تنگ آمد ، بجنگ آمد

تنگ آمد ، بجنگ آمد

میںنے ایک روز نوائے وقت کا اداریہ پڑھاتو اپنے آپ پر شرم سی آئی۔اس میںلکھا تھا کہ فوج کا اشو کھڑا ہو اہے تو اس بحث میںوہ لوگ بھی کود گئے ہیں جو فوج کے ہاں حاضری لگوانا چاہتے ہیں۔ میں ایک عرصے سے فوج کے قصیدے لکھ رہا ہوں، آئی ایس آئی کے شاہنامے لکھتا رہا ہوںلیکن حاشا و کلا! میرا اراداہ کبھی کہیں حاضری لگوانے کا نہیں تھا۔ایک روز امریکہ میںمقیم ایک کلاس فیلو ڈاکٹر محمود اعوان کا یہ تبصرہ فیس بک پر پڑھا تو میں پیچ و تاب کھا کر رہ گیا ، انہوںنے لکھا تھا کہ آئی ایس آئی نے پیسے دے کر میڈیا اور سیاستدانوں کو اپنے حق میںمتحرک کر دیا ہے، میںنے ان سے احتجاج کیا کہ میں کہیں سے پیسے نہیں لیتا لیکن آئی ایس آئی کے حق میںلکھتا ہوں، ڈاکٹر صاحب نے میرے احتجاج پرکان نہیں دھرے ۔ میںنے انہیں اپنے دوستوں کی فہرست سے نکال دیا ہے۔اور یوں ان کی جلی کاٹی باتوں سے محفوظ ہو گیا ہوں۔
ایچی سن کالج کے پروفیسر مسرور کیفی ایک زمانے میں لارنس کالج میں پڑھاتے رہے ہیں ،انہوںنے ایک روز یہ کہہ کر مجھے تڑپا دیا کہ ان کے کالج کے دوستوں کا ایک حلقہ ہے جو ای میل پر رابطے میں رہتا ہے، اس حلقے میںمیرے کالم باقاعدگی سے زیر بحث آتے ہیں۔اور سبھی دوستوں کا اس امر پر اتفاق ہے کہ آئی ایس آئی مجھ سے کالم لکھواتی ہے، خدا کی پناہ،میںنے کانوںکو ہاتھ لگائے۔
اب میں کیا کروں ، جائوں تو کہاںجائوں۔ یہی کر سکتا ہوں کہ وقتی طور پر آئی ایس آئی کے حق میںلکھنا چھوڑ دوں تاکہ بلیم گیم سے بچ سکوں۔مگر کئی ہفتوں سے ہمارا میڈیا اسی ایک بحث سے لتھڑا ہوا ہے، ٹی وی چینل بھی اور اخبارات بھی، ایک جیسے مواد سے ا ٹے ہوئے ہیں۔کیا اس بحث سے لوگوں کا پیٹ بھر سکتا ہے، کیا ساری بحثا بحثی سے اتنی بجلی پیدا ہو سکتی ہے کہ لوڈ شیڈنگ سے چھٹکارا مل جائے۔ حکومت خوش ہے کہ عوام ایک نان اشو میں الجھے ہوئے ہیں، سیاستدان اور میڈیا بھی ا سی ایک ڈگر پر چل نکلے ہیں اور حکمرانوں کے لئے نادر موقع ہے کہ وہ ملک ملک سیر کرتے پھریں ، وزیر اعظم لندن سے واپس آئے ہیں، اب ان کا قصد تہران کا ہے۔صدر ممنون کو کوئی ڈھنگ کا ملک نہیں ملا تو انہوںنے کسی لایعنی سے افریقی ملک کے لئے رخت سفر باندھا ،مگر صد حیف! ان کا شوق سفر پورا نہ ہو سکا۔
میںنہ اے پی این ایس میں ہوں، نہ سی پی این ای میں اور نہ براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن میں کوئی عمل دخل رکھتا ہوں لیکن میں ان سب تک اپنی نحیف سی آواز ضرور پہنچانا چاہتا ہوں کہ لوگوں کے وقت اور پیسے کے عوض آپ ان کو کیا دے رہے ہیں۔ مجھے یہ اطمینان ہے کہ میرے اخبار نوائے وقت نے متواز ن پالیسی اختیار کررکھی ہے، وہ ضروری خبریں چھاپتا ہے اور غیر ضروری مباحث سے اپنے صفحات کو پاک صاف رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔
 جس روز کراچی میں ایک صحافی زخمی ہوا اور اس پر ایک ٹی وی چینل آپے سے باہر ہو گیا تھا اور اس نے میرا تھون نشریات کا آغاز کر دیا تو ابتدا ہی میں ایک صاحب  نے یہ مطالبہ کر دیا کہ جنرل ظہیرکو مستعفی ہونا چاہئے، یہ سن کر میرا ہاسہ نکل گیا تھا، کیا پدی کیا پدی کا شوربہ والی مثال تھی۔اور پھر جہنمی شعلوںنے سول سوسائٹی کو اپنی لپیٹ میںلے لیا، اس پر جواب الجواب کا سلسہ چل نکلا اور اب ایسا طوفان ہے کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا۔
 بس بھئی! بہت ہو چکا، اب ہم میں سے ہر ایک کو اپنے کام سے کام رکھنا چاہئے۔
ہمارے ہاں فکری انتشار کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اتوار کے ڈان میںندیم پراچہ کا ایک آرٹیکل مادر ملت کے بارے چھپا  ہے، یہ انکشافات سے لبریز ہے۔ لکھتے ہیں کہ قائد اعظم نے گیارہ اگست کودستور ساز اسمبلی سے خطاب کیا تو اخبارات کو حکومت حکم ملاکہ اس تقریر کی وہ خبر چھاپی جائے گی جو حکومت جاری کرے گئی۔ ہم نے اپنے قائد کی تقریر سنسر کرد ی۔ شریف الدین پیر زادہ راوی ہیں کہ قائداعظم کی وفات حسرت آیات پر اظہار خیال کرنے کے لئے مادر ملت ریڈیو پر بیٹھیں اور جونہی انہوںنے ایمبولینس کی خرابی کے بارے میں حرف شکائت کا آغاز کیا تو ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل زیڈ اے بخاری کو اوپر سے فون آیا کہ تقریر روک دی جائے۔یوں ہم نے قائد کی بہن کی تقریر سنسر کر دی۔ندیم پراچہ نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے اپنی کتاب ۔۔میرا بھائی۔۔ 1955 میںلکھ لی تھی لیکن اس کی اشاعت کے رستے میں روڑے اٹکائے گئے ا ور کہیں بتیس سال بعد 1987 میں اس کی اشاعت ممکن ہوئی۔
تاریخ میں کیا کیا موڑ نہیں آئے۔دل میں ایک چبھن سی ہوتی ہے۔کلدیپ نائر نے اپنی آپ بیتی میںلکھا ہے کہ پینسٹھ کی جنگ کے بعد تاشقند معاہدہ ہوا تو ایوب خاںنے اس کے مسودے میں ہاتھ سے لکھا کہ آئندہ ہم طاقت کے زور پر کشمیر کا مسئلہ حل کروانے کی کوشش نہیں کریں گے ،کلدیپ نائر کا کہنا ہے کہ یہی وہ تاشقند کا راز ہے جسے تھیلے میں لے کربھٹو صاحب ڈھول پیٹتے رہے۔
کشمیر کا ذکر چھڑا ہے تو مجھے مولانا غلام رسول مہر کے سب سے چھوٹے بیٹے امجد سلیم علوی کی زبانی ایک واقعے کا تذکرہ کرنا ہے، ان سے ہفتے کے روز ملاقات ہوئی، وہ غلام ر سول مہر کے کردار، افکار پر روشنی ڈال رہے تھے، انہوںنے بتایا کہ آج کل صحافت میں لفظ غداری کا بہت استعمال ہو رہا ہے، پاکستان بننے کے فوری بعد 1949 میں دولت مشترکہ کاایک ا جلاس لندن میںہوا تو نہرو لیاقت ملاقات کے حوالے سے سول اینڈ ملٹری گزٹ نے خبر چھاپی کہ دونوں وزرائے اعظم نے چناب فارمولے کی بنیاد پر کشمیر کی تقسیم پر سمجھوتہ کر لیا ہے، یہ خبر کیا چھپی کہ بھونچال ساآ گیا اور پاکستان کے تمام اردو، انگریزی اخبارات نے سول اینڈ ملٹری گزٹ کو غداری کا مرتکب قراردے دیا ، اس اخبار نے معافی بھی مانگی مگرپورے ملکی پریس نے غداری کے عنوان سے شائع ہونے والے اداریوں میں ایک ہی مطالبہ کیا تھا کہ ا س اخبار کو بند کیا جائے۔
اللہ اللہ! ایک زمانہ تھا کہ صرف کشمیر کی تقسیم پر پورا ملکی میڈیا سراپا احتجاج بن گیا تھا اور اسے غداری سے تعبیر کرتا تھا اور ایک آج کا دور ہے جب ہم کشمیر کو بالکل فراموش کر چکے ہیں، اور واہگہ کی لکیر مٹاکر چوبیس گھنٹے بارڈر کھولنے کی باتیں بھی گوارا کر رہے ہیں۔
میں سوچتا ہوں کہ اگر ایک ٹی وی چینل پر آئی ایس آئی کے خلاف محاذ کھڑا نہ کیا جاتا تو کیا ہمارا میڈیا پھر بھی امن کی آشا کے خلاف ایک لفظ تک بولنے کے لئے تیار ہوتا۔امن کی آشا میں بھی کشمیر کو فراموش کر دیا گیا ہے اور ہماری حکومت کی موجودہ پالیسی بھی یہی ہے مگر نوائے وقت کے سوا کس اخبار یا ٹی وی نے اس پالیسی کو ہدف تنقید بنایا۔
میں تنگ آمد ، بجنگ آمد کے مصداق ملکی میڈیا کے خلاف بھرا بیٹھا ہوں۔