ملک کے 22ویں منصفِ اعلیٰ اور دَھر رگڑا

کالم نگار  |  سعید آسی
ملک کے 22ویں منصفِ اعلیٰ اور دَھر رگڑا

صوبہ خیبر پی کے سے تعلق رکھنے والے سپریم کورٹ کے سینئر موسٹ جج مسٹر جسٹس ناصر الملک اتوار کے روز منصفِ اعلیٰ کا حلف اُٹھا کر پاکستان کے 22ویں چیف جسٹس کے منصب سے سرفراز ہو گئے ہیں۔ پشاور ہائیکورٹ بار کے سیکرٹری اور صدر کے منصب پر منتخب ہونے والے جسٹس ناصر الملک کا پروفیشنل ازم اس حوالے سے مسلمہ ہے کہ قانون ہی کے پیشے میں انہوں نے وکالت سے ایڈووکیٹ جنرل اور پھر پشاور ہائیکورٹ کے جج سے چیف جسٹس تک کے مراحل طے کرنے کے بعد سپریم کورٹ کے جج کا منصب سنبھالا جبکہ آج وہ پاکستان کے منصفِ اعلیٰ کے بلند ترین منصب پر فائز ہو چکے ہیں۔ ان کے پیشرو چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس تصدق حسین جیلانی بھی اسی طرح وکالت سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور پھر لاہور ہائیکورٹ کے جج سے سپریم کورٹ کے جج تک اس پیشہ میں مرحلہ وار ترقی کے زینے چڑھتے منصفِ اعلیٰ کے منصب تک آئے تھے۔ ان سے قبل منصفِ اعلیٰ کے منصب سے ریٹائر ہونے والے جسٹس افتخار محمد چودھری کا کیرئر بھی اس شعبے میں تابناک رہا ہے جو بلوچستان میں وکالت سے ایڈووکیٹ جنرل اور پھر ہائیکورٹ کے جج کے منصب پر فائز ہوئے جہاں سے وہ سپریم کورٹ میں آئے اور منصفِ اعلیٰ کے بلند ترین منصب تک پہنچے۔ ان تینوں شخصیات میں پروفیشنل ازم کے علاوہ یہ قدر بھی مشترک ہے کہ ان تینوں کا تعلق ملک کے پسماندہ علاقوں سے ہے۔ بلوچستان سے تعلق کے ناطے جسٹس افتخار محمد چودھری کو پسماندہ بلوچوں کے غصب ہوتے حقوق کا پورا ادراک تھا جس نے ان میں منصف کی حیثیت سے انسانی حقوق کے تحفظ کی تحریک پیدا کی اور وہ حقوق غصب کرنے والے طبقات بشمول حکمران طبقات کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر محروم طبقات کے حقوق کے لئے ان کی دادرسی کرتے رہے۔ جسٹس تصدق حسین جیلانی جنوبی پنجاب سے تعلق کے ناطے وڈیروں، جاگیر داروں، سرداروں، خانوں، نوابوں اور دوسرے بڑی ذاتوں والے لٹیروں کے ہاتھوں بے بس اور بے وسیلہ عوام کے لُٹنے کے مناظر دیکھتے، ان کے حقوق کے حصول اور تحفظ میں معاون بنے اور خدا نے انہیں اپنے بندوں کی چارہ جوئی کا راستہ دکھا دیا جبکہ جسٹس ناصر الملک نے دہشت گردی کی آگ میں جھلستے صوبہ سرحد (خیبر پی کے) میں بطور وکیل اور پھر بطور منصف انسانی دکھوں کے مداوا کے بہت جتن کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے امریکی ڈرون حملوں کے خلاف کیس میں یادگار فیصلہ صادر کیا اور وفاقی حکومت کو نہ صرف ڈرون حملے رکوانے بلکہ ان حملوں میں ہونے والے انسانی جانی اور مالی نقصانات کی تلافی کا بھی امریکہ سے تقاضہ کرنے کی ہدایت کی۔ ان تینوں شخصیات کی عدل گستری میں بے خوفی کی قدر مشترک یہ بھی ہے کہ ان تینوں نے جرنیلی آمر کے مسلط کردہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا اور پھر عدلیہ بچائو عوامی تحریک کی بدولت سرخرو ہو کر عدلیہ میں واپس آئے۔
میں دیانتداری کے ساتھ یہ سمجھتا ہوں کہ جسٹس افتخار محمد چودھری نے ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی اور انصاف کی عملداری کے لئے عدلیہ کی تاریخ میں جو یادگار روایات قائم کی ہیں آج کی جمہوریت اور اس سے وابستہ سیاستدان اسی کا پھل کھا رہے ہیں مگر انہی سیاستدانوں کی جانب سے جسٹس افتخار محمد چوہدری کو متنازعہ بنا کر رگیدنے اور ان پر دنیا بھر کا کیچڑ اکٹھا کر کے اچھالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی بالخصوص عمران خان اور ان کی پارٹی تحریک انصاف کے دوسرے عہدے داران تو انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کے الزامات سمیت ان کی ذات پر ایسی ایسی پھبتیاں کستے نظر آتے ہیں کہ شرفِ انسانیت بھی شرماتی محسوس ہونے لگتی ہے جبکہ ان الزامات میں رتی بھر بھی حقیقت نہیں۔ عمران خان کا سونامی تو سول سوسائٹی کی اس تحریک کی کھوکھ سے ہی نکلا ہے جو 9 مارچ 2007ء کو مشرف کی باوردی رعونت کو چیلنج کرتے اور ٹھوکر مارتے جسٹس افتخار محمد چوہدری کا ہراول دستہ بنی تھی، اگر جسٹس افتخار محمد چودھری اس روز مشرف اور ان کی باوردی ٹیم کے سامنے جرأتِ انکار کا مظاہرہ نہ کرتے اور ان کے کہنے پر چیف جسٹس کے منصب سے استعفی دے کر چپ چاپ گھر چلے جاتے تو کیا آج بھی ملک پر جرنیلی آمریت کی نحوست برقرار نہ ہوتی اور سسکیاں لیتی، ایڑیاں رگڑتی جمہوریت کا ریت میں دبایا گیا سر جرنیلی بوٹوں کے نیچے سے نکلوانے کی بھلا کسی میں جرأت و ہمت ہو پاتی؟ جسٹس ارشاد حسن خاں کے اچھوتے نظریہ ضرورت، جس کے تحت جرنیلی آمر کو آئین میں ترمیم کا اختیار بھی دے دیا گیا تھا، کی موجودگی میں جسٹس افتخار محمد چوہدری بھی جرأت رندانہ کا مظاہرہ نہ کرتے تو پیچھے کون تھا جو جرنیلی آمریت کے خلاف سر اوکھلی میں دینے کی ہمت کرتا۔ اس وقت تو سیاستدانوں کی کھیپ میں سے ’’نابغۂ روزگاز‘‘ شخصیات بھی پھدکتی ہوئی جرنیلی آمریت کی خوشنودی کی خاطر انہیں وردی سمیت مزید دس ٹرموں کے لئے صدر منتخب کرنے کے فخریہ اعلانات کر رہی تھیں، آج جسٹس افتخار محمد چودھری پر گند اُچھالنے والے ذرا چشمِ تصور کو وا کر کے جائزہ لیں کہ عدلیہ کی تاریخ میں 9 مارچ 2007ء والا یادگار دن نہ آیا ہوتا تو ان کی مری کھپی سیاست کہیں اپنے ہونے کا یقین دلانے کی بھی پوزیشن میں ہوتی؟ یہ اسی جرأتِ انکار کا ثمر ہے کہ آج جمہوریت کا نہ صرف تسلسل برقرار ہے بلکہ اس کے خلاف کسی ماورائے آئین اقدام کی ماضی والی سوچ دل میں رکھنے والوں کو بھی اب خوف ہوتا کہ فعال عدلیہ اور متحرک سول سوسائٹی کے ہوتے ہوئے انہیں لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ اسی طرح عدلیہ میں آج میرٹ اور سنیارٹی کی حکمرانی ہے تو یہ بھی جسٹس افتخار چودھری کی عدلیہ میں لائی گئی فعالیت ہی کا ثمر ہے جس کی بدولت یہ شاندار روایت اب مستحکم ہونے لگی ہے کہ اب سینئر موسٹ نے ہی ہر صورت چیف جسٹس کے منصب پر فائز ہونا ہے ورنہ پہلے یہ منصب حکمرانوں کے ہاتھوں کا کھلونا بنا رہا ہے، وہ کسی کو سنیارٹی کے بغیر اس منصب پر لاتے تو اسے آنکھ کی شرم ہی متعلقہ حکمرانوں کی خوشنودی کے تقاضے نبھانے کی راہ پر لگائے رکھتی، شاید یہی جسٹس افتخار چودھری کا قصور ہے کہ ان کی روشناس کرائی گئی عدلیہ کی فعالیت نے حکمرانوں کی من مانیوں کے راستے بھی بند کئے اور جمہوریتوں کے خلاف ماورائے آئین اقدامات کا راستہ روک کر ان آمریتوں سے فیض پانے اور ان کی بندوق کے زور پر سیاست چمکانے والے کوتاہ قامت سیاستدانوں کے لئے بھی مفاداتی سیاست میں جھولیاں بھرنے کے مواقع بھی ختم کر دئیے۔ آج کی سیاست میں چاہے عمران خان ہوں یا طاہر القادری، جمہوریت کا پھر سے بستر گول کرنے کا ایجنڈہ غالب نظر آتا ہے اور ایسا ایجنڈہ رکھنے والے بعض ’’عالی دماغوں‘‘ کی جانب سے تو فوج کو کھلم کھلا دعوت دی جا رہی ہے کہ وہ آ کر جمہوریت کو ماضی کی طرح چلتا کرے۔ اگر اس ایجنڈے والوں کی جانب سے جسٹس افتخار چودھری پر کیچڑ اُچھالا جا رہا ہے تو اس سے یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ ان سے جرنیلی آمریت کو گھر بھجوانے اور آئندہ کے لئے اس کی راہیں مسدود کرنے کا انتقام لیا جا رہا ہے۔ اب شاید جسٹس ناصر الملک کے حوالے سے ان کا من مانیوں والا ایجنڈہ بھی انگڑائیاں لیتا نظر آئے مگر ایسے تمام کم فہموں کو آزاد عدلیہ کے ماتحت مستحکم ہونے والی جمہوریت پر صاد کر لینا چاہئے، اگر وہ اپنے تئیں خود کو مقبولِ عام لیڈر سمجھتے ہیں تو جمہوریت کی عملداری کا پھل کھائیں اور جمہور میں تقسیم کریں، وہ کیچڑ اُچھالنے کی روایت کو آگے بڑھائیں گے تو کس کا ماضی اور حال اتنا پاک اور صاف ہے کہ کیچڑ اچھالنے کے عمل میں ان کی جانب کوئی چھینٹا تک نہیں آئے گا۔ اب براہِ کرم عدلیہ کو پھلنے پھولنے دیں، اس کے ذریعے سسٹم کی خرابیاں بھی آہستہ آہستہ دور ہوتی جائیں گی ورنہ اب کی بار سسٹم رگڑے میں آیا تو یہ سسٹم کا بوریا بستر گول کرانے کی خواہش رکھنے والوں کے لئے ’’دھر رگڑا‘‘ ثابت ہو گا۔