لوگوں نے بھٹو کو دیکھا میں نے محسوس کیا

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
لوگوں نے بھٹو کو دیکھا میں نے محسوس کیا

آصف زرداری نے بہت خوبصورت گفتگو کرنا شروع کر دی ہے۔ شعر بھی صحیح پڑھتے ہیں۔ بلھے شاہ کا معروف شعر پڑھا۔ برمحل، برملا اور بالکل صحیح شعر پنجابی زبان میں ہے۔
بلھے شاہ اساں مرنا ناہیں
گور پیا کوئی ہور
نواز شریف نے اردو زبان میں غلط شعر پڑھا۔ شعر بھی مرزا غالب کا تھا۔ دوسری بار تھوڑی سی تصحیح کے بعد دوبارہ غلط پڑھا مگر دونوں بار سامعین نے واہ واہ کی۔ پریس کانفرنس مشاعرہ بنتے بنتے رہ گئی۔ غالب کا شعر بہت بامعنی اور خوبصورت ہے۔
زندگی اپنی جب اس طور سے گزری غالب
ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
یہ شعر میرے جیسے غریب اور محروم آدمی کی زندگی گزرنے کی صدا ہے۔ جس طور سے نواز شریف کی زندگی گزری ہے اس طرح زندگی گزارنے کا کوئی عام آدمی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ جاتی امرا میں نواز شریف کا گھر سینکڑوں ایکڑ زمین پر ہو۔ وہاں سوئمنگ پول عجائب گھر، چڑیا گھر، خوبصورت جنگل جہاں دنیا جہان کے پرندے اور جانور ہوں، جہاں ہر طرح کے گیم کھیلنے کے لیے میدان ہوں۔ ہر چیز میسر ہو۔ سب کچھ وافر ہو جس کے لیے دل چاہے اور صرف خیال ہی آئے وہ چیز فوراً حاضر کر دی جائے۔ مریم نواز کہتی ہیں کہ میرے دادا میاں محمد شریف پاکستان کے امیر ترین آدمی تھے تو نواز شریف کا نام دولت اور اثاثوں کے حوالے سے عالمی سطح پر لیا جاتا ہے جنہیں پتہ ہی نہ ہو کہ ان کے پاس کتنی دولت ہے، وہ آدمی مرزا غالب کا شعر پڑھے تو حیرانی ہوتی ہے بلکہ پریشانی ہوتی ہے۔
زندگی اپنی جب اس طور سے گزری غالب
ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
اس پر ن لیگ کے امیر کبیر لوگ واہ واہ کریں تو آدمی سوچنے لگے کہ پھر ہم نے زندگی نہیں گزاری۔ زندگی نے ہمیں گزارا ہے۔ ہمارے لیے تو امیر کبیر وزیر شذیر ہی خدا سے کم نہیں لگتے۔
ہر شخص بن گیا ہے خدا تیرے شہر میں
نواز شریف خوش قسمت ہیں کہ وہ تین بار پاکستان کے وزیراعظم بنے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے بہت معصومیت سے سوال کیا۔ اب نواز شریف اور کیا چاہتا ہے۔ انہیں سیاست سے ریٹائر ہو کر کوئی اور کام کرنا چاہیے۔ شکر ہے کہ نواز شریف نے شعر کا پہلا مصرع غلط پڑھا۔ دوسری بار بھی غلط پڑھا۔ نواز شریف اور زرداری کے پڑھے گئے اشعار کا موازنہ کر لیں۔ دیکھیں کس کی سوچ گہری ہے۔ ایک شعر میں مایوسی کا اظہار ہے۔ ایک شعر میں مرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا۔
زرداری صاحب نے اپنے بیٹے کو چیئرمین بنا دیا اور خود شریک چیئرمین بن گئے۔ اپنے بچوں کو اپنے نام کے علاوہ بھٹو صاحب اور شہید بی بی کے ساتھ نسبت بھی دی۔
ایک بات یونہی میرے ذہن میں آئی کہ یہ شعر ایک دولت مند حکمران نے پڑھا تو مرزا غالب کے دل پر کیا گزری ہو گی۔ نواز شریف موڈ میں ہوں تو بہت دل خوش کرنے والی بات کر جاتے ہیں۔ ان سے عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلی کے حوالے سے سوال کیا گیا تو نواز شریف نے کہا کہ عمران اور جہانگیر ترین کے لیے نااہلی کے مقدمے میں مجھے ہی نااہل کر دیا جائے گا۔
بلاول بھٹو زرداری نے بھی بہت ولولہ انگیز گفتگو کی۔ ان کا رویہ جارحانہ ہوتا ہے اور وقت کا تقاضا بھی یہی ہے۔ زرداری صاحب کی کشادہ دلی دیکھئے کہ انہوں نے بلاول سے پہلے تقریر کی۔ آخر میں بلاول بولے اور خوب بولے مخالفین پر غصے کی بارش کر دی۔
زرداری صاحب نے ایسی باتیں کیں کہ کوئی دوسرا سیاستدان نہیں کر سکتا۔ زرداری صاحب کی بات آ ہستگی سے دل میں اتر جاتی ہے۔ زرداری صاحب کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ میں تقریر کرنے کے لیے کھڑا ہوا تو میرے ہاتھ میں بی بی کی تصویر تھی۔ ہم بات کرتے ہیں تو ہمارے شہدا بھی سنتے ہیں۔
لوگوں نے بھٹو کو دیکھا میں نے انہیں محسوس کیا۔ میں لوگوں کے پاس بلاول اور آصفہ کو چھوڑ کر جا رہا ہوں تم لوگ ان سے تعاون کرنا۔ وہ تمہاری حفاظت کریں گے۔