آئینی ترمیم موخر ہونے پر مسلم لیگی حلقوں میں اظہار تشویش

آئینی ترمیم موخر ہونے پر مسلم لیگی حلقوں میں اظہار تشویش

پےر قومی اسمبلی کا 48 واں سےشن مجموعی طور 5 روز تک جاری رہنے کے بعد غےر معےنہ مدت کے لئے ملتوی ہوگےا اڑھائی گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس مےں آ ئےنی ترمےم کے مطلوبہ تعد اد موجود تھی اور نہ ہی سےا سی جماعتوں کے درمےان اتفاق رائے پےدا ہوا جس کے باعث حکومت نے قومی اسمبلی کا اجلاس غےر معےنہ مدت کے لئے ملتوی کر دےا اگر 10نومبر2017ءتک پارلےمنٹ سے نئی مردم شماری کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقوں کی از سر نو حد بندی کی آئےنی ترمےم منظور نہ ہوئی تو الےکشن کمشن کے لئے نئی فہرستوں کے مطابق آئےنی ترممےم منظور کرانا ممکن نہےں ہو گا اس نئی صورتحال سے نکلنے کے لئے جہاں پاکستان مسلم لےگ (ن) کی اعلیٰ قےادت نے سپےکر قومی اسمبلی سردار اےاز صادق 5 رکنی کمےٹی قائم کر دی جو آئےنی ترمےم پر از سرنو اتفاق رائے پےدا کرنے کے لئے سےاسی جماعتوں سے مذاکرات کرے گی وہاں سپےکر نے از خود حلقہ بندیوں کی آئینی ترمیم پر حکومت اپوزیشن میں پےدا ہونے والا ڈےڈ لاک ختم کرنے کے لئے آج (منگل) پارلیمانی جماعتوں کے قائدےن کا تیسرا اجلاس طلب کر لیا ہے۔ ےہ بات قابل ذکر ہے سابقہ دونوں اجلاسوں میں پارلےمانی جماعتوں کی جانب سے آئینی ترمیم پر اتفاق رائے کے بعد پےپلز پارٹی اور اےم کےواےم نے اچانک اپنے مو¿قف مےں ”ےو ٹرن“ لے لےا ہے۔ آئینی ترمیم پر مو¿خر ہونے پر مسلم لیگی حلقوں میں اظہار تشویش کیا گیا۔ پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں نئی حلقہ بندیوں سے متعلق بل پربحث کے دوران میر ظفر اللہ خان جمالی کی جانب سے خیبرپختونخوا کو فرنٹیئر کہنے پر غلام احمد بلور نے ٹوک دےا۔ غلام احمد بلور نے کہا کہ فرنٹیئر نہ کہیں بلکہ پختونخوا کہیں جس پر میر ظفر اللہ خان جمالی نے کہا کہ میں ایک سیاسی خاندان سے تعلق رکھتا ہوں مجھے معلوم ہے کہ کیا کہنا ہے سینٹ میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ اتنی کمزور ہے کہ جو چاہتا ہے جب چاہتا ہے اس پر چڑھائی کر دیتا ہے اور جمہوری قوتوں کو پامال کیا جاتا ہے، ادارے کیوں کمزور اور شخصیات کیوں مضبوط ہو رہی ہیں؟ ہمیں عدل و توازن پر مبنی نظام لانا ہو گا۔ انہوں نے ےہ بات ایوان بالا کے اجلاس کے دوران ریاستی اداروں کے کردار اور ان کے اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے بحث حصہ لیتے ہوئے کہی ایم کیو ایم کی سینیٹر خوش بخت شجاعت نے چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی کو ”سینےٹ کے سلطان“ کا خطاب دے دیا۔ پیر کو ایوان بالا کے اجلاس میں ریاستی اداروں کے کردار پر بحث کے دوران سینیٹر خوش بخت شجاعت نے چیئرمین سینٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”آپ سینٹ کے سلطان“ ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی سے انتظامی طور پر علیحدہ کر دےا جائے گا پمز ہسپتال یونیورسٹی کا ٹیچنگ ہسپتال برقرار رہے گا اور یونیورسٹی کا نام تبدیل نہیں کیا جائے گا۔