برما کے بد نصیب مسلمان

صحافی  |  طیبہ ضیاءچیمہ
برما کے بد نصیب مسلمان

برما جسے میانمار کہا جاتا ہے۔ ب±دھ کے پیروکاروں کا ملک ہے۔ اراکان اس کا ایک صوبہ ہے جو بیس ہزار مربع میل پر مشتمل ہے۔ اراکان مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔ اس میں تقریباً تیس لاکھ سے زائد مسلمان آباد ہیں۔ جو اس کی تقریباً 90 فیصد آبادی ہے۔ اراکان دراصل تاریخی حیثیت کا حامل علاقہ ایک زمانے میں باقاعدہ خودمختار خوشحال مسلم سلطنت تھی۔ اس سلطنت کی ابتداء1420عیسوی صدی کے دوران اس کے پہلے مسلمان بادشاہ سلیمان شاہ سے ہوئی۔ اراکانی مسلم برمی لوگ نہیں تھے۔یہ تاریخی مذہبی، نسلی اور لسانی کمپوزیشن کے اعتبار سے الگ قوم ہیں۔ جو فارسی، ترکی، عربی افغانی قوموں کا مرکب ہے۔ دراصل ان قوموں کے تاجر اس علاقے میں آکر آباد ہوتے گئے اور ان پر مشتمل اراکانی مسلمانوں کی ایک الگ قوم معرض وجود میں آئی۔ یہ ”روہنگیا“ قوم کہلاتی ہے۔ ان کی زبان بھی روہنگیا کہلاتی ہے جو ترکی، فارسی عربی، افغانی، ہندی اور اردو زبانوں کا آمیزہ ہے۔ ساڑھے تین سو سال سے زائد عرصہ یہاں مسلم حکمران رہے۔ آخری مسلمان بادشاہ شجاع الملک مغلوں سے تھا۔ 1784ءمیں انگریز نے اس پر قبضہ کیا اور 1852میں انگریز نے پورے برما پر قبضہ کر لیا۔ اور اراکان کی ذاتی الگ حیثیت ختم کر کے اسے برما کا صوبہ بنا دیا اور برما کو اراکان سمیت ہندوستان میں شامل کر لیا۔ اس طرح اراکان کی الگ‘ آزاد‘ خودمختار اور بحیثیت خوشحال سلطنت حیثیت اور تشخص کو ختم کر دیا گیا۔ تقسیم ہند کے فیصلے کے بعد 1948ءمیں انگریز نے برما کو انڈیا سے الگ کیا تو اراکان کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ کچھ حصہ مشرقی پاکستان اور بڑا حصہ برما میں شامل کیا گیا۔ مشرقی پاکستان والا حصہ بعد میں بنگلہ دیش کا حصہ بنا۔ برصغیر میں ہندو مسلم عقائد کی طرح برما میں بھی بدھ مت عقیدے کے حامل بتوںکے پجاری توہم پرستانہ عقیدہ رکھنے والے اور اللہ تعالیٰ کے پرستار اکٹھے نہیں رہ سکے۔ 1982ءمیں برما حکومت نے اراکان کے مسلمانوں کے شہری حقوق چھیننے کا اعلان کر دیا۔ اس صورت حال سے تنگ آکر بے شمار اراکانی مسلم ہجرت پر مجبور ہوئے۔ تقریباً 11 سے 5 لاکھ اراکانی مسلمان متحدہ عرب امارات میں 6 لاکھ سے زائد سعودی عرب میں اتنے ہی تقریباً ملائشیا میں ایک بڑی تعداد پاکستان میں آباد ہوئی جبکہ 7 لاکھ کے قریب بنگلہ دیش میں ہیں۔

برما(میانمار) میں 135 قسم کی نسل سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں جو مختلف علاقوں سے یہاں آکر آباد ہوئے۔ جن میں 108 نسلی گروہوں کو سرکاری سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے باقی کو تسلیم کرنے سے یعنی برما کا باشندہ ہونے سے روکا جا رہا ہے۔ اور ان گروہوں میں مسلم اکثریتی گروہ بھی شامل ہیں جنہیں اس انتشار کا سامنا ہے اور مسلمانوں کے لئے دو طرح کی نفرتوں کا سامنا ہے۔ ایک نسلی دوسری مذہبی۔ مسلمان گیارہویں صدی سے برما میں رہ رہے ہیں۔ بدھ مت کے پیروکاروں کا کہنا ہے کہ مسلمان برما میں باہر سے آئے ہیں اور انہیں برما سے بالکل اسی طرح ختم کردیں گے جس طرح اسپین سے عیسائیوں نے مسلمانوں کو ختم کردیا تھا۔ واضح رہے کہ برما کا ایک صوبہ اراکان وہ سرزمین ہے جہاں خلیفہ ہارون رشید کے عہدِ خلافت میںمسلم تاجروں کے ذریعہ اسلام پہنچا ، اس ملک میں مسلمان بغرض تجارت آئے تھے اور اسلام کی تبلیغ شروع کردی تھی،اسلام کی فطری تعلیمات سے متاثرہوکر وہاں کی کثیر آبادی نے اسلام قبول کرلیا اورایسی قوت کے مالک بن بیٹھے کہ 1430ءمیں سلیمان شاہ کے ہاتھو ں اسلامی حکومت کی تشکیل کرلی، اس ملک پر ساڑھے تین صدیوںتک مسلمانوں کی حکومت رہی ، مسجدیں بنائی گئیں ، قرآنی حلقے قائم کئے گئے ، مدارس وجامعات کھولے گئے ، ان کی کرنسی پر’ لاالہ الا اللہ محمدرسول اللہ ‘کندہ ہوتا تھا اور اس کے نیچے ابوبکر، عمر،عثمان اور علی نام درج ہوتا تھا۔ اس ملک کے پڑوس میں برما تھا جہاں بدھسٹوں کی حکومت تھی ، مسلم حکمرانی بودھسٹوں کو ایک آنکھ نہ بھائی اور انہوں نے 1784ءمیں اراکان پر حملہ کردیا، بالآخر اراکان کی اینٹ سے اینٹ بجادی ، اسے برما میں ضم کرلیااوراس کا نام بدل کر میانمار رکھ دیا۔مسلمانوں پر مظالم نئے نہیں بلکہ صدیوں سے مقامی مسلمان آبادی حکومتوں کے مظالم سہتے چلی آرہی ہے، لیکن مسلمان آبادی کے اجتماعی قتلِ عام کا آغاز 1970ءکی دہائی میں ا±س وقت ہوا، جب برما اور بنگلہ دیش کے درمیان مسلمانوں کو ایک دوسرے کی حدود میں دھکیلنے پر ایک تنازع پیدا ہوا۔ یہ ا±ن دنوں کی بات ہے جب بنگلہ دیش تازہ تازہ پاکستان سے جدا ہوا تھا اور وہاں پر شیخ مجیب الرحمن کا طوطی بولتا تھا۔
بنگلہ دیشی حکومت کا کہنا تھا کہ وہ برما کے مہاجرین کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی، لہٰذا برمی مسلمان تارکینِ وطن واپس اپنے ملک جائیں جبکہ برمی حکومت مسلمانوں کو قبول کرنے کو تیار نہیں تھی۔ 1992ءمیں دونوں ملکوں کے درمیان اقوامِ متحدہ کی وساطت سے ایک معاہدہ ہوا جس کے تحت بنگلہ دیش میں موجود تمام مسلمان مہاجرین کو واپس میانمار منتقل کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ اس معاہدے کے وقت بنگلہ دیش میں ڈھائی لاکھ برمی مسلمان پناہ لیے ہوئے تھے۔
برما نے اعتراض کیا کہ ہجرت کرکے بنگلہ دیش آنے والے مہاجرین کے بنگلہ دیش میں پیدا ہونے والے بچے بنگالی شہری ہوں گے جن کا برما سے کوئی تعلق نہیں۔ اس بہانے کی آڑ میں میانمار حکومت نے 12 ہزار بچوں کو بنگالی شہر ی قرار دے کر انہیں ان کے والدین سمیت لینے سے انکار کر دیا۔برما کے مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ ایک مرتبہ پھر زور پکڑ چکا ہے۔ لاکھوں روہنگیا اپنے ہی ملک میں بے گھر اور بے ریاست ہونے پر مجبور ہو گئے، یعنی وہ دنیا کی ان بدقسمت اقلیتوں میں شامل ہو گئے جو اس کرہ ارض پر تو رہتے ہیں، لیکن قانونی طور پر کسی بھی ملک کے شہری نہیں ہیں۔ میانمار میں 25اگست سے شروع ہونے والی پرتشدد کارروائیوں کی نئی لہر کے بعد سے اب تک 87ہزار سے زائد افراد بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں جن میں سے اکثریت روہنگیا مہاجرین کی ہے۔برمی مسلمانوں کی تشویشناک صورتحال پر سعودی عرب خاموش ہے۔ پاکستان بے بس ہے۔پہلے ہی افغان مہاجرین کو پناہ دینے پر پشیمان ہے۔ اقوام متحدہ تماشائی ہے۔