(سعودی شہزادوں کے خلاف بھی کریک ڈاﺅن)....

(سعودی شہزادوں کے خلاف بھی کریک ڈاﺅن)....

قیامت کی نشانی ہے یا انقلاب کی علامت کہ پاکستانی ہی نہیں سعودی شہزادے بھی کرپشن اور منی لانڈرنگ کے جرم میں پکڑے جا رہے ہیں گو کہ پاکستانی حکمران خاندان ابھی تک گرفتار نہیں کیا جا سکا جبکہ سعودی شہزادوں کی گرفتاریاں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔ سعودی عرب میں کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار ہونے والے شہزادوں میں شہزادہ ولیدبن طلال بھی شامل ہیں۔ ذرائع سے سامنے آنے والی ولید بن طلال کی گرفتاری کی خبر درست ہے تو دنیا بھر کی بڑی کاروباری شخصیات کے لئے یہ بات کسی دھچکے سے کم نہیں کیونکہ کھرب پتی سعودی شہزادے نے دنیا کے نامور ترین مالیاتی اداروں میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ شہزادہ ولید بن طلال سعودی شاہ سلمان کے سوتیلے بھتیجے ہیں اور دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔
شہزادہ ولید بن طلال ذاتی سفر کے لئے ’سپر جمبو‘ استعمال کرتے ہیں ،ان کے ذاتی ہوائی جہاز کی قیمت500 ملین ڈالرز ہے، ولید بن طلال کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی بیٹی کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات ہیں۔ ولید کی میڈیا کے شعبوں میں بھاری سرمایہ کاری موجود ہے اور ایک مشہور عالمی بینک میں بھی ان کے شیئرز ہیں،وہ دنیا کے 100 بااثر افراد میں بھی شامل رہ چکے ہیں۔
ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے پر شہزادہ ولید بن طلال نے کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے دوران امریکہ سعودی تعلقات بہت بہتر ہوں گے کیونکہ ٹرمپ کے خاندان کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات ہیں اور وہ ٹرمپ کو قریب سے جانتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب میں خواتین پر گاڑی چلانے کی پابندی ختم کروانے میں بھی ان کی کوششیں شامل ہیں۔ سعودی عرب میں کرپشن کے الزام میں موجودہ اور سابق وزراءاور 10شہزادوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
سعودی عرب میں کرپشن اور منی لانڈرنگ کے خلاف شاہ سلمان نے بڑا قدم اٹھالیا، سابق وزراءاور شہزادوں کو سعودی شاہ کے حکم پر چند گھنٹے پہلے بنائی گئی اینٹی کرپشن کمیٹی نے گرفتار کیا ہے۔ پاکستان کی حکمران فیملی پر نیب مہربان ہے ورنہ یہاں بھی گرفتاریاں عمل میں آچکی ہوتیں۔ ادارے نرم ہیں پھر بھی گلہ ہے کہ کیوں نکالا گیا؟ سعودی عرب نے اپنے شاہی محل میں اینٹی کرپشن نقب لگا لی ہے، ان کے تیور بتا رہے ہیں کہ وہ پاکستان کے کسی خاندان کی اس مرتبہ مدد یا حمایت نہیں کریں گے۔ اسحاق ڈار کے عمرے بھی اللہ قبول فرمائے، ہر نیکی بدی میں اپنے قائد کے شانہ نشانہ رہے۔ بیچارے اب وہ بھی بستر سے جا لگے۔ پاناما کا برا ہو، کمبخت نے بڑوں بڑوں کو بستر سے لگا دیا۔
٭٭٭٭٭