آج کچھ درد مرے دل میں سِوا ہوتا ہے

کالم نگار  |  خالد احمد

 جوہری دھماکوں کے بعد اقتصادی پابندیوں کے خلاف ’قومی وسائل پر انحطاط‘کی پالیسی روبکار آئی،تو، بجلی چوروں کے ہاتھوں واپڈا کا ڈوبتا جہاز بچانے کے لیے لیفٹیننٹ جنرل ذوالفقار علی خان کی سرگردگی میں پاک فوج کی ایک ٹیم تشکیل دے دی گئی اور لیفٹیننٹ جنرل ذوالفقار علی خان ایک ’ہارڈ ٹاسک ماسٹر‘ Hard Task Master کی حیثیت سے یہ ذمہ داری کاندھوں پر اٹھائے واپڈا کی ساتویں منزل پر جا گزیں ہوگئے۔انہوں نے پورے صدق ِ دل کے ساتھ بجلی چوری کے معاملات دیکھے اور صارفین کے نام ’درست میٹر ریڈنگ‘ پر مبنی ’درست برقی بلوں‘کا اجرا یقینی بنا دکھایا۔ برقی بل صارفین تک خوشخبری بن کے پہنچنے لگے۔ بجلی چورمنہ چھپائے سر چھپانے کے لیے کسی ٹھکانے کی تلاش میں تھے کہ ’جوہری جمہوری پاکستان‘کے منتخب وزیرِ اعظم کا تختہ الٹ دیا گیا اور تمام ’بجلی چور‘ اسلام آباد طلب کر کے انہیں ایک پارٹی میں ڈھل جانے اور ملک کی برطرف شدہ منتخب حکومت کے خلاف صف آرا ہو جانے کا ٹاسک دے دیا گیااور اس کے عوض انہیں ہر الزام سے ’بریت‘ کی نوید بھی سنا دی گئی۔سر چھپانے کا ٹھکانہ میسر آتے ہی یہ تمام حضرات ہاتھ منہ دھو کر نئے سیاسی افق پر چمکیلے تارے بن کر طلوع ہو گئے اور ’اصولی سیاست‘ غروب ہوگئی۔
آج کے اخبارات کے مطابق کل وفاقی کابینہ نے بجلی چوری ناقابلِ ضمانت جرم قرار دے دیا ہے اور اس جرم پر تین سال قید کے ساتھ ساتھ ایک کروڑ روپے تک جرمانہ کئے جانے کی منظوری بھی دے دی ہے۔یہ خبر پڑھتے ہی ہمیں احساس ہوا کہ جنابِ آصف علی زرداری اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر چالیس سال تک حکومت کرنے کا منصوبہ کس طریقِ کار کے ذریعے پورا کرنے کا ارادہ کر چکے تھے۔ اب جب کہ بلی تھیلے سے باہر آ گئی ہے تو ہمیں یاد آرہا ہے کہ گزشتہ ساڑھے چار برس سے کراچی میں بجلی چوری کی حمایت میں کون کون سے عناصر سینہ سپر رہے اوراہلِ کراچی کے لیے بجلی کے نرخوں میں بھی اضافہ نہیں ہونے دیا۔اندرونِ سندھ کارفرما صنعتی یونٹ تو بجلی کا بل ادا کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں کیونکہ وہ اپنے علاقے کے کسی جاگیر دار کو بھی اس تکلف میں پڑتے دیکھنے کے عادی نہیں ہیں۔رہ گیا اے این پی کا معاملہ تو وہ بیچارے تو فاٹا کے ہاتھ گروی پڑے ہیںاور بجلی چوری پر مکمل خاموشی اختیار کر لینے کے سوا ان کے پاس کوئی اور چارہ ہے ہی نہیں۔
بجلی چوری کسی صورت میںبھی ناقابلِ ضمانت جرم قرار دیا جاناکوئی درست قدم نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ’غلط میٹر ریڈنگ‘ پر مبنی زیادہ بڑے ’برقی بل‘ جاری کرنا اور انہیں وصول کرنا’ڈسکوز‘ کا وتیرہ بن چکا ہے اور اس طریقِ کار کے پیچھے جناب ِ وزیرِ اعظم سے لے کر پانی اور بجلی کے وزراءعظام اور پیپکو میں موجود کرپشن کے میناروں کا بہت بڑا کردار ہے لہذا یہ خوف بہر طور لاحق رہے گا کہ ’ڈسکوز‘ کے اندر موجود کرپٹ عناصر اس قانون کا بے جا ستعمال کی دھمکیاں دے دے کر ’برقی صارفین‘ کی جان عذاب میں ڈالے رکھیں گے حالانکہ بجلی چوری ’ڈسکوز‘ کے اہل کاروں کی معاونت کے بغیر ممکن ہی نہیں کیونکہ وہ چوری شدہ یونٹ گھریلو صارفین میں تقسیم کر کے انہیں ریونیو کا گراف درست رکھنے پر مجبور رہیں گے لہذا توقع کی جاسکتی ہے کہ آئندہ چالیس سال تک حکومت کرنے کا زرداری منصوبہ جنابِ پرویز مشرف کے آٹھ سالہ منصوبے کی بنیادوں پر چلتا رہے گا اور لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کےا لیے مقامی ذرائع سے برقی پیداوار کے منصوبے یونہی زیرِ التوا پڑے رہیں گے تاکہ نا تو برقی صارفین سکھ کا سانس لے سکیں اور بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخ بڑے بڑے برقی صارفین کے پاس وفاقی حکومت کی گود میں بیٹھے رہنے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہ پائے گا۔ہم پوری دیانت داری سے یہ سمجھتے ہیں کہ یہ قانون وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد بھی پارلیمان کی منظوری کسی صورت حاصل نہیں کر سکے گا بشرطِ کہ اتحادی جماعتیںقومی نکتہ نظر اپنا کر اس قانون پر ایک سرسری سی نظر ڈالنے کے لیے بھی تیار ہو سکیں۔
مرض پر یک دم زور دار حملہ کرنے سے پہلے ڈاکٹر ’مریض‘کی جسمانی برداشت پر سب سے غور کرتا ہے اور دوا کی ’گرامیج‘ اور ’خوراک‘ دوہرانے کا وقفہ اس کے بعد طے کرتا ہے۔ معاشرے میں اچھائی کے لیے جائے پناہ باقی نہ ہو اور برائی کو کھل کھیلنے کے لیے ’بلوں‘ سے باہز کھینچ لایا جائے ،تو یہ کوئی اچھی ’تزویراتی حکمتِ عملی‘ نہیں ہو گی۔
ہمارے معاشرے کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے اہل کارندے بددیانت ہیں اور ہمارے دیانت داراہل کار ’نااہل‘ ہیں۔ایک اہل اور دیانت دار افسر اب ایک نا پید ہوتی ہوئی ’نوع‘ کا درجہ اختیار کرتی جا رہی ہے۔اس ناپید ہوتی ہوئی ’حیات‘ کے تحفظ کے لیے اب جنگلی حیات کے تحفظ کے محکمے کو میدانِ عمل میں اتر ہی آنا چاہیے تاکہ اہل اور دیانت دار افسروں اور اہل کاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے بھی کوئی پروگرام وضع کیا جا سکے توشاید ہم لوگ کسی لمبی خرابی میں الجھے بغیرکامیاب و کامران قوم کے طور پر ابھر سکتے ہیں ،ورنہ ماضی کی غلطیاں دوہراے چلے جانا تو ہمارا ’قومی وتیرہ‘ بن ہی چکا ہے۔
رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی سے معاف
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے