پاکستان پنک پینتھرز پارٹی؟

کالم نگار  |  خالد احمد

’پاکستان پیپلز پارٹی‘ کے قیام کی خبر اور ہالی ووڈ کی فلم ’پارٹی‘ کی تکمیل اور ریلیز کی اطلاع ایک ساتھ آئی! لوگوں نے ’پیپل‘ کو ’پیڑ‘ گردانا اور فلم ’پارٹی‘ سے ’پیو پلاﺅ پارٹی‘ کا تاثر اپنانا بہتر جانا مگر جناب قیوم جتوئی نے، ’ہم کرپشن کریں گے! کرپشن ہمارا حق ہے!‘ کا نعرہ مستانہ بلند کرکے اسے ’پاکستان پنک پینتھرز پارٹی‘ کے درجے پر فائز فرما دیا!
ہم اسے پاکستان پیپل،ز پارٹی سمجھتے تھے یعنی ’پاکستانی عوام کی پارٹی‘ گردانتے تھے مگر 1971ءکے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کا کردار دیکھ کر سمجھ گئے کہ یہ تو ’پاکستانی قوموں کی پارٹی‘ ہے اور بنگلہ دیش کے قیام نے اصل ’پارٹی ایجنڈا‘ اظہر من الشمس کر ڈالا! اور جناب شیخ مجیب الرحمن کی جانب سے پاکستان کے وزیراعظم کی حیثیت سے ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر خطاب کی پیش کش کے جواب میں انہیں لندن کی پرواز پر سوار کر دیا، جہاں انتہا پسند بنگالی ’دوست‘ ان کے انتظار میں ’دام تزویر‘ بچھائے بیٹھے تھے!
پاکستان پیپلز پارٹی روز اول سے ’راکٹ‘ کے اصول پر چل رہی ہے! جب تک اس کی دم میں آگ نہ لگائی جائے یہ ’پیڈ‘ پر سیدھی کھڑی رہتی ہے!
صدر ایوب خان کے ماہانہ قومی خطاب کی یاد تازہ کرنے کا ’تروتازہ‘ پروگرام بھی کسی جانب سے ’آگ‘ دکھائے جانے کا شاخسانہ لگتا ہے! اور اس کے لئے ہر ماہ کے پہلے جمعتہ المبارک کا انتخاب بھی اسی ’آگ‘ کا دھواں ہے!
جناب ایوب خان ”عزیز ہم وطنو“ سے ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو خطاب کرتے تھے اور اس کے پیچھے پہلی تاریخ ہونے کی بنا پر سرکاری اور غیر سرکاری ملازمین کے ’خوش خوش‘ ہونے کی بنا پر تقریر ایک ’ہم دردانہ احساس‘ کے ساتھ سنے جانے کے امکانات بڑھانے کا ’نفسیاتی حربہ‘ کارفرما تھا! مگر ہمارے موجودہ وزیراعظم نے اس ’تقریب‘ کیلئے پہلے جمعتہ المبارک کا انتخاب کرکے یہ ’نفسیاتی حربہ‘ بھی ہاتھ سے گنوا دیا ہے، کیونکہ آج کے سرکاری اور غیر سرکاری ملازمین جس قدر پہلی تاریخ کو بھنائے بھنائے پھرتے ہیں، اتنا غصہ انہیں ہر مہینے کی آخری تاریخ کو بھی نہیں آتا! ایسے عالم میں اگر جمعتہ المبارک مہینے کی دو تاریخ کو بھی آ رہا ہو تو وہ ایک قوم.... سب سے زیادہ اعصاب زدہ تہی دامن افراد سے خطاب فرما رہے ہوں گے! اور ان کے قریبی ’پنک پینتھرز‘ کے سوا کوئی فرد، اس ’تقریب تقریر‘ کے پس پردہ کارفرما ’بے دردی‘ سے کسی نوع کی بھی ’ہم دردی‘ کا اظہار نہیں کر سکے گا!
لہذا ہم تو جناب وزیراعظم سے یہی کہیں گے کہ وہ ’ریڈیو‘ کے ذریعے ’ماہانہ خطاب‘ صرف ’شارٹ ویوز‘ پر کریں اور ان کی تقریر بھی انگریزی زبان میں ہونا چاہئے تاکہ ہمارے غیر ملکی دوستوں تک ’حکومت کی کارکردگی‘ اور ان کے ’ایجنڈے پر قدم افزائی‘ کی درست سمت کے ’حقیقی رخ کا زاویہ‘ اور ’حقیقی‘ رفتار کار پہنچانے میں آسانی رہے! یہ خطاب ’میڈیم ویو‘ پر نشر نہ کرکے ملک میں ’بحث و تمحیص‘ کی گرم بازاری کا درجہ حرارت بھی کم کیا جا سکے گا اور ’شارٹ ویو‘ پر ’دست تعاون دراز تر رکھنے‘ میں بھی مدد ملے گی!
ہمیں یقین ہے کہ جناب وزیراعظم ’سالانہ ریڈیو خطاب‘ سے زیادہ کسی تجویز پر لبیک نہیں کہیں گے! کیونکہ ہم لوگ سال بھر میں اتنا سفر ضرور طے کر لیتے ہیں کہ قیمتوں میں صد فی صد کے تقابل میں تنخواہوں اور مزدوریوں میں 15 فیصد اضافے کا اعلان کر دینے پر مجبور ہو ہی جاتے ہیں!
اگر جناب وزیراعظم اپنی ’رعایا‘ کے دکھوں سے آگاہ نہیں تو انہیں اپنے قریبی ’پنک پینتھروں‘ کے اوپر سے جھانک کر جناب عمران خان کی ’حالت زار‘ پر ضرور توجہ کر لینا چاہئے! عوام کے دکھ میں مبتلا لوگ اسی حال میں زندگی بسر کرتے ہیں! جناب اعجاز جازی نے آزادانہ حیثیت میں انتخاب لڑا تو 14 ہزار ووٹ لے مرے مگر تحریک انصاف کے ٹکٹ پر میدان میں اترے تو ’ووٹ بنک‘ سمٹ کر صرف دو ہزار سے چند ووٹ اوپر رہ گیا! عوام اپنے ’عوامی نمائندوں‘ سے کیا سلوک کرتے آئے ہیں؟ یہ بات پیر فقیر لوگ نہیں جانتے! اس کے لئے ’کرکٹ‘ جاننا زیادہ ضروری ہے! کیونکہ جناب محمد اصغر خان کا فرمانا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی تو روز اول سے پاکستانی عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے میدان عمل میں اتری تھی! اور اب تک بے وقوف بناتی چلی آ رہی ہے! کہانی ختم ہو رہی ہے اور ہمیں جناب فیصل عجمی کا یہ شعر یاد آ رہا ہے!....ع
جھیل کے گہرے پانی سے مہتاب چرانے والا ہے
افسانے میں پاگل کا کردار بھی آنے والا ہے
یاد رہے! فلم ’پارٹی‘ میں ایمان دار ’انسپکٹر‘ کا کردار عظیم مزاحیہ اداکار پیٹر سیلرز نے کیا تھا اور ’پنک پینتھر‘ نے اسے جیل میں ’مشقت‘ کے لئے بھجوا کر شہر چھوڑ دیا تھا! مگر وہ ’پاگل‘ پھر بھی نہیں ہوا تھا!