نیب کا نیا سربراہ

کالم نگار  |  جاوید صدیق
نیب کا نیا سربراہ

نئے چیئرمین نیب کی تقرری کیلئے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے درمیان ملاقاتوں پہ ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔ نیب کے موجودہ چیئرمین چودھری قمر زمان 10اکتوبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ چودھری قمر زمان کی تقرری سابق وزیراعظم نواز شریف اور موجودہ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کے مشورے سے ہوئی تھی۔ چودھری قمر زمان کے بارے میں یہ تاثر عام تھا کہ وہ پیپلز پارٹی کے کرتا دھرتا سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی چوائس تھے۔ چودھری قمر زمان جنرل ضیاءالحق کے اے ڈی سی رہے تھے۔ انہیں بوجوہ فوج سے فارغ کر کے فوج کے کوٹہ سے سول سروس میں بھیج دیا گیا تھا۔ وہ نواز شریف کی حکومتوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ وہ سی ڈی اے کے سربراہ رہے اور راولپنڈی کے کمشنر رہے۔ نیب کا سربراہ بننے سے قبل وہ سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری تعلیم تھے۔ ان کے دور میں بدعنوانی کے بڑے سکینڈل سامنے آئے۔ ان کیسوں میں نیب کے سربراہ پر بڑا دبا¶ رہا۔ قمر زمان چودھری نیب کے سربراہ کی حیثیت سے آزمائشوں سے دوچار رہے۔ ان کے دور میں ہی پانامہ کیس سامنے آیا۔ جس میں ان کے ایک طرح کے مربی سابق وزیراعظم نواز شریف پھنس گئے۔ جب پانامہ کیس سپریم کورٹ میں چلا تو اس دوران وکلاءنے یہ دلیل بھی دی کہ اگر نیب اس کیس کے سامنے آنے کے بعد تحقیقات کرتا تو یہ معاملہ سپریم کورٹ میں نہ آتا‘ لیکن نیب نے اس کیس پر کوئی دھیان نہ دیا۔ سپریم کورٹ کا جو بنچ پانامہ کیس کی سماعت کر رہا تھا اس نے سماعت کے دوران یہ عندیہ دیا تھا کہ پانامہ کیس کا ریفرنس نیب کو بھیجا جا سکتا ہے۔ حتمی فیصلہ میں سپریم کورٹ کے فاضل ججوں نے نیب کو ہدایت کی کہ وہ سابق وزیراعظم اور ان کے بچوں ‘ ان کے داماد اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کیخلاف نیب عدالتوں میں ریفرنس دائر کرے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر ہی سابق وزیراعظم ان کے بچوں اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کیخلاف نیب نے ریفرنس عدالتوں میں دائر کئے ہیں۔ ان اہم ریفرنسوں کی سماعت جاری ہے اور فیصلوں سے قبل نیب کے موجودہ سربراہ ریٹائر ہو رہے ہیں۔ ان کے لئے یہ اطمینان کی بات ہے کہ سابق وزیراعظم اور ان کے خاندان کے خلاف ریفرنسوں میں انہیں مزید آزمائش سے نہیں گزرنا پڑے گا۔ موجودہ چیئرمین کو سپریم کورٹ نے جب ایک مرتبہ کیس کی سماعت کے دوران پوچھا کہ کیا وہ حدیبیہ کیس میں ہائیکورٹ کے جج کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل کریں گے تو انہوں نے یہ اپیل کرنے سے معذرت کر لی تھی۔ نیب میں تقرریوں کے معاملے پر بھی سپریم کورٹ نے چودھری قمر زمان اور نیب کی قیادت کی سخت سرزنش کی تھی اور ان تقرریوں کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔
قومی سطح پر احتساب کے نظام کو زیادہ موثر بنانے کے لئے پارلیمنٹ میں ایک قانون گزشتہ کئی برسوں سے زیر غور ہے ‘ لیکن احتساب کے لئے نیا قانون اور نیا ادارہ بنانے کی کوئی ٹھوس کوشش نہیں کی گئی۔ دنیا بھر کی جمہوری حکومتوں میں منتخب نمائندوں کے احتساب کے لئے ادارے اور قوانین موجودہ ہیں۔ لیکن ہماری
بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے لیڈر احتساب کے نام سے گھبراتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ احتساب کا ایسا سخت نظام وجود میں آئے جس کے شکنجے میں وہ کسے جائیں‘ اسی لئے احتساب کا نیا ادارہ یا قانون بنانے میں لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے۔ قومی اسمبلی کی پبلک اکا¶نٹس کمیٹی بھی ایک احتسابی ادارہ ہے۔ اس ادارے نے گزشتہ کم سے کم پچیس برس کے دوران اربوں روپے کے گھپلے اور خوردوبرد کے کیسز پکڑے ہیں لیکن قومی خزانے پر ہاتھ صاف کرنے والے بہت کم لوگ گرفت میں آئے ہیں یا ان سے رقوم ریکور کی گئی ہیں۔ اس غریب اور مقروض قوم کے اربوں روپے ہڑپ کرنے والے سرکاری افسروں میں سے اکثر یا تو اس دنیا سے کوچ کر چکے ہیں یا بیرون ملک آباد ہو چکے ہیں اور اپنی ”نیک کمائیوں“ کو انجوائے کر رہے ہیں۔
چونکہ حکومت اور اپوزیشن احتساب کا نیا نظام یا ادارہ قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں‘ اس لئے اب ہمیں نیب کے موجودہ ادارہ پر ہی انحصار کرنا پڑے گا۔ نیب کے نئے سربراہ کی تقرری کے لئے صلاح مشورے جاری ہیں۔ حکمران جماعت مسلم لیگ ن ‘ پیپلز پارٹی ‘ جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی نے اپنے اپنے امیدواروں کے نام تجویزکئے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک نام پر اتفاق رائے خاصا مشکل کام ہے۔ تاہم پانامہ کیس کے سامنے آنے اور کھربوں روپے کی بدعنوانی کے روز سامنے آنے والے کیسز سے نمٹنے اور ”کرپشن فری“ سوسائٹی کی تشکیل کے لئے نیب کے نئے سربراہ کا نڈر ‘ دیانتدار ہونا ضروری ہے‘ نیب کے نئے سربراہ کی ذمہ داری ہو گی کہ قوم کی لوٹی ہوئی دولت کو ریکور اور کرے۔ قومی خزانہ سے کھلواڑ کرنے والوں کو عبرت ناک سزا دلوائے۔ ایسا شخص تلاش کرنا بڑا مشکل کام ہے۔ لیکن اگر نیت درست ہو تو اتنا مشکل کام بھی نہیں۔ عام لوگوں میں تاثر یہ ہے کہ شاید ہی کوئی ایسی شخصیت ہو گی جو دیانتداری اور امانت داری کے اس معیار پر پورا اتارے جو تمام خطرات مول لے کر قانون کے مطابق بدعنوان افراد کا کڑا احتساب کرے۔