اسحاق ڈار کی سرکاری مصروفیات پر بھی اپوزیشن کی ’’سیاسی پوائنٹ سکورننگ‘‘

اسحاق ڈار کی سرکاری مصروفیات پر بھی اپوزیشن کی ’’سیاسی پوائنٹ سکورننگ‘‘

منگل کو سینیٹ کا اجلا س مقررہ وقت پر شروع ہوا اور کم و بیش تین گھنٹے تک جاری رہنے کے بعد بدھ کی صبح 10بجے تک ملتوی کر دیا گیا‘ فی الحال اپوزیشن حکومت کیلئے کوئی پرابلم پیدا نہیں کر رہی، چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے پورے اجلاس کی صدارت کی، ’’سخت جان‘‘ چیئرمین خود ہی اجلاس کی صدارت کرتے ہیں۔ ایوان میں قائد ایوان راجہ محمد ظفر الحق اور قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن بھی موجود رہے۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحق ڈار کی باکو میں مصروفیات کے باعث  چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے وقفہ سوالات کو معطل کر دیا ،وقفہ سوالات کے دوران وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کی غیر حاضری کے حوالے سے میاں رضا ربانی نے ایوان کی رائے معلوم کی تو سینیٹر سعید غنی نے کہا کہ اسحاق ڈار ہر وقت چھٹی کی درخواست دے دیتے ہیں، وقفہ سوالات کے دوران پیش نہیں ہوتے یہ رویہ ٹھیک نہیں ہے۔ سینیٹر ناصر جنجوعہ نے کہا کہ وفاقی  وزیر اور وزیر داخلہ  ایوان میں نہیں آتے اس پر سختی سے نوٹس لینا چاہئے۔ سینیٹر طاہر مشہدی نے کہا کہ ایوان میں متعلقہ وزیر کا ہونا لازمی ہے، سینیٹر الیاس بلور نے کہا کہ آج کل تمام وزراء بہت مصروف ہو گئے۔ راجہ ظفر الحق نے بتایا کہ’’ وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار اس وقت ملک سے باہر ہیں اور وہ خزانہ کی ذمہ داریاں ہی پوری کر رہے ہیں جس کے بعد چیئرمین سینٹ نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ وقفہ سوالات کے دوران حکومت کی جانب سے سنجیدگی نہیں دکھائی جا رہی ،حالانکہ یہ حکومت کی ذمہ داری میں شامل ہے۔ چیئرمین رضا ربانی نے کہا کہ اگلی مرتبہ ایوان کے سیشن کے دوران تمام وزراء مصروفیات کو علیحدہ کرکے ایوان میں حاضری یقینی بنائیں۔ اپوزیشن ارکان کو بھی ان کی ایوان میں عدم موجودگی پر سیاسی پوائنٹ سکورننگ نہیں کرنی چاہئے بلکہ ان کے سوالات کو موخر کیا جا سکتا ،منگل کو چیئرمین سینیٹ نے اجلاس کے دوران ایوان میں ایک ’’ اجنبی شخص‘‘ کے داخلے پر پارلیمنٹ ہا ئوس کے چیف سکیورٹی انچارج کو معطل کر دیا ہے۔ ایوان میں داخل ہونے والے شخص کا  تعلق سکھر سے ہے۔ آفتاب احمد خان شیر پائو پر خودکش حملے کی  کی بازگشت سنی گئی۔ ایوان بالا میں سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ میڈیا وزیراعظم سمیت پیپلزپارٹی کی قیادت پر اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے آزادی اظہار رائے کا غلط استعمال کر رہا ہے، آخر پیمرا کہاں  ہے۔ سینیٹر نثار محمد خان نے کہا کہ آفتاب شیرپاؤ پر چوتھا خودکش حملہ انتہائی تشویشناک ہے پھر معاملات کو صوبے اور وفاق پر ڈال دیا جاتا ہے ،ذوالفقارمرزاکی طرف سے پیپلزپارٹی کی قیادت پرمسلسل الزام تراشی  پر پیپلزپارٹی کے سینئررہنماؤں نے چپ سادھ لی ہے، جب ان سے اس حوالے سے استفسار کیا جاتا ہے تو وہ  بات کرنے کیلئے تیار نہیں ،پنجاب سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے رہنماء  اسے پیپلزپارٹی سندھ کا مسئلہ سمجھتے ہیں اور ذوالفقار مرزا سے متعلق کوئی جواب دینے کو تیار نہیں ہیں۔