وزارتِ اطلاعات اور ”نظریہ پاکستان؟“

کالم نگار  |  اثر چوہان
وزارتِ اطلاعات اور ”نظریہ پاکستان؟“

  1957ءمیں جب مَیں گورنمنٹ کالج سرگودھا میں فرسٹ ائر کا طالبعلم تھا تو ہمارے فلسفہ کے اُستاد پروفیسر ڈاکٹر اعجاز احمد صاحب نے جو پہلا سبق پڑھایا تھا وہ تھا "Mind" (یعنی دماغ جو شعور، خیال، ارادے اور احساس کا مقام یا مرکز ہے)۔ پروفیسر صاحب نے بتایا کہ "Mind" ایک دریا کی مانِند ہوتا ہے جِس میں خیال اور سوچ کی لہریں بنتی اور بگڑتی رہتی ہیں۔ ایک کے بعد دوسری لہر! مَیں نے 6 جولائی کے قومی اخبارات میں ایک چھوٹی سی خبر پڑھی تو میرے بہتے ہُوئے دماغ دریا میں بہت سی لہریں ایک دوسرے سے ٹکرا رہی تھِیں۔ ڈاکٹر اعجاز احمد صاحب (مرحوم) کی تصویر کے ساتھ جو دوسری تصویر اُبھری وہ تحریکِ پاکستان کے نامور کارکن، دانشور اور ہمارے ذہین ترین بیوروکریٹ مرحوم سیّد قاسم رضوی صاحب (1927ئ۔ 1975ئ) کی تھی۔
خبر یہ ہے کہ Pakistan Administrative Group کے ڈاکٹر نذیر سعید کی ریٹائرمنٹ کے بعد وزیرِاعظم نواز شریف نے اُن کی جگہ انفارمیشن گروپ کے چودھری محمداعظم کو وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات مقرر کر دِیا ہے۔ مجھے یاد آیا کہ سیّد قاسم رضوی صاحب کا تعلق تو انفارمیشن گروپ سے نہیں تھا لیکن وہ1960ءکی دہائی میں ڈائریکٹر جنرل وزارتِ اطلاعات و نشریات کی حیثیت سے وزارتِ اطلاعات و نشریات کے رُوحِ رواں تھے اور انہوں نے اپنی اِس حیثیت سے قومی اخبارات و جرائد ریڈیو پاکستان اور غیر مُلکی ذرائع ابلاغ کے ذریعے علّامہ اقبالؒ اور قائدِاعظمؒ کے نظریہ¿ پاکستان کے فروغ کے لئے گراں قدر خِدمات انجام دی تھِیں۔ سیّد قاسم رضوی وزارتِ اطلاعات و نشریات کے ڈائریکٹر جنرل تھے تو انہوں نے تحریکِ پاکستان کے حوالے سے قائدِاعظمؒ اور دوسرے اکابرین کی نادر تصاویر کا ایک مجموعہ ”روشنی کا سفر“ شائع کرایا تھا۔ علّامہ اقبالؒ کے جگری دوست اور آل انڈیا مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل (انبالہ کے) مِیر غلام بھیک نیرنگ صاحب سیّد قاسم رضوی صاحب کے چچا تھے۔ علّامہ اقبال، قائدِاعظمؒ اور اُن کے افکار و نظریات سے محبت گویا سیّد صاحب کی گھُٹّی میں پڑی تھی۔ انہوں نے تحریکِ پاکستان کے سرگرم کارکنان اور مسلم لیگ سٹوڈنٹس فیڈریشن کے قائدِین مولانا عبدالستار خان نیازی اور جناب حمید نظامی (مرحوم) کی معاونت کی اور مسلم طلبہ کو بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کِیا تھا۔
مَیں سرگودھا میں روزنامہ ”وفاق“ کا ریذیڈنٹ ایڈیٹر تھا۔ 1967ءکے اوائل میں سیّد قاسم رضوی کمشنر سرگودھا ڈویژن تعینات ہُوئے۔ ایک دِن انہوں نے باغِ جناح میں ایک بہت بڑے جلسہ¿ عام سے خطاب کِیا۔ موصوف بڑے جوش اور روانی سے بول رہے تھے۔ مَیں "Radio Monitoring" میں ماہر تھا۔ مَیں نے اُن کی مکمل تقریر اگلے روز شائع کر دی۔ اُسی شام ”مارشل لاءسے مارشل لاءتک“ کے مُصنف اور سابق ڈائریکٹر تعلقاتِ عامہ پنجاب سیّد نور احمد کے صاحبزادے) مقامی انفارمیشن آفیسر سیّد آفتاب احمد نے جنابِ رضوی کی خواہش پر مجھے شام کو کمشنر ہاﺅس میں اُن کے حضور پیش کر دِیا۔ سیّد قاسم رضوی صاحب نے مجھے بہت شاباش دی اور بولے ”یار تُم نے تو کمال کر دِیا! تُم دوسرے صحافی ہو جِس نے میری مکمل تقریر نوٹ کی اور شائع کر دی۔“ مَیں نے پوچھا کہ "Sir" پہلا صحافی کون ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ”مَیں ڈپٹی کمشنر لائل پور تھا تو میری مکمل تقریر شورش پاکستانی نے نوٹ کی تھی۔ شورش پاکستانی کا نام اب جمیل اطہر ہے جو تمہارا "Boss" ہے۔“ پھر انہوں نے پوچھا کہ ”تُم لوکل ہو یا مہاجر؟“
 مَیں نے کہا ”مہاجر!“ پھر مَیں نے پوچھا کہ "Sir" آپ لوکل اور مہاجرکی تفریق کیوں کر رہے ہیں؟ تو بولے ”لوکلوں نے بھی پاکستان بنانے میں بڑھ چڑھ کر حِصّہ لِیا ہے لیکن مہاجرین خاص طور پر مشرقی پنجاب کے مہاجرین نے تو اپنے 10 لاکھ عزیز و اقارب قُربان کئے ہیں۔ اُس وقت میرا سر فخر سے بلند ہو گیا حالانکہ مَیں اور میرے بزرگ کبھی بھی مہاجرین نہیں کہلائے۔ جنابِ قاسم رضوی نے صحافیوں کی بھی درجہ بندی کر رکھی تھی۔ وہ شاعر اور ادیب صحافیوں سے زیادہ شفقت کرتے تھے اور مجھ سمیت اُن کو اپنے سرکاری دَوروں میں بھی ساتھ لے جاتے تھے۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے اپنے بزرگوں اور کوچہ¿ صحافت میں قدم رکھنے کے بعد تحریکِ پاکستان کے نامور قائدِین اور کارکنان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع مِلا۔ خاص طور پر ڈاکٹر مجید نظامی صاحب سے۔ سیّد قاسم رضوی صاحب سے میرا عقِیدت و احترام کا رِشتہ اُن کے آخر دم تک رہا۔
انفارمیشن گروپ کے طویل عرصہ تک رہے وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات سیّد انور محمود کا تذکرہ بھی ضروری ہے۔ اُن کی گفتگو میں ہر وقت اپنے بزرگوں کے ساتھ (6 ماہ کی عُمر میں) بہارسے ڈھاکہ اور ڈھاکہ سے کراچی تک ہجرت اور تحریکِ پاکستان میں اپنے بزرگوں کی خِدمات کی یادیں جھلکتی ہیں۔ 2003ءمحترم مجید نظامی صاحب سے شاگردانہ رِشتہ ظاہر کرنے اور اُس پر فخر کرنے والے شیخ رشید احمد وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات سے اور سیّد انور محمود سیکرٹری وزارتِ اطلاعات و نشریات۔ یہ یقیناً ڈاکٹر مجید نطامی صاحب کی تحریک تھی کہ اُس دَور میں نامور اہلِ قلم نے قائدِاعظمؒ کی ہمشِیرہ محترمہ مادرِ مِلّت محترمہ فاطمہ جناح ؒکی حیات اور مِلّتِ اسلامیہ کے لئے اُن کی خِدمات پر مختلف صوبوں کے اربابِ قلم سے 49کتابیں لِکھوائی گئیں۔ بہترین کتاب لِکھنے پر انعام 6 لاکھ روپیہ تھا۔ تحریکِ پاکستان کے کارکن اور نامور صحافی جناب شریف فاروق کی ”مادرِ مِلّت سرمایہ¿ مِلّت“ قائدِاعظمؒ کے سیکرٹری اور آزاد کشمیر کے مرحوم صدر جناب کے ایچ خورشید کی اہلیہ بیگم ثریا خورشید کی ”یادوں کی کہکشاں“ اور ”نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ“ کے سیکرٹری جنرل سیّد شاہد رشید کی ”مادرِ مِلّت مُحسنہ¿ مِلّت“ اوّل درجہ کی کتابیں قرار پائیں۔ شیخ رشید احمد صاحب نے تِینوں اصحاب میں انعام کی رقم (دو دو لاکھ روپے) تقسیم کر دی۔
وزیرِاعظم نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو قائم ہُوئے ایک سال ایک ماہ اور 2 دِن ہو گئے ہیں لیکن وفاقی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے علّامہ اقبالؒ، قائدِاعظمؒ اور مادرِ مِلّت کی حیات اور اُن کے افکار و نظریات پر کوئی بھی کتاب نہیں لِکھوائی لیکن مجھے یقین ہے کہ چودھری محمد اعظم آج اپنے عہدے کا چارج لیتے ہی یہ فریضہ ضرور سنبھال لیں گے۔ چودھری محمد اعظم کے 89 سالہ والد موضع ڈاک جٹّاں ضلع گجرات کے چودھری عبدالغنی کلیال اور مرحوم سُسر چودھری شاہ محمد ڈُھڈی تحریکِ پاکستان کے کارکن رہے ہیں اور وہ 1948ءمیں اپنے گاﺅں کے لوگوں کو ساتھ مِلا کرکشمیری مجاہدین کو مسلسل سامانِ رسد بھیجتے رہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ وزارتِ اطلاعات و نشریات کی Information Academy میں تربیت پانے والے نئے انفارمیشن آفیسرز کو "Public Relationing" کے ساتھ ساتھ نظریہ¿ پاکستان بھی پڑھایا جائے اور کبھی کبھی انہیں ڈاکٹر مجید نظامی صاحب کی سرپرستی/ چیئرمین شِپ میں سرگرمِ عمل دو اہم اداروں ”تحریکِ پاکستان ورکرز ٹرسٹ“ اور ”نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ “ کے زیرِ اہتمام ایوانِ کارکنان تحریکِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی تقاریب میں بھی ”نظریاتی تربیت“ کے لئے بھجوایا جائے۔ وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات سے لے کر اہم انفارمیشن آفیسرز کی محض یہ ڈیوٹی کافی نہیں کہ وہ اپنے وزیر یا وزیرِاعظم کی "Image Building" کے لئے ہی خود کو مصروف رکھیں۔ جب تک علّامہ اقبالؒ، قائدِاعظمؒ اور مادرِ مِلّت کے افکار و نظریات کو عام نہ کِیا جائے تو تحریکِ پاکستان میں شہید ہونے والوں کی رُوح کو خوش نہیں کِیا جا سکتا۔