ایوان اقتدار کی اینٹیں ہلنے لگیں

کالم نگار  |  اسد اللہ غالب
ایوان اقتدار کی اینٹیں ہلنے لگیں

 حکمران جس شاخ پہ بیٹھے ہیں، اسی پہ کلہاڑا چلا رہے ہیں، صدیوں پہلے شیخ چلی کو کسی نے اس حرکت سے منع کیا تھا، مگر کسی بھی دور کا شیخ چلی اس حرکت سے باز نہیں آتا۔
کہا تو تھا وزیر اعظم نے اپنے مخالفین سے کہ وہ ان کی ٹانگیںنہ کھینچیں اور ملک کو ترقی کی راہ پر آگے بڑھنے دیں۔
آج تک اگر کسی نے مانی ہے تو وہ طالبان ہیں جنہیں شہباز شریف نے کہا تھا کہ وہ پنجاب کو معاف رکھیں اور ہم سب نے دیکھا کہ طالبان نے اچھے بچوں کی طرح وزیر اعلی پنجاب کے حکم کی تابع داری کی۔
ویسے ابھی تک عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری نے کوئی بڑا پاکھنڈ نہیں ڈالا۔ جو کچھ کر رہی ہے حکومت کر رہی ہے اور حکومت اپنا ہی برا کر رہی ہے۔
فوج کے بارے میں حلفیہ کہا جا سکتا ہے کہ اس نے بھی حکومت کو ڈانواںڈول کرنے کے لئے کوئی ایک بھی حرکت نہیں کی۔ جیو اور جنگ نے فوج اور آئی ایس آئی کوبدنام کیا اور حکومت اور پیمرا دونوںے فوج کے بجائے جنگ اور جیو کا ساتھ نبھایا۔شاید یہ جنم جنم کا ساتھ تھا۔عوام میں سے جس جس نے فوج کے حق میں بیان دیئے یا جلوس نکالے، پرویز رشید نے انہیں طعنہ دیا کہ وہ نوکری کی تلاش میں ہیں۔
حکومتوںکو زوال کب ا ور کیسے آتا ہے۔ اس کے لئے ابن خلدون کی تھیوری تو قدرے پیچیدہ ہے، عام آدمی اسے نہیں سمجھ سکتا۔سہل زبان میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہر حکومت اپنے ہی پاﺅں پر کلہاڑی مارتی ہے اور پھر اس کے چل چلاﺅ کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔بھٹو نے اپنی ایف ایس ایف کو استعمال کیاا ور اپنے ہی ساتھیوں کی کھالیں ادھیڑیںتو اس کے اقتدار کا سورج ڈھلنے لگا، مخالفین ہمیشہ سازش کرتے ہیںمگر اس وقت جب حکمران خود کو کمزور کر لیتا ہے۔اور لوہا پوری طرح گرم ہو جاتا ہے۔
سر دست عمران خان اور طاہرالقادری کے پاس کوئی ایجنڈہ نہیں تھامگر شہباز شریف نے طاہر القادری کی چوکھٹ پر چودہ لاشیں گرا دیں۔ایوب خاںنے صرف چینی کے نرخوںمیں چارآنے کا اضافہ کیاا ور لاہور کی مال روڈ پر فیڈر منہ میں دبائے بچوںنے ایک جلوس نکالا اور چینی چور،ایوب کتا ، ہائے ہائے کے نعرے لگائے، ایوب خان کو سمجھ آ گئی کہ یہ تو غلیظ گالی ہے، اس نے اقتدار چھوڑنے کو ترجیح دی۔ محمد خاں جونیجو کی حکومت مسلم لیگ کا لبادہ اوڑھ چکی تھی مگر اس نے کرپشن کے الزام میںنارووال کے ایک وزیرانور عزیز چودھری کو کابینہ سے برطرف کیا تو آگے چل کر جونیجو کی اپنی رخصتی ہو گئی۔ڈھاکہ کی سارک کانفرنس سے واپسی پر وزیر اعظم محمد نواشریف نے اپنے طیارے میں سفر کرتے ہوئے مجھے یاد فرمایا اور اپنی ساتھ والی نشست پر بٹھاتے ہی سوال داغا کہ کیا محسوس کر رہا ہوں۔ میںنے کہا کہ آرمی چیف جنرل آ صف نواز کی پر اسرار طور موت واقع ہو چکی ہے۔دو روز قبل ہم ڈھاکہ اترے تھے تو ہمیں وزیر دفاع کے استعفے کی خبر ملی، اب میںنہیں سمجھتا کہ ا ٓپ کی حکومت دو ہفتے بھی نکال سکے گی۔یہ طیارہ اسلام آباد اترا تو میرے کان میں کسی نے بتایا کہ آصف نواز کی بیوہ نے پریس کانفرنس کر کے قتل کا الزام نواز شریف اور شہباز شریف پر لگایا ہے، میںنے وزیر اعظم کو آوازیں دیں کہ اپنی پیشین گوئی پر نظر ثانی کرتے ہوئے ان کی جلد رخصتی سے ا نہیں آگاہ کروںمگر وہ یہ جا اور وہ جا ، بہر حال چند روز بعد ان کی حکومت ٹوٹ گئی۔
اب بھی وہی کچھ ہو رہا ہے، حکومت اپنے جانے کا سامان خود کر رہی ہے، ماڈل ٹاﺅن میں گولیاں ٹورنٹو سے طاہرالقادری نے نہیں چلائیں‘ پنجاب حکومت کی پولیس نے چلائیں۔ پہلے تو کسی نے ذمے داری نہ لی مگر جب شہباز شریف سے استعفے کا مطالبہ بڑھا تو انہوںنے اپنے ایک وزیر رانا ثنا اللہ اور اپنے پندرہ سالہ بیوروکریٹ دوست توقیر شاہ کو قربانی کا بکرا بنایا۔ یہ ایک لحاظ سے اعتراف گناہ تھا تاہم وزیراعلی نے بچشم نم کہا کہ ان کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں مگر اس بیان پرکون کافر یقین کرے گا‘ وہ وزیراعلی جو ڈینگی مچھر کی تمام کمین گاہوں سے اچھی طرح واقف تھے انہیں اپنے ہی محلے میں بارہ چودہ گھنٹے فائرنگ کی بھلا کیسے خبر نہ تھی۔کئی گھنٹوں تک میٹرو بس رکی رہی، چونگی امر سدھو سے ماڈل ٹاﺅن تک فیروز پور روڈ کی ٹریفک گھنٹوں جام رہی اور میں خود اس ٹریفک میں پھنس کربمشکل کینٹ کی طرف جانے میں کامیاب ہوا تھا مگر شام تک واپسی کا راستہ نہ ملا اور پہلی مرتبہ اپنے دفتر کو آگاہ کیا کہ ا ٓج کالم نہیں بھیج سکوں گا، اس لئے کہ اپنالیپ ٹاپ اور وائی فائی ساتھ نہیں لایا۔ میں تو ایک دوائی لینے گھر سے نکلا تھا۔
رانا ثنا للہ اور توقیر شاہ پنجاب حکوت کے ٹاپ کے لوگ تھے، توقیر شاہ کی صفات تو خود وزیر اعلی نے گنوائیں اور یہی شخص ہے جو اس آپریشن کا ذاتی طور پر نگران تھا۔ میڈیا کی تو یہ بھی رپورٹ ہے کہ معطلی کے باوجود توقیر شاہ اور رانا ثنااللہ وزیر اعلی کے ماڈل ٹاﺅن والے دفتر میں بیٹھ کر سرکاری فرائض ادا کر رہے ہیں ، اگر اس میں ذرہ بھر حقیقت ہے تو پھر وزیر اعلی اس واٹر گیٹ اسکینڈل سے کیسے محفوظ رہ سکیں گے، یہ دیکھنے کی بات ہے۔میںنے رانا مشہود کے بیانات پڑھے ہیں ، انہوںنے اپنی پچھلی ساری عمر میں ایسا چونچلا بیان جاری نہیں کیا، ان کے بیانات راناثنا اللہ کے لب و لہجے کی چغلی کھا رہے ہیں تو ظاہر ہے یہ سب واٹر گیٹ اسکینڈل کے کردار ہیں اور اس کا پردہ فاش ہونے میں اب زیادہ وقت نہیں لگے گا، اس کے لئے عمران خان یا ڈاکٹر طاہرالقادری کو تردد کرنے کی ضرورت نہیں، میڈیا کا جادو سر چڑھ کر بولے گا۔حامد میر لندن جا چکا۔ جیو میدان سے جا چکا جو ایک رخ دکھا کر لوگوں کو چکمہ دینے میںکامیاب ہو جاتا تھا ، اب باقی ماندہ ٹی وی چینل جیو کے حشر سے دو چار ہونے کے متحمل نہیں ہو سکتے ، کہیں سے روزی روٹی بھی تو کمانی ہے، جھوٹ سے پیٹ تو نہیں بھر سکتا۔
ایوان اقتدار کی بنیادوں سے تیسری جو اینٹ کھسک چکی ہے ، وہ ارسلان افتخار کی ہے۔
ایسی ہی ایک ہیوی ویٹ اینٹ جسٹس رمدے کے بیٹے مصطفی رمدے کی تھی جو اقتدار کی دیوار سے ٹوٹ چکی۔
اقتدار کی دیوار میں بہت بڑا شگاف ہو چکا‘ حکومت کی بدحواسیاںابھی جاری ہیں‘ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کو تردد نہیں کرنا پڑے گا‘ حکومت اسی شاخ پر کلہاڑا چلاتی رہے گی جس پر اس کا خیال ہے کہ سختی سے پاﺅں جما کر بیٹھی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اگلی اینٹ بلوچستان کے وزیر اعلی ڈاکٹر عبدالمالک کی کھسکے گی۔ انہوں نے نہ راست فیصلہ کیا‘ نہ راستبازی سے کام لیا۔ یہ اینٹ کھسک گئی تو وزیر اعلی پنجاب کو اپنی فکر کرنا ہو گی۔ ان کا سارا انحصار چودھری نثار پر تھا۔مگر یہ اینٹ نا پائیدار ہو چکی۔روز روز سیمنٹ گارے کا پلستر کام نہیں دیتا۔