا ہو گی۔ٹی وی اینکر خدا کی خاص مخلوق نہیں ،وہ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں جہاں جھوٹ،فراڈ،سستی شہرت اور پیسہ کی ہوس جائز تصور کی جانے لگی ہے ۔