جگت بازی اور جارحانہ دنگل

صحافی  |  طیبہ ضیاءچیمہ
جگت بازی اور جارحانہ دنگل

پاکستان میں الا ماشااللہ علماء حضرات ہی جگت بازی نہیں کرتے ‘سیاستدانوں نے بھی جگت بازی کو شغل سمجھ رکھا ہے۔ عمران خان میں سلطان راہی کی روح بولتی ہے تو نواز شریف نے بھی شائستگی کا نقاب اتار پھینکا ہے۔ملک کا تین بار وزیراعظم رہنے کا اعزاز رکھنے والے عدلیہ کو جگت مارتے ہوئے بہت معیوب لگے۔ کہتے ہیں “ لگتا ہے عمران اورترین کیس میں مجھے ہی نا اہل کریں گے “۔طنزیہ چوٹ اور تمسخر انہ انداز بیان خواجہ آصف اور رانا ثنا اللہ جیسوں کو تو سوٹ کرتا ہے مسلم لیگ ن کی قیادت کو سوٹ نہیں کرتا۔لندن پہنچتے ہی کہتے ہیں کہ پاکستان کو جہنم بنانا چاہتے ہو تو ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے، ہم پاکستان کو بھنور سے باہر نکالیں گے”۔۔۔ تو موصوف پہلے خود کو عدالتی بھنور سے نکال لیں۔ عدلیہ کو بدنام کرنے سے فرد جرم بدل نہیں سکتی۔ملک کو سیاستدانوں کی منافقانہ اور کر پٹ پالیسیوں نے جہنم بنایاہے۔میاں محمد نواز شریف نے حویلی بہادر شاہ میں ایک جلسے کے دوران جارحانہ انداز میں اپوزیشن اور خاص کر عمران خان کو دعوت دی”جب کہو مقابلے کو تیار ہیں، ہم بھاگنے والے نہیں ہیں“۔میاں صاحب کے ان ریمارکس نے لاہور میں ایک جاپانی پہلوان انوکی اورپہلوان اکّی کے دنگل کی یاد تازہ کرا دی۔بالکل اسی انداز میں اکی پہلوان انوکی کو جاپان سے پاکستان پہنچنے اور اکھاڑے میں مقابلہ میں اترنے تک کے عرصے میں مسلسل للکارتا رہا، پھر ساری دنیا نے یہ تاریخی مقابلہ دیکھا کہ”انوکی“ نے پہلے منٹ میں اکی کو ”انوکی لاک“ لگا کر چت کردیا۔ اس طرح اکی پہلوان اس کے بعد شاید ہی کسی بڑے مقابلے کے لئے سامنے آیا ہو، اللہ کرے اب سیاسی میدان میں ایسا نہ ہو۔نواز شریف اور ان کے ساتھی سب اپنے جارحانہ بیانات کے ذریعے یہ تاثر دینے میں مصروف ہیں کہ جے آئی ٹی میں ان کے ساتھ یکطرفہ زیادتی یا ناانصافی کی جارہی ہے۔ کیا انہیں یہ معلوم نہیں کہ جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے بنائی ہے؟اداروں سے دنگل کی تعلیم کن بد بخت مشیروں نے دی۔آجکل پہلوان خاندان کے تاریخی دنگل کی یاد تازہ ہو رہی ہے۔

بیگم کلثوم نواز کے خاندان کی مشہور ترین شخصیات میں سے گاما پہلوان نمایاں ترین ہیں جو اپنے دور کے عظیم ترین پہلوان تھے اور صرف برصغیر ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں عظیم فاتح کے طور پر جانے جاتے تھے۔ نصف صدی پر محیط کیریئر میں دنیا کا کوئی ایک بھی پہلوان انہیں شکست دینے میں کامیاب نہ ہوسکا۔
دس سال کی عمر میں فن پہلوانی کا آغاز کرنے والے غلام محمد عرف گاما پہلوان کو اس کمسنی میں ہی مہاراجہ جودھ پور نے ساری ریاست سے آنے والے پہلوانوں میں فاتح قرار دیا۔ 1910ءتک وہ بھارت کے تمام بڑے پہلوانوں کو شکست دے چکے تھے جس کے بعد انہوں نے انگلینڈ کا سفر کیا اور وہاں ریسلنگ کے عالمی چیمپیئن سٹینس لاس زبسکو کو عبرتناک شکست دی۔ اس فتح کے بعد انہیں جان بل بیلٹ سے نوازا گیا اور وہ رستم زماں بن گئے۔ انگلینڈ سے واپسی کے بعد انہوں نے سات فٹ قد کے مالک بھارتی چیمپئن رحیم بخش سلطانی والا کو شکست دے کر رستم ہند کا اعزاز بھی حاصل کرلیا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ وہ اپنی زندگی میں کوئی مقابلہ نہیں ہارے اور بروس لی انہیں اپنا استاد مانتے تھے۔البتہ نواز شریف کا سیاسی دنگل انہیں سیاسی شکست دے چکا ہے ۔ان کی عوام کی عدالت علامہ رضوی کے دھرنے پر کہاں غائب تھی ؟ حکومتی وزرا اور مشیران دھرنے کے خوف سے اپنے کھڈوں میں بند ہو گئے تھے۔ایک آدھ جلسہ فیص آباد میں بھی ہوجاتا تو عوام کی عدالت کا رد عمل کھل کر سامنے آجاتا۔ دھرنے کا ہی کمال تھا کہ نواز لیگ کے جس دروازے پر گھنٹی بجائی جائے اندر سے ایک ہی آواز سنائی دیتی ہے ،لبیک یا رسول اللہ۔۔۔اور عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر پوری مسلم لیگ ن نے چھاتیوں پر مہر نبوت اور نعلین مبارک کے بروچ سجا کر سیاسی محافل میلاد کرائیں۔عوام کی عدالت نے کھری کھری سنایئں۔اب تمام بیانات بے اثر ثابت ہو رہے ہیں۔عوامی عدالت کا شعور بیدار ہو رہا ہے۔ ملک جہنم سے نکل رہا ہے۔ جگت بازی اور جارحانہ دنگل اپنی موت آپ مر جائیں گے۔
٭٭٭٭٭