غلیظ ترین بھارتی جمہوریت قاتل اعظم وزیراعظم

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
غلیظ ترین بھارتی جمہوریت قاتل اعظم وزیراعظم

 بھارتی گجرات کے مسلمانوں کے قاتل اعظم کے ممکنہ وزیراعظم نریندر مودی الیکشن جیتنے کے لئے پاکستان اور بھارتی مسلمانوں کے خلاف بڑھکیں لگا رہا ہے۔ بھارتی الیکشن میں یہ انتہا پسند ہندو سیاستدانوں کی الیکشن مہم کا حصہ ہوتا ہے بلکہ ان کا منشور ہوتا ہے اور پاکستان کی طرح کوئی بھارتی پارٹی اقتدار میں آ کے اپنے منشور پر عمل نہیں کرتی ہے نریندر مودی کہتا ہے کہ میں وزیراعظم بن گیا تو یہ کروں گا وہ کروں گا۔ وہ یہ بالکل عمران خان والا سٹائل ہے۔ وہ وزیراعظم نواز شریف سے بھارت دوستی کے معاملے میں کم نہیں ہے۔ کیا یہ بات پاک فوج کے علم میں ہے۔
مودی کو انگریزی میں لکھیں تو موڈی بنتا ہے۔ یہ انتہا پسند سیاستدان پاکستانی ہوں یا بھارتی، موڈی ہی ہوتے ہیں۔ کسی وقت کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔ کر بھی سکتے ہیں۔ بھارتی موڈی نے کہا ہے کہ میں وزیراعظم بن گیا تو داﺅد ابراہیم کو کھینچ کر بھارت لاﺅں گا۔ اسے تو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ داﺅد ابراہیم کہاں ہے؟ کہتے ہیں کہ آج کل وہ دبئی میں ہے۔ دبئی سے پاکستانی سیاستدان کسی کو واپس نہیں لا سکتے۔ بھارتی حکمران کہاں سے لائیں گے۔ اب دبئی عالمی پناہ گاہ بنتا جا رہا ہے۔ ویسے یہ ملک یا یہ شہر بیرونی طاقتوں کی آماجگاہ ہے بلکہ آرام گاہ ہے۔ بیرونی قوتیں پاکستان کو بھی عرب امارات بنانا چاہتی ہیں۔ پھر بھارت بھی عرب امارات خود بخود بن جائے گا۔ ”بھارتی امارات“ کا پہلا صدر نریندر مودی ہو گا۔ پاکستان کے لئے نواز شریف کوشش کر رہا ہے۔
بھارت اب تک بڑی بڑی باتیں حافظ سعید کے لئے بھی کرتا رہا ہے مگر ان کا بال بیکا نہیں کر سکا۔ وہ ایک سچے بہادر مجاہد محب الوطن ہیں۔ ان کے پاس طاقت بھی ہے اور حکمت بھی ہے۔ مرشد صحافت اور مجاہد صحافت مجید نظامی انہیں بہت پسند کرتے ہیں کہ حافظ صاحب بھارت کو پسند نہیں کرتے اور بھارت انہیں پسند نہیں کرتا۔ امریکہ اور بھارت کیسے کیسے لوگوں سے ڈرتے ہیں۔ امریکہ کو حکمرانوں سے ڈر نہیں لگتا مگر فقیروں سے ڈر لگتا ہے۔ وہ جو خدا کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے مگر ظالم اور ڈرے ہوئے لوگ خدا سے نہیں ڈرتے۔ خدا سے ڈرنے والے کسی سے کیا ڈریں گے۔ حافظ صاحب اللہ کے فضل سے زندہ تر ہیں۔ بھارت نے بہت کوشش کی خدانخواستہ انہیں مروانے کی اور انہیں نقصان پہنچانے کی۔ پاکستانی حکومت اس معاملے میں ڈھیلی تھی مگر شاید پاک فوج اور آئی ایس آئی ڈٹ گئی ورنہ بمبئی حملوں کے حوالے سے نااہل اور کرپٹ وزیراعظم گیلانی نے آئی ایس آئی چیف جنرل پاشا کو بھارت جا کے وضاحت اور صفائی پیش کرنے کی ہدایت کر دی تھی مگر جنرل کیانی کور کمانڈر جنرل پاشا ڈٹ گئے۔ پاکستانی حکمرانوں کو منہ کی کھانا پڑی اور اب تک شرمندہ ہے۔ ایک میڈیا گروپ نے اجمل قصاب کے لئے حامد میر کی قیادت میں بھارت کی بہت مدد کی۔ اس کے بعد وہ حافظ سعید کے لئے بھی مطالبہ کر سکتے تھے۔ یہ مطالبہ تو وہ کرتے رہتے ہیں کہ حافظ صاحب کو ہمارے حوالے کرو۔ حافظ صاحب نے کہا ہے کہ مودی کے بیانات صرف گیدڑ بھبھکیاں ہیں۔ پاکستان میں شیر بہت ہیں مگر وہ بھی گیدڑ بھبھکیاں ہی لگاتے ہیں۔
بھارت پاکستان اور پاکستانی عوام اور پاکستان افواج سے ڈرتا ہے۔ مگر پاکستانی حکمران ان سے ڈرتے ہیں۔ بھارت والوں نے موڈی سے مطالبہ کیا ہے کہ گجرات کے قتل عام کے حوالے سے معافی مانگو مگر وہ کہتا ہے کہ میں اس کئے پر شرمندہ نہیں ہوں۔ پہلے موڈی کو شرمندہ کرنا پڑے گا۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ اسے ہروا دیا جائے۔
بنارس میں عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند گجریوال اس کے لئے مصیبت بن گئے ہیں۔ بنارس موڈی کا علاقہ ہے مگر وہاں اب اس کے لئے خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ موڈی کا وزیراعظم بننا خود بھارت کے لئے ایک شرمندگی ہو گا۔ وہ وزیراعظم بن بھی گیا تو من موہن سنگھ سے زیادہ نہیں ہو گا۔ وہ کمپلیکس کا مارا ہوا تھا۔ سونیا گاندھی کی غلامی اور سکھ ہونا ان کے لئے عذاب بن گیا تھا۔ وہ کوئی فیصلہ ہی نہ کر سکے۔ پاکستانی حکمران بھی کوئی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں اب نہیں ہیں۔ بھارت دوستی کے غبار اور کاروبار نے انہیں اندھا کر دیا ہے۔ وہ بھارت کے اندر پاکستان دشمنی کے دھوکے اور ہٹ دھرمی کو نہیں سمجھنا چاہئے۔ ہٹ دھرمی ان کا دھرم اور ہمارے حکمران بھی اس دھوکے کی ڈھٹائی میں مبتلا ہے۔
نریندر مودی نے کہیں تقریر کے دوران پریانکا گاندھی کو بیٹی کہہ دیا۔ جس کا دل والی بیٹی نے بہت برا منایا۔ اس نے کہا کہ میں راجیو گاندھی کی بیٹی ہوں جس نے وطن کے لئے جان قربان کر دی تھی۔ میں کسی قاتل کی بیٹی نہیں ہو سکتی۔ مودی کو چاہئے کہ مجھ سے معافی مانگے۔ راہول گاندھی نے کہا ہے کہ گجرات کے سانحے کی غیرجانبدارانہ اور منصفانہ انکوائری کرائی جائے اور نریندر مودی کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ یہ سزائے موت کم نہیں ہونی چاہئے۔ مودی کے خلاف اب ایف آئی آر درج کرانے کی تیاریاں بھی ہو رہی ہیں۔ مودی نے بھارتی مسلمانوں کو بھی پاکستان چلے جانے کے لئے کہا ہے۔ یہ ایک ایسا مطالبہ ہے کہ ایک معمولی سوچ کا سیاستدان بھی نہیں کر سکتا۔
امریکہ کی ایک ریاست میں داخل ہونے کے لئے نریندر مودی پر پابندی ہے۔ خدانخواستہ وہ وزیراعظم ہو گئے تو پھر بھی یہاں نہیں آ سکتے۔ مگر پاکستان کے لئے دورے کی دعوت ابھی سے پاکستانی حکمران دے رہے ہیں۔ پہلے نواز شریف بغیر دعوت کے بھارت جانا چاہتے تھے مگر انہیں منع کر دیا گیا اور کچھ پاکستانی عوام کا دباﺅ بھی تھا۔ ان کی مہربانی ہے کہ وہ نہ گئے۔ ان کی دعوت کے باوجود ان کی حلف برداری کی تقریب میں من موہن سنگھ نہ آئے۔
ایک بات بھارتی سیاستدان لالو پرشاد نے کی ہے اور ہمارے دل میں ٹھنڈ پڑ گئی ہے۔ مودی کو پاکستان کے حوالے کر دیا جائے۔ اس کے آگے میری تجویز ہے کہ اسے حافظ سعید کے حوالے کر دیا جائے۔ وہ ایک اچھے انسان ہیں۔ وہ مودی کے ساتھ ایک اچھے دشمن کی طرح سلوک کریں گے جو فتح مکہ میں حضور نے اپنے مخالفوں کے ساتھ کیا تھا۔ مگر نریندر مودی ان لوگوں کے قدموں کی خاک کے ذرے کے برابر بھی نہیں۔ وہ بت پرست تھے پھر خدا پرست ہو گئے۔ مودی جیسے ہندو دل سے سمجھتے ہیں کہ ان کا عقیدہ غلط ہے مگر صرف ووٹوں کے لئے بت پرستی کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ جمہوریت ہے؟
کہتے ہیں کہ بھارت دنیا کی بڑی جمہوریت ہے میں کہتا ہوں کہ یہ دنیا کی غلیظ ترین جمہوریت ہے۔ خاک و خون سے لتھڑی ہوئی اور گندی مٹی میں گوندھی ہوئی ہے۔ یہ انتہا پسند ہندو اتنے متعصب ظالم تنگ نظر لوگ ہیں کہ انہوں نے اپنے لیڈر مسٹر گاندھی کو قتل کر دیا۔ اس کی تصویر آج ہر بھارتی دفتر اور سرکاری عمارت میں لگی ہوئی ہے۔ لوگ اسے باپو (باپ) کہتے ہیں۔ ان ظالموں سے کسی خیر کی توقع ہی نہیں ہے۔
اس ساری صورتحال میں بھارت میں پاکستانی سفیر (ہائی کمشنر) عبدالباسط کا بیان دیکھیں اور پاکستانی حکمرانوں کی مردم شناسی پر ماتم کریں۔ ”مودی کے وزیراعظم بن جانے کے بعد بھارت اور پاکستان کے تعلقات بہتر ہو جائیں گے۔“ ایسے آدمی کو ایک دن بھی بھارت میں پاکستانی سفیر نہیں ہونا چاہئے۔ یہ بیورو کریٹ ہیں اور خود کو ڈپلومیٹ کہتے ہیں۔ یہ اصل میں بیرون ملک بھی وہی کچھ کرتے ہیں جو پاکستان کے اندر کر رہے ہیں۔ امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی کون ہے اور اب بھی کیا کر رہا ہے۔ برطانیہ میں واجد شمس الحسن بھی صرف ”صدر“ زرداری کے مفادات کی دیکھ بھال کرتا رہا مگر اس کے بعد نواز شریف نے بھی واجد صاحب کو باقی رکھا اور جاری رکھا ہوا ہے۔ کسی زمانے میں سعودی عرب میں بھارتی سفیر علی میاں تھے۔ وہ جید عالم دین تھے اور عربوں سے زیادہ اچھی عربی بولتے تھے جبکہ وہاں پاکستانی سفیر کو اردو بھی نہیں آتی تھی۔