” ووٹوں کے تَھیلے ، کِتنے مَیلے؟“

کالم نگار  |  اثر چوہان
” ووٹوں کے تَھیلے ، کِتنے مَیلے؟“

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 125 کے بارے میں پاکستان تحریک انصاف کے سابق امیدوار جناب حامد خان کی انتخابی عُذر داری منظور کرتے ہُوئے الیکشن ٹریبونل کے جج جناب جاوید رشید محبوبی نے ، 11 مئی 2013ءکو ہونے والا انتخاب کالعدم قرار دے دِیا ہے ۔ اِس حلقے سے کامیاب اُمیدوار خواجہ سعد رفیق کو "De Seat"۔ یعنی قومی اسمبلی کی نشست سے محروم کردیا گیا ہے ۔ اُس کے ساتھ ہی خواجہ صاحب رکن قومی اسمبلی نہیں رہے ۔ خواجہ صاحب کہتے ہیں کہ ” میں "Disqualify" (نااہل ) نہیں ہوا“۔ دُرست فرمایا۔

خبروں کے مطابق حلقہ این اے 125 ( لاہور ) کے سات پولنگ سٹیشنز کے ریکارڈ کے تھیلوں سے جعلی ووٹ برآمد ہوئے ۔ بے ضابطگی کے ثبوت مِلے۔ ریٹرنگ افسروں نے غیر مصدقہ نتائج کی بنیاد پر حتمی نتائج کا اعلان کردِیا تھا ۔ الیکشن کے دوران انتخابی عمل پر مامور عملے نے ذمے داری کا مظاہرہ نہیں کِیا۔ نتائج کی تیاری میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں ۔“ الیکشن ٹریبونل نے یہ بھی تجویز کیا ہے کہ ”الیکشن کمِشن ایسے قوانین بنائے کہ آئندہ غفلت برتنے والے افسروںکے خلاف بھی کارروائی کی جاسکے“۔
گویا الیکشن کمِشن نے ابھی تک ایسے قوانین ہی نہیں بنائے کہ ” ووٹوں کے تھیلوں سے جعلی ووٹ برآمد ہونے ، بے ضابطگی کے ثبوت مِلنے، غیر مُصدّقہ نتائج کی بنیاد پر حتمی نتائج کا اعلان کرنے والے افسروں اور انتخابی عمل پر مامور عملے سے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے پر انہیں کوئی سزا دی جاسکتی ہو۔ اب 2013ءمیں انتخابات کرانے والے چیف الیکشن کمِشنر اور دوسرے ارکان کو کون پکڑ کر لائے؟ جو ہوگیا، سو ہوگیا۔ بقول چودھری شجاعت حسین ” ہُن مِٹی پاﺅ!“ مَیں اپنے کالم میں کئی بار لِکھ چُکا ہوں کہ” جب بھی کسی انتخابی حلقے میں ضمنی انتخاب ہوتا ہے تو اُس کی سزا ووٹروں کو مِلتی ہے ۔ امیدوار صاحبان ووٹر خواتین و حضرات کو مِنت ترلا کر کے یا ہانک کر ووٹ ڈالنے کے لئے پولنگ پر لے جاتے ہیں ۔ قومی خزانے سے بھاری رقوم بھی خرچ ہوتی ہیں۔
خواجہ سعد رفیق کہتے ہیں کہ ” حلقہ این اے 125 کا الیکشن کالعدم قرار دے کر میرے ایک لاکھ 30 ہزار ووٹوں کوریٹرنگ اور پریزائیڈنگ افسروں کی بدانتظامی کی سزا دی گئی ہے!! یہ درست ہے کہ حلقہ کے ووٹروں کو دوسری بار ووٹ ڈالنے کی سزا بھگتنا ہوگی لیکن خواجہ سعد رفیق بھی تو دو سال تک محکمہ ریلوے کے سیاہ سفید کے مالک رہے ہیں اور انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی کے سابق وزیر ریلوے جناب غلام احمد بلور سے زیادہ ” نام کمایا “ ہے اور مسلم لیگ (ن) کے ” لیڈر“ کی حیثیت سے اپنا اور اپنے قائدین ” شریفَین “کی عِزّت اور شہرت میں بھی اضافہ کِیا ہے ۔
مجھے تو قانون ،آئین اور شریعت سے کچھ زیادہ واقفیت نہیں ہے کہ ” جعلی ووٹوں ، بے ضابطگی کے ثبوتوں اور غیر مصدقہ نتائج کی بنیاد پر ( کسی انتخاب) کے حتمی نتائج کے بعد قومی اسمبلی کے رکن خواجہ سعد رفیق نے وفاقی وزیر ریلوے کی حیثیت سے جو فیصلے کئے اور اُن کے حکم سے دو سال میں مختلف شعبوں کے لئے اربوں روپے خرچ کئے اُن کی” آئینی ، قانونی اور شرعی حیثیت“کیا ہے اور خواجہ صاحب نے سرکاری خرچ پر اپنے اہل خانہ کو ساتھ لے کر جو عمرہ کِیا تھا اور سعودی عرب کے پاکستانیوں سے انہیں جو کئی لاکھ روپے کے تحائف مِلے تھے کیا وہ سرکاری خزانے میں جمع کرادیں گے یا نہیں؟۔ اُن دِنوں ایک خبر شائع ہوئی تھی کہ ” خواجہ سعد رفیق کا گمشدہ بیگ مِل گیا ہے جِس میں لاکھوں روپے کا قیمتی سامان تھا“
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ” اگر عمران خان حلقہ این اے 125 میں عمران خان میرے مقابلے میں انتخاب لڑیں تو مَیں خود کو قِسمت کا دھنی سمجھوں گا “۔ خواہش اچھی ہے ۔ خواجہ صاحب اُن سیاسی کارکنوں میں سے ہیں جو سیاست میں آ کر”دھنی“ ( یعنی دھن ،دولت کے مالک ) ہوگئے اندرون لاہور سے ڈیفنس تک کا سفر کافی محنت طلب تھا۔مسدّسِ حالی کے مصنف مولانا الطاف حسین حالی نے ” اردد کے دھنی“ کی ترکیب خُوب ایجاد کی تھی جب کہا کہ....
” اردد کے دھنی وہ ہیں جو دِلّی کے ہیں روڑے
پنجاب کو نہ مَس اُس سے ،پُورب نہ دکھن کو“
سوال یہ ہے کہ عمران خان ، ضمنی انتخاب اپنے سے کسی جونیئر سیاستدان کے مقابلے میں کیوں لڑیں؟ ہاں ! اگر وزیراعظم نواز شریف اُن کے مقابلے میں اُتریں تو ”مقابلہ کانٹے دار “ ہوسکتا ہے ۔ دونوں لیڈروں میں سے اگر کوئی جیت گیا تو اُس حلقہ کی خالی کی گئی قومی نشِست کا انتخاب پھر ہوگا ۔ کیا قومی خزانہ اِس طرح کی بچگانہ خواہشوں کا متحمل ہوسکتا ہے؟ اُس کے ووٹر صاحبان اور صاحبات دوسری بار ووٹ ڈالنے کی سزا کیوں بھگتیں؟۔ خواجہ صاحب کہتے ہیں کہ ” میرا بس چلے تو مَیں دوبارہ عوام کی خدمت میں جاﺅں“۔ ”بس“طاقت/ قوت کو کہتے ہیں ۔ جِس شخص کے پاس طاقت / قوت نہ ہو اُسے بے بس کہا جاتا ہے ۔ مرزا غالب نے لفظ ”بس “کو کسی اور مفہوم میں استعمال کِیا تھا ۔ جب کہا کہ ....
” بَس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میّسر نہیں اِنساں ہونا“
فی الحال مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے فیصلہ نہیں کِیا کہ وہ حلقہ این اے 125 کے بارے الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جائے گی یا ضمنی انتخاب میں ؟خواجہ سعد رفیق یا کسی "Dark Horse" کو مِیدان میں اُتارے گی۔ مختلف نیوز چینلوں پر اینکر پرسنز/ تجزیہ کاروں کا مشورہ ہے کہ ” مسلم لیگ (ن) کی قیادت قانون کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے سیاست کا راستہ اختیار کرے “۔ عام طور پر رستے کا انتخاب کرنے میں سیاستدانوں اور عاشقوں کا طرزِ عمل مختلف ہوتا ہے، اُستاد شعور نے کہا تھا کہ....
” ہمارے گھر کی طرف بُھول کے جو آ نکِلے
وہ سر جُھکا کے چلے ، راستہ بچا کے چلے“
اگر مسلم لیگ (ن) کی قیادت قانون کا راستہ ( الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرے تو ممکن ہے اُسے زیادہ وقت مِل جائے لیکن سیاست کا راستہ اختیار کرنے سے تو فیصلہ 60 دِن میں ہو جائے گا ۔ عمران خان سمیت پاکستان تحریکِ انصاف کے سبھی قائدِین اور کارکنان خواجہ سعد رفیق کو وزارت سے فارغ خطّی دِلوا کر بہت خوش ہیں۔ مختلف نیوز چینلوں پر اُن کے بھنگڑے اور لُڈّیاں ڈالنے اور مٹھائیاں تقسیم کرنے کے مناظر دکھائے جا رہے ہیں ۔ اُدھر ” ماہرِ عمرانیات“ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ ” پاکستان تحریکِ انصاف کو خوش فہمی کا شِکار ہونے کا حق حاصل ہے ، مسلم لیگ (ن) دباﺅ میں نہیں ہے ۔ پرویز رشید شاعر نہیں ہیں وگرنہ “ حضرتِ داغ دہلوی کی طرح یوں کہتے ....
” وہ خریدار ہی دِل کے نہ ہُوئے کیا کیجئے؟
ہم بھی کچھ دَبتے، کچھ اُن کو بھی دَبایا جاتا“
الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے بعد جُگت بازی کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ” سات پولنگ سٹیشنز کا ریکارڈ چیک کِیا گیا ہے “۔ ایک ضرب المثل ہے کہ ”دیگ میں سے صِرف ایک ہی چاول دیکھتے ہیں ، اِس طرح دیگ کے باقی چاولوں کے بارے میں اندازہ ہو جاتا ہے کہ کچّے ہیں یا گل گئے ہیں “۔ کوئی مانے یا نہ مانے لیکن حلقہ 125 این اے ( لاہور) کا الیکشن کالعدم قرار دئیے جانے کے بعد دوسرے حلقوںکے تھیلے بھی کُھلنے والے ہیں۔ پھر پتہ چلے گا کہ ” ووٹوں کے تَھیلے کِتنے مَیلے ہیں؟“