رائے احمد خان کھرل شہیدؒ کے مزار پر !

کالم نگار  |  اثر چوہان
رائے احمد خان کھرل شہیدؒ کے مزار پر !

مجھے جمہوریہ تُرکیہ کے بانی صدر غازی مصطفی کمال پاشا کے مزار پر حاضر ہونے کا دو بار موقع مِلا۔ پہلی بار 1973ءمیں جب مَیں معروف ادیب صحافی اور دانشور جناب انتظار حسین، صحافی جناب سعادت خیالی (مرحوم) کے ساتھ وفد کی صُورت میں وہاں گیا اور دوسری بار صدر غلام اسحاق خان کی مِیڈیا ٹیم کے رُکن کی حیثیت سے۔ بابائے قوم حضرت قائدِاعظمؒ کے بعد ”اتاتُرک“ (تُرکوں کے باپ) غازی مصطفی کمال پاشا میرے ”آئیڈیل“ ہیں۔ عالمِ اسلام کے اِن دونوں ”ہیروز“ نے اپنی اپنی جائیداد ٹرسٹ بنا کر قوم کے نام وقف کر دی تھی۔
مجھے میرے مرحوم دوست (انفارمیشن گروپ کے پروفیسر محمد سلیم بیگ کے والد) مرزا شجاع الدّین بیگ امرتسری اپنے ساتھ کئی بار لاہور میں مدفون اپنے اپنے دَور میں دو عظیم الشان بادشاہوں قُطب الدّین ایبک اور نور الدّین جہانگیر اور اُس کی بیگم ”نور محل“ المعروف نُورجہاں کے مزاروں پر لے گئے۔ مَیں نے تینوں مزاروںکو شاعرہ ملکہ نوُرجہاں کے اِس مصِرع کی صُورت میں پایا کہ 
” بَر مزارِ ما غریباں نَے چراغ نَے گُلے“
یعنی ہم غریبوں کے مزار پر کوئی بھی چراغ جلانے اور پُھول چڑھانے نہیں آتا۔ مجھے 4 مئی کو ”جھامرہ“ (فیصل آباد) میں جنگِ آزادی میں پنجاب کے راجپوت ہِیرو رائے احمد خان کھرل شہیدؒ کے مزار پر حاضری کی سعادت حاصل ہُوئی۔ پنجاب کے یہ بھُولے بِسرے ہِیرو اب صِرف ”کھرل برادری“ کے ہِیرو ہی بن کر رہ گئے ہیں۔ اس کی ذمہ دار پنجاب کی ساری حکومتیں ہیں اور ہر دور میں حکومتِ پنجاب کی سرپرستی میں ”پلنے والے“ پنجابی شاعروں، ادیبوں اور دانشوروں اور اخبارات و رسائل کے مالکان و مُدیران گزشتہ کئی سالوں سے پنجاب کے آنجہانی سِکھ حکمران رنجیت سِنگھ کو ہی ”پنجاب کا ہِیرو“ منوانے پر اُدھار (اور نقد بھی) کھائے بیٹھے ہیں۔ پاک پنجاب کی مختلف یونیورسٹیوں اور اداروں اور پرائیویٹ تنظیموں کی طرف سے ”عالمی پنجابی کانفرنسیں“ منعقد کی جاتی ہیں جِن میں بھارت، کینیڈا، امریکہ، برطانیہ اور دوسرے مُلکوں سے سِکھ شاعروں، ادیبوں، صحافیوںکو مدّعوکِیا جاتا ہے۔ اُن سے اور جو سِکھ یاتری ننکانہ صاحب، پنجہ صاحب اور مہاراجا رنجیت سِنگھ کی مڑھی پر حاضری دینے کے لئے آتے ہیں اُن سے بھی دامادوں اور بہنوئیوں کا سا سلوک کِیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ”سانجھا پنجاب“ کے کئی علمبردار بھی سر پر رومال رکھ کر مہاراجا رنجیت سِنگھ کی مڑھی پر ہاتھ باندھ کر اُن کے لئے دُعا کرتے یا اپنی شفاعت کے لئے دعا مانگتے ہیں ۔مَیں نے اپنے پنجابی جریدہ ”چانن“ لاہور (مئی 2012 ئ) کے شمارے میں انٹر نیٹ سے لے کر بیرونِ مُلک مُقیم ایک پاکستانی نژاد شاعر ، دیب اور دانشور سیّد آصف شاہکار کی مہاراجا رنجیت سِنگھ کی مڑھی پر سجدہ کرتے ہُوئے تصویر بھی شائع کی تھی۔ (یہ کیسا سیّد ہے؟)۔
ماہرِ تعلیمات، اقبالیات پر اتھارٹی، اُرود، پنجابی اور انگریزی کے سکالر اور کئی کتابوں کے مُصنف ڈاکٹر نذیر قیصر (مرحوم) کہا کرتے تھے کہ ”1857ءکی جنگِ آزادی میں سب سے زیادہ قُربانیاں پنجابیوں نے دی تھیں خاص طور پر مسلمانوں نے۔“ پھِر کیا وجہ ہے کہ پنجاب کے عظیم ہِیرو رائے احمد خان کھرل کو تاریخ دانوں اور حکمرانوں نے نظر اندازکر دیا۔ اپریل 2014 ءمیں ”امن کی آشا“ کے علمبردار اُردو اور انگریزی اخبار نے صِرف مہاراجا رنجیت سِنگھ اور بھگت سِنگھ کو ہی پنجاب کا ہِیرو بنا کر پیش کِیا۔ رائے احمد خان کھرل شہیدؒ کا دو سطروں میں بھی ذکر تک نہیں کیا۔
5 فروری کو کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کے دِن مَیں نے اپنے کالم میں رائے احمد خان کھرل کا بھی تذکرہ کِیا تھا۔ پھر ہُوا یہ کم از کم ”کھرل برادری“ تو بہت پُرجوش ہو گئی۔ پِیر مہر علی شاہ ایرِڈ ایگری کلچر یونیورسٹی راولپنڈی کے وائس چانسلر رائے نیاز احمد خان کھرل، قومی اسمبلی کے رُکن رائے منصب علی خان کھرل، وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے مشیر تعلیم رائے حیدر علی خان کھرل، ننکانہ کے رائے رضوان سُلطان کھرل اور کھرل برادری کے کئی دوسرے معتبر اصحاب نے اپنے اپنے پیغامات میں ڈاکٹر مجید نظامی صاحب کا اور میرا شکریہ ادا کِیا اور کہا کہ ”وزیرِاعظم میاں نواز شریف اور وزیرِ اعلیٰ میاں شہباز شریف رائے احمد خان کھرل شہیدؒ کو سرکاری سطح پر اُن کے "Status" کے مطابق اہم مقام دیں۔“ مجھے ”جھامرہ“ سے رائے احمد خان کھرل شہیدؒ کے پوتے سابق رُکن پنجاب اسمبلی رائے ربّ نواز خان کھرل کا ٹیلی فون آیا اور انہوں نے کہا کہ ”آپ کسی وقت جھامرہ بھی تشریف لائیں۔“ مَیں نے وعدہ کر لِیا پھِر رائے نیاز احمد خان کھرل نے مجھ سے کہا کہ ”مَیں آپ کو وہاں لے جاﺅں گا۔“ مَیں نے معذرت کر لی اور کہا کہ ”جب بھی میں وہاں جاﺅںگا تو اپنے انتظامات کے ساتھ جاﺅں گا۔“