ایک انار‘ ایک تجارت‘ سو بیمار....؟

کالم نگار  |  بشری رحمن
ایک انار‘ ایک تجارت‘ سو بیمار....؟

آج کل رمضان بازاروں کا بڑا شہرہ ہے
دیکھنے ہم بھی گئے تھے کہ وہ دنیا کیا ہے
آخر اس عالم افواہ میں ہوتا کیا ہے
ہر چیز وہاں کی ہے معمہ اے دل
اب تک نہیں سمجھے کہ وہاں سستا کیا ہے؟
یہ پاکستان ہے، ماشا¿اللہ سارے شہروں کے سارے بازار سبزیوں اور پھلوں سے لدے ہوئے ہیں اتنی شدید گرمی اور پھر اشیائے خوردنی کی فراوانی ہے .... یہ اللہ کی رحمت نہیں تو کیا ہے، یہ پاکستان کی خوش بختی نہیں تو کیا ہے۔ لیکن خوش بختی کو بدبختی میں بدلنے کے لئے انسانوں یعنی دکانداروں اور تاجروں کا رویہ ہی کافی ہوتا ہے۔ وہ آپ کو رمضان کے باوجود ہر دکاندار اور ہر چھابڑی فروش کے ہاں نظر آ جائے گا۔ بدتمیز، بدلحاظ، کھردرے اور انسانیت سے عاری!
جی پاکستان میں رمضان ہے۔
یہ جو بازاروں میں لال گال خوش رنگ اور خون آلود انار آپ کو نظر آ رہا ہے، یہ انار خیرسے انڈیا سے آیا ہے اور سب دکانوں پر ساڑھے سات سو روپے فی کلو بک رہا ہے۔ اس سے پہلے ہمارے ہاں کابلی اور قندھاری انار آیا کرتے تھے مگر اتنے مہنگے کبھی نہ تھے۔ بہیدانہ انار جن کے اندر گٹھلی نہیں ہوتی وہ مریضوں کےلئے تجویز کئے جاتے ہیں وہ بھی افغانستان سے آیا کرتے ہیں وہ بھی اتنے مہنگے نہیں ہوتے مگر انڈین انار کا نخرہ ہی اور طرح کا ہے دکاندار اس کی تعریف میں رطب اللسان ہے اور جھوٹی قسم کھا کے بیچتا ہے کیونکہ سودا مہنگا ہے اس موسم میں پنجاب سے ایک دیسی انار آیا کرتا ہے۔ جو شکل سے سادہ ہوتا ہے اور مزے میں دوبالا ہوتا ہے ہر سیزن میں وہ ایک سو روپے کلو بکا کرتا ہے کیونکہ میرے جیسے فقیر طبع لوگ اسے پسند کرتے ہیں اور ڈاکٹر بھی کہتے ہیں کہ انار خون پیدا کرتا ہے اب کے ستم ظریف دکانداروں نے انڈیا کے سرخ انگارہ اناروں کے مقابلے میں پنجاب کے سفید پوش انار کا بھاﺅ بھی ساڑھے تین سو روپے کر دیا ہے۔ چلئے اس گرم موسم میں فروٹ کی ہر دکان پھلوں سے لدی ہے۔ پوچھ کے دیکھ لیجئے دکاندار جھٹ کہتا ہے یہ کیلا ساڑھے تین سو روپے درجن ہے۔ کیوں بھئی، گاہک کا منہ کھلے کا کھلا رہ جاتا ہے۔ یہ ہے جی .... کیا فرق ہے دونوں میں .... دیکھ لیجئے .... یہ کیسے ہے ڈھائی سو روپے فی درجن ....
ہمارا سندھ کیلوں کا سدا بہار خطہ ہے۔ سندھ کے کیلے خوشبودار نرم مزاج اور سندھیوں کی طرح دوست نواز ہوتے ہیں۔ پاکستان میں کیلا ایک ایسا سستا پھل ہے جو ریڑھیوں پر بکتا ہے اور غریب بھی پیٹ بھر کر کھاتے ہیں۔ آج جب آپ نے انڈیا کا اکڑفوں کیلا بغیر ضرورت کے ٹنوں کے حساب سے امپورٹ کر لیا اور منڈی آڑھتیوں کو مجبور کر لیا کہ تھوک کے حساب سے اٹھا لیں تو سندھ کا مزے دار کیلا سستی ریڑھیوں پر پڑا سڑ رہا ہے۔ کوئی ہمیں یہ بتاﺅ جو پھل اپنے ملک میں بہتات سے ہو رہا ہو اسے باہر سے منگوانے میں کس عاقبت نااندیش کا مفاد ہے۔ اگر آپ نے بغیر سوچے سمجھے کیلا اور انار منگوا لیا ہے تو اس کی جگہ انڈیا کون سا پاکستانی پھل امپورٹ کر رہا ہے اور ٹنوں کے حساب سے۔ پہلے کسی زمانے میں وہ ہم سے کینو اور انور رٹھول آم منگوایا کرتے تھے، گذشتہ سال کسی انڈین نے بتایا کہ اب ہم کینو اُگانے اور راٹھول آم اُگانے میں خود کفیل ہو گئے ہیں۔ امپورٹ کا جھنجٹ چھوٹا .... انہوں نے نقل کو گوارا کیا .... امپورٹ کو نہیں۔
رمضان بازاروں میں انڈین آلو 55 روپے فی کلو بک رہا ہے اور پاکستانی آلو پچاس روپے فی کلو۔ کون ہے یہاں انڈیا آلو کا دیوانہ اور اپنے کمیشن کا رسیا کہ جس نے بغیر ضرورت کے انڈین آلوﺅں کے ٹرک منگوا لئے۔
قارئین ! آج اتوار ہے اور میں سارے رمضان بازاروں کا چکر لگا کر آ رہی ہوں۔ جب میں ہر دکان پر انڈین سودا دیکھتی ہوں تو میرا وجدان چلا اٹھتا ہے۔ کس شے کی کمی ہے پاکستان میں۔ آپ نے ہر دکان میں انڈیا کی کوئی چیز سجا رکھی ہے، میں ساری چیزوں کی فہرستیں یہاں پیش نہیں کر سکتی۔
اب ہمارے ہاں کچھ رواج سا ہوگیا ہے کئی ملکوںکے سیب آ رہے ہیں چین‘ بلجیئم‘ ہالینڈ آسٹریلیا .... دکاندار بڑی آسانی سے کئی ملکوں کے نام لے کر سیب بیچ رہے ہیں۔ چلئے مانا کہ پاکستان میں ہر سیزن میں سیب نہیں اُگتے تو ہر سیزن میں سیب کھانا کوئی مجبوری ہے۔ سیب کے متبادل اور بھی پھل ہیں جو غریب بھی کھا سکتے ہیں۔ سیب تو شاہانہ پھل ہے ہم ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تجارت کے خلاف نہیں ہیں۔ مگر تجارت متوازن ‘ برابری اور منافع کے اصولوںپر ہونی چاہئے۔ آپ کسانوں کو مزید آلو اُگانے کے لئے سبسڈی کیوں نہیں دیتے۔ یہ مفاد انڈیا کو کیوں دینا چاہتے ہیں کہ ہمارے کھیت خشک ہو جائیں اور ان کی انڈسٹری پھلے پھولے۔ دستور ہے کہ جو چیز اپنے ملک میں اُگ نہیں سکتی وہ باہر سے منگواتے ہیں۔پھر پاکستانیوں کو یہ بھی بتایا جائے کہ انڈیا پھلوں، سبزیوں اور دالوں میں سے کونسی چیز پاکستان سے منگوا رہا ہے۔
وہ چیزیں جو ہماری زمین میں اُگتی ہیں اُگ سکتی ہیں ان کو انڈیا سے منگوانے میں فلسفہ کیا ہے؟ ایک ہی خطہ ایک ہی جیسی زمین ایک جیسے دریاﺅں کا پانی .... ہائے میرا پانی۔ پانی بھی وہ چُرا لیں، زمین بھی وہ بنجر کریں، پھل اور سبزیاں بھی اُن کی بکنے لگیں، پاکستانی بازاروں میں انڈیا کی صدائیں گونجیں۔ دھاگا بھی وہ بھیجنے لگیں اور ہماری کپاس بیوہ ہو جائے۔ دالیں بھی ہمارے بچے ان کی کھائیں، سبزیاں بھی ان کی کھائیں، گندم بھی ان سے منگوائیں، سستی دوائیاں بھی ان سے لیں۔ ٹیکسٹائل ہماری جو دنیا میں مشہور ہے بند ہو جائے۔ فارما سیوٹیکل میں پاکستان خود کفیل ہے وہ فیکٹریاں بانجھ ہو جائیں۔ انڈیا کے ارادے تو دوررس ہیں مگر کیا حکومت پاکستان کے پاس دماغ نہیں کم نگاہ ہیں۔
سارے انڈیا میں شور ہے کہ وزیراعظم اور ان کا فرزند سجن جنرل سے خاص طور پر جا کر ملے جو انڈیا میں سٹیل انڈسٹری کا ٹائیکون ہے۔ افغانستان سے بار برداری کے لئے اور سکریپ اٹھانے کے لئے وہ پاکستان سے راہداری مانگ رہا ہے مگر کوئی شرائط طے کرنے پر راضی نہیں۔ معلوم ہے کہ افغانستان سے انڈیا جانے تک راہداری ریونیو بلین بلین کے حساب سے بنتا ہے۔ یہ کس قسم کی دوستی ہے، کس قسم کی رواداری ہے، کس قسم کی یاری ہے؟
خود انڈیا کی مودی حکومت غیر ملکی اسلحہ ساز فیکٹریوں کو اونر شپ کی بنیاد پر بھارت میں اپنی کمپنیاں قائم کرنے کی دعوت دے رہی ہے۔ گذشتہ سال بھارت نے جنگی اسلحہ خریدنے پر چھ ارب ڈالر خرچ کئے اب ہمسایوں پر کس قسم کی مہربانی کرنا چاہتا ہے۔ اگر ارادے شکستی اور شانتی کے ہیں تو ہمسایوں کو خوف زدہ کرنے کے لئے آلو اور ٹماٹر کے عوض اسلحہ کے ڈھیر کیوں لگائے جا رہے ہیں؟
مجھے اس آدمی کے اندازِ دوستی سے گلہ رہا ہے
جو مار دیتا ہے دوست بن کر جو قتل کرتا ہے یار ہو کر