آنگ سان سوچی کے دیس میں

کالم نگار  |  جاوید صدیق
آنگ سان سوچی کے دیس میں

برما کی آزادی کے بعد وہاں زیادہ عرصہ فوج کی حکمرانی رہی ہے۔ برما میں فوج کی حکمرانی کے خاتمے کے لئے اپوزیشن کی جس رہنما کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی اور جسے برما میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی بحالی کی جدوجہد پر امن کا نوبل انعام دیا گیا وہ بھی ایک فوجی جرنیل کی بیٹی ہیں۔ آنگ سان سوچی کے والد جنرل آنگ سان برما کی جنگ آزادی کے ہیرو سمجھے جاتے ہیں۔ جولائی 1947ءمیں جب برما آزادی کے لئے جدوجہد کر رہا تھا تو آنگ سان سوچی کے والد جنرل آنگ سان کو قتل کرایا گیا تھا۔ جب جنرل آنگ سان قتل ہوئے تو ان کی بیٹی آنگ سان سوچی صرف دو برس کی تھیں۔ برما کی آزادی کے بعد آنگ سان سوچی اپنی والدہ ڈاکھن کے ساتھ 1960ءمیں بھارت چلی گئیں۔ ان کی والدہ کو بھارت میں برما کا سفیر مقرر کیا گیا تھا۔ بھارت سے موصوفہ لندن چلی گئیں جہاں انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں فلسفے اور سیاسیات کی تعلیم حاصل کی۔
1988ءمیں جب آنگ سوچی واپس اپنے وطن برما (میانمار) آئیں تو اس وقت برما کی فوجی حکومت نے سیاسی اور جمہوری آزادیاں سلب کی ہوئی تھیں۔ آنگ سان سوچی کی موجودگی میں ہزاروں شہری جمہوری حقوق کی بحالی کے لئے سڑکوں پر آ گئے۔ آنگ سان سوچی نے جمہوریت کی بحالی کی اس تحریک کی قیادت سنبھالی اور ملٹری جنتا کے خلاف تقریریں شروع کر دیں۔ وہ جمہوریت نواز تحریک کی قائد بن گئیں۔ آنگ سان سوچی نے جمہوریت کی بحالی کے مطالبہ کی حمایت کر دی۔ برما کی فوجی حکومت نے جمہوریت نواز تحریک کو کچل دیا اور آنگ سان سوچی کو نظربند کر دیا۔ 1988ءسے لے کر 2001ءتک وہ نظربند رہیں لیکن ان کی پارٹی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی جمہوری اور شہری حقوق کے لئے جدوجہد کرتی رہیں۔ اس جدوجہد کے دوران وہ عالمی سطح کی لیڈر اور انسانی آزادیوں کے لئے جدوجہد کی علامت بن گئیں۔ امریکہ‘ مغربی ملکوں اور دنیا بھر کی جمہوریت پسند قوتوں نے ان کی حمایت کی۔ 2015ءکے انتخابات میں انہوں نے حصہ لیا تو ان کی پارٹی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی۔ آنگ سان سوچی کو امن کا نوبل انعام بھی دے دیا گیا لیکن جب محترمہ اقتدار میں آئیں تو انہوں نے برما کی اقلیتوں خاص طورپر مسلمانوں کے حقوق کو یکسر نظرانداز کر دیا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ آنگ سان سوچی جو جمہوری شہری حقوق کے لئے جدوجہد کی عالمی علامت کے طورپر مشہور ہیں برما کے روہنگیا مسلمانوں کو اپنا شہری تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ موصوفہ کی حکومت میں روہنگیا مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔ بدھ مذہب کے پیرو کاروں نے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کو اپنا معمول بنا لیا ہے اور اب تو فوج نے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی شروع کر دی ہے‘ ان کی آبادیوں پر بمباری کی جا رہی ہے‘ ان کے گھروں کو آگ لگائی جا رہی ہے‘ پچھلے ایک ہفتے میں نوے ہزار سے زیادہ برمی مسلمان برما کو چھوڑ کر بنگلہ دیش آ گئے ہیں لیکن بنگلہ دیش بوجوہ برما کے روہنگیا مسلمانوں کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ نوبل انعام یافتہ حکمران آہنگ سان سوچی کی حکومت میں روہنگیا مسلمانوں کا قیمہ بنایا جا رہا ہے۔ ایسی ویڈیوز اب عام ہیں جن میں مسلمانوں کے اعضاءکاٹ کر انہیں دیگچوں میں ابالتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ روہنگیا مسلمان خواتین کی عصمت دری تو معمول بن کر رہ گئی ہے ان حالات میں اس کا نوبل انعام لینے والی حکمران نے اپنے ہونٹ سی لئے ہیں۔ اقوام متحدہ امریکہ اور مغربی ممالک جو انسانی حقوق کے بڑے علمبردار ہیں اس قتل عام پر خاموش ہیں۔ او آئی سی نے حسب دستور ایک ڈھیلا ڈھالا مذمتی بیان جاری کیا ہے لیکن مسلمان ملکوں نے برما کو کیوں سخت وارننگ جاری نہیں کی۔ برما کے ساتھ کسی مسلمان ملک نے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان نہیں کیا۔ نہ کسی ملک نے برما کے سفیر کو ملک بدر کیا۔ دنیا بھر کے لاکھوں افراد نے سوشل میڈیا کے ذریعہ یہ مطالبہ کیا ہے کہ آنگ سان سوچی سے اس کا نوبل انعام واپس لیا جائے جس کی حکومت میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ انسانیت سوز مظالم ہو رہے ہیں ان کی نسل کشی کی جارہی ہے پاکستان کی نوبل انعام یافتہ خاتون ملالہ یوسف زئی نے بھی برما کے مسلمانوں کے ساتھ مظالم کی مذمت کی ہے۔ دنیا کے دوسرے نوبل انعام یافتہ دانشوروں‘ ادیبوں‘ شاعروں اور ان کا نوبل انعام لینے والوں کو آنگ سان سوچی کی مذمت کرنی چاہئے۔ برما ایک چھوٹا سا ملک ہے لیکن اسے چین کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ اس کا دفاع اور معیشت کا انحصار چین پر ہے۔ پاکستان سمیت دوسرے اسلامی ملک چین کے ذریعہ برما کو مجبور کر سکتے ہیں وہ مسلمان اقلیت پر مظالم بند کرے۔