نوازشریف اور چودھری نثار علی خان کی ’’ناراضی ‘‘ کا’’ ڈراپ سین‘‘

نوازشریف اور چودھری نثار علی خان کی ’’ناراضی ‘‘ کا’’ ڈراپ سین‘‘

بالآخر وزیراعظم محمد نوازشریف اور وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان کے درمیان ’’صلح‘‘ ہو گئی ہے۔ اس صلح میں وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف جو چودھری نثار علی خان کے’’یار غار‘‘ ہیں نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کا دوست’’ حاکم وقت ‘‘ سے ناراض ہو گیا ہے اور وہ کسی وقت بھی حکومت سے الگ ہو سکتا ہے تو ان کی پریشانی دیکھی نہیں جا تی تھی۔ میاں شہبازشریف نے اپنی سیاسی زندگی میں شاید ہی راولپنڈی کے اتنے چکر لگائے ہوں جتنے انہوں نے ایک ہفتے میں لگائے۔ وہ پہروں چودھری نثار علی خان کے پاس بیٹھے رہے اور ان کو منانے کی کوشش کرتے رہے۔ بالآخر ان کی کوششیں رنگ لائیں۔ نوازشریف اور چودھری نثار کے درمیان فاصلے ختم ہوگئے لہٰذا ’’ناراضی ‘‘ ختم کرانے کا کریڈٹ میاں شہبازشریف کو جاتا ہے۔ یہ فاصلے پیدا کرنے میں شاید دونوں کا اتنا قصور نہیں ہو گا جتنا’’اپنوں ‘‘ کی لگائی ہوئی اس آگ کا ہے جس میں وہ ان دونوں کو جلا دیناچاہتے تھے۔ جب حکمران مسندِاقتدار پر فائز ہوتے ہیں تو وہ ’’کان کے کچے‘‘ ہو جاتے ہیں۔ پھر حکمران کی قربت حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کو اپناکھیل کھیلنے کا موقع مل جاتا ہے اور وہ پھر حکمران کے کان بھرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ میاں نوازشریف اور چودھری نثار علی خان کی ’’ناراضی‘‘بھی اسی ’’کانا پھوسی‘‘ کا شاخسانہ تھی۔ ہر سیاسی جماعت میں گروپ بندی ہوتی ہے۔ کچھ لوگوں کا پارٹی کے قائد کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتا ہے اور کچھ لوگوں کی پارٹی کے قائد سے مہینوں ملاقات نہیں ہو پاتی۔ چودھری نثار علی خان پچھلے 30 سال سے مسلم لیگ(ن) کے سیاسی دماغ تصور کئے جاتے ہیں۔ پارٹی کے اہم سیاسی فیصلے ان ہی کی مرضی سے ہوتے چلے آئے ہیں۔ ان کے کئی ساتھی ان کی اس حیثیت کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں۔ وہ ان اس حیثیت کو کم کرنے کی ہرممکن کوشش کرتے رہتے ہیں۔ جب محمد نوازشریف تیسری بار وزیراعظم کے منصب پر فائز ہوئے تو انہوں نے کسی وزیر کو سینئر وزیر بنایا اور نہ ہی اپنا نائب مقرر کیا‘ لیکن قومی اسمبلی میں اپنے پہلو میںچودھری نثار علی خان کی نشست مختص کرکے پوری جماعت کو یہ پیغام دیا کہ چودھری نثار علی خان ہی پارلیمان میں ان کے ’’اوپننگ بیٹسمین ‘‘ ہوں گے‘ لیکن پارلیمان میں چودھری نثار علی خان اپنے’’کپتان‘‘ کی ہدایات کی پروا کئے بغیر اپنے سیاسی مخالفین کو ’’چوکے چھکے‘‘ لگاتے رہتے جس سے پیپلزپارٹی کی قیادت جو ان دنوں نوازشریف پر ’’قربان‘‘ ہونے کیلئے تیار کھڑی ہے کو شکایت پیدا ہوئی اور ان کی مسلم لیگ (ن) سے ٹھن گئی۔ مسلم لیگ (ن) کے کچھ لیڈروں کی پیپلزپارٹی کی قیادت سے ’’دوستیاں‘‘ بھی ’’ناراضی ‘‘ کی ایک وجہ بتائی جاتی ہے۔ چودھری نثار علی خان اور میاں شہبازشریف مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے درمیان ’’رومانس‘‘ کے سخت خلاف ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے ایک سینئر ترین رہنما نے نوازشریف اور چودھری نثار علی خان کی ’’ناراضی‘‘ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’’مسلم لیگ (ن) کے پاس چودھری نثار علی خان جیسی سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والی شخصیت کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ‘‘ یہ ایک حقیقت ہے انہوں نے نہ صرف اپنی پوری سیاسی زندگی نوازشریف کو ’’وزیر اعظم نواز شریف‘‘ بنانے کیلئے مختص کر دی بلکہ پارٹی کے اندر ان کی جگہ لینے والوں کی سازشوں ناکام بناتے رہے اور عسکری پس منظر رکھنے کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) اور فوج کے درمیان ’’پل‘‘ کا کردار ادا کیا۔ گزشتہ جمعہ پارلیمنٹ ہائوس میں اخبارنویسوں نے وزیرریلوے خواجہ سعدرفیق سے ’’نوازشریف اور چودھری نثار علی خان کی ’’ناراضی‘‘ کے بارے میں پوچھا تو انہوں دلچسپ تبصرہ کیا اور کہا کہ ’’یہ عاشق اور معشوق ‘‘ کی ’’ناراضی‘‘ ہے‘ اس میں کوئی دوسرا مداخلت نہیں کر سکتا ہے  لہٰذا ان کا ’’عشق‘‘ اتنا مضبوط ہے علیحدگی کے بارے میںقیاس آرائیاں کرنے والوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وفاقی دارالحکومت کے ’’باخبر‘‘ ہونے کے دعویدار اخبارنویس پچھلے کئی ہفتوں سے قیاس آرائیوں پر مبنی ’’خبریں‘‘ گھڑ رہے تھے‘ لیکن کسی کو دونوں کے درمیان ’’ناراضی‘‘ کی اصل وجہ کا علم نہیں۔ کبھی یہ کہا جارہا تھا کہ چودھری نثار علی خان کی جگہ لیفٹننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ کو وفاقی وزیرداخلہ بنایا جارہا ہے اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے وزارت داخلہ کے افسران سے بریفننگ لینا شروع کر دی ہے۔ اس افواہ کو پھیلانے میں پیپلزپارٹی کے دسترخوان کے ’’خوشہ چین‘‘ اخبار نویس پیش پیش تھے۔ سیاسی حلقوں میں ’’چودھری نثار علی خان کا سیاسی مستقبل‘‘ موضوع گفتگو بنا ہوا تھا۔ پہلے یہ بات تواتر سے کہی جارہی تھی کہ ان سے وزارت کا قلمدان واپس لیا جارہا ہے‘ پھر یہ کہا جانے لگا کہ وہ پارٹی میں’’ فارورڈ بلاک ‘‘بنا رہے ہیں۔ کبھی سیاسی پنڈت دور کی کوڑی لاتے کہ وہ وزارت سے استعفیٰ کر عمران خان کی جماعت میں شامل ہونے والے ہیں۔ یہ سب قیاس آرائیاں ان ’’بے خبر‘‘ لوگوں کی طرف سے کی جارہی تھیں جن کو ملک کی ’’اشرافیہ کی دو اہم شخصیات‘‘ کے درمیان ’’ناراضی‘‘ کی اصل وجہ ہی معلوم نہیں تھی۔ چودھری نثار علی خان نے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد کہا تھا کہ اگر وہ ایک سال میں موجودہ صورتحال میں بہتری لانے میں کامیاب نہ ہوئے تو حکومتی عہدہ چھوڑ کر پارٹی کے عام رکن کی حیثیت میں پارلیمنٹ میں حکومت کی سمت درست رکھنے میں کردار ادا کریں گے۔ وہ کافی دنوں سے موجودہ صورت حال میں مضطرب دکھائی دے رہے تھے۔ وہ عام انتخابات میں عوام سے کئے گئے وعدوں کی ’’جنگی بنیادوں ‘‘ پر تکمیل چاہتے تھے۔ چودھری نثار علی خان اپنی وزارت کی ایک سال کی کارکرگی سے عوام کو آگاہ چاہتے تھے۔ انہوں نے دن رات محنت کرکے قومی سلامتی کی داخلی پالیسی بنائی‘ لیکن اس پر عملدرآمد کیلئے بجٹ میں ایک پیسہ نہیں رکھا گیا۔ اسی طرح چودھری نثار علی خان اور میاں شہبازشریف حکومت اور فوج کے درمیان ’’تعلقات کار‘‘ بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ بیرون ملک بھجوا دینے کی ضمانت پر جنرل (ر) پرویزمشرف کو خصوصی عدالت میں پیش کرایا‘ لیکن ان کی کمٹمنٹ کو پارٹی کے ’’عقابوں‘‘ نے پذیرائی نہیں بخشنے دی۔ فوجی آپریشن کے بارے میں بھی چودھری نثار علی خان کے تحفظات ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے جب سے میاں نوازشریف نے تیسری بار وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالا ہے‘ وہ تمام فیصلے اپنی مرضی سے کرتے ہیں ۔ انہوں نے اپنی ’’کچن کیبنٹ‘‘ میں بھی توسیع کر دی ہے جہاں وہ اپنی مرضی کے فیصلوں کی توثیق کرالیتے ہیں۔ چودھری نثار علی خان مزاجاً خوشامد کرنے والی شخصیت نہیں‘ یہی وجہ ہے وہ کابینہ کے اجلاس میںکھری کھری سنا دیتے ہیں۔ جو بعدازں ناراضی کا باعث بن جاتی ہیں۔ مجھے یاد ہے وزیراعظم محمد نوازشریف کے دوسرے دورِحکومت میں کئی ماہ تک کابینہ کا اجلاس نہ ہونے پر متعدد وزراء نے ناراضی کا اظہار کیا اور چودھری نثار علی خان سے کہا کہ وہ وزیراعظم سے کابینہ کا اجلاس بلانے کیلئے بات کریں۔ جن وزراء کی ’’فرمائش‘‘ پر کابینہ کا اجلاس بلایا گیا تھا‘ انہوں نے کام کی کوئی بات کرنے کے بجائے وزیراعظم کی خوشامد میں زمین آسمان کے قلابے ملانا شروع کر دیئے۔ کسی وزیر کو اجلاس چھوڑ کر جانے کی اجازت نہیں تھی‘ لیکن دو وزراء نے’’کمال ہوشیاری‘‘سے کابینہ میں ایسا خوشامدانہ ماحول بنایا کہ ان کو ملتان جانے کی اجازت مل گئی۔ چودھری نثار علی خان سے یہ ’’مدح سرائی ‘‘ برداشت نہیں ہوئی۔ انہوں نے وزیراعظم محمد نوازشریف سے کہا کہ جن وزراء کی درخواست پر کابینہ کا اجلاس بلایا گیا ہے‘ وہ آپ کو ملک کی صحیح صورتحال سے آگاہ کرنے کے بجائے ’’خوشامد‘‘ میں مصروف ہیں۔ ان کے ان ریمارکس پر نوازشریف سخت برہم ہو ئے اور کشیدہ ماحول میں کابینہ کا اجلاس ختم کر دیا۔ ناراضگی اس حد تک بڑھ گئی کہ چودھری نثار علی خان نے وزارت سے مستعفی ہونے کی دھمکی دیدی۔ اس وقت بھی میاں شہبازشریف کی فہم و فراست سے صلح ہو گئی۔ نوازشریف اور چودھری نثار علی خان کے درمیان پہلی بار ’’ناراضی‘‘ نہیں ہوئی‘ لیکن ہمیشہ ناراضی اصولوں پر مبنی نکتۂ نظر کو تسلیم نہ کرنے پر ہوئی ہے۔ چودھری نثار علی خان نے کبھی نوازشریف کی جگہ لینے کی کو شش کی اور نہ ہی ایسی کسی سازش کو کامیاب ہونے دیا‘ لیکن جب کبھی وہ کسی بات پر اڑ جاتے ہیں تو پھر اپنی بات منوائے بغیر پیچھے نہیں ہٹتے۔’’سیاسی پنڈت ‘‘اور ’’بے خبر صحافی‘‘ چودھری نثار علی خان کی وزارت کی تبدیلی اور پھر ان کی مسلم لیگ (ن) سے اڑان کی پیشن گوئی کرتے تھکتے نہیں تھے‘ لیکن میں یہ بات انتہائی اعتماد سے یہی کہتا تھا کہ اس ناراضی کا منطقی انجام اچھا ہو گا۔ پارٹی کے اندر اور باہر ان کے ’’بدخواہوں ‘‘ کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نوازشریف، شہباز شریف اور چودھری نثار علی ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔ کوئی بھی اس میں سوراخ کرنے کی غلطی نہیں کرے گا۔