نوزائیدہ جمہوریت کا بڈھے سے نکاح

صحافی  |  رفیق ڈوگر

پنگھوڑے کی گنجائش سے زیادہ اس میں پنگھوڑا جھولنے والے بھر دئیے جائیں تو کیا ہوتا ہے؟ سوچیں اور ایک خبر پھر سے پڑھ لیں دادو میں ایک شخص نے اپنی دس سالہ بہن کا ایک چالیس سالہ شخص سے نکاح پڑھا دیا۔ پچاس ہزار روپے لے کر اس چالیس سالہ دولہا سے۔ پولیس کو اس انسانی جرم کا پتہ چل گیا۔ اس نے فوراً کم سن لڑکی کو اس کے خریدار مالک سے برآمد کرلیا اور بیچنے والے اور نکاح پڑھانے والے کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ آخری خبریں آنے تک یا اخبار میں شائع شدہ خبر کے مطابق وہ دونوں مفرور تھے یعنی روپے وصول کر کے نابالغ بچی کو اس بزرگ کے ہاتھ بیچنے والا بچی کا بھائی اور اس نابالغ بچی کا اس بزرگ سے نکاح پڑھانے والے حضرت مولوی جی۔ اللہ، دادو کی پولیس کے محکمانہ درجات بلند کرے۔ انسانیت کی اور اس معصوم نابالغ بچی کی اس نے بہت خدمت کی ہے۔ لیکن ایک بار پھر، کوئی پولیس دو سالہ نابالغ جمہوریت کو بھی نجات دلائے گی۔ اس کے پچپن ساٹھ سالہ خریدار سے؟ کرے گی اس معصومہ کو بیچ دینے والے اس کے عزیز و اقارب کے خلاف اور اس نکاح کو بالکل جمہوری قرار دینے والے حضرات اور ملا صاحبان کے خلاف کوئی پولیس کارروائی؟ اگر کوئی پولیس ایسا کر سکے تو یہ اس مظلومہ کے علاوہ اس ملک کے سترہ کروڑ عوام کی بھی بہت بڑی خدمت ہو گی۔ اس مظلومہ کے بوڑھے خریدار کے برادر بزرگ میاں محمد نوازشریف نے روز رفتہ بڑے ہی دکھیا دل و دماغ کے ساتھ چکا چوند جلسہ خاص میں بتایا تھا کہ دو سال میں حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ کس کی حکومت نے دو سال میں کچھ نہیں کیا؟ مظلومہ و معصومہ جمہوریت کے بوڑھے خریدار کی حکومت نے یا اس جمہوریت نے جس کی حکمرانی کے حق میں دو سال پہلے ملک کے عوام نے ووٹ دئیے تھے؟ چاہئے تو یہ تھا کہ وہ اس جمہوریت کو بیچ دینے اور اسے ایک بوڑھے کے عقد میں دے دینے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کر دیتے کہ وہ اس غیر جمہوری جرم پر اس دلہا کے خلاف اور اس معصومہ کو بیچ دینے والوں کے خلاف مقدمہ درج کرائیں گے اور اس بے چاری کو اس بوڑھے کے قبضہ سے نجات دلائیں گے اعلان تو وہ جمہوریت اور صرف جمہوریت کے عاشق زارو قطار ہو نے کے کرتے رہتے ہیں۔ اور اس کی اپنے بوڑھے بھائی سے نجات کے لئے کسی تھانے میں رپٹ تک نہیں لکھوا سکے اب تک، آخر کیوں؟ کیا کہا جا سکتا ہے اسے اس معصومہ کی خرید و فروخت میں شریفین کے برادرانہ تعاون کے سوا کچھ اور؟ ایک جرنیل کی باوردی آمریت کے مقابلے میں ملک کے عوام نے جمہوریت کی حکمرانی کے حق میں دل کھول کر ووٹ دئیے جو بھی کوئی اپنے کو جمہوریت اور اس کی حکمرانی کا علمبردار ظاہر کرتا تھا اسے کامیاب بنا کر اسمبلیوں میں بھیج دیا اور جمہوریت کے ان اقارب اور مالکوں نے اس بے چاری کو پیدا ہوتے ہی اس بوڑھے کے پاس بیچ دیا جو دو سال سے اس کی عصمت سے کھیل رہا ہے۔ وزارتوں مشاورتوں اور کمیٹیوں کی چیئرمینیوں کے بدلے میں دادو کی دس سالہ لڑکی کو ایک بوڑھے کے پاس بیچ دینے والا ایک ہے تو اس بے چاری مظلومہ کو بیچنے والے سینکڑوں ہیں اور اس نابالغ کے پچپن سالہ بوڑھے کے ساتھ جبری نکاح کو حضرت اور مولانا فضل الرحمٰن اور ان کے جملہ جید صاحبان بھی بالکل جائز مانتے ہیں بلکہ اس خرید و فروخت کے عین شرعی ہونے کے فتوے بھی جاری کرتے آئے ہیں دو سال سے۔ شریفین دو سال سے نام اس بے چاری بیچ دی گئی کا لیتے آئے ہیں اور ہاتھ پاﺅں اس کے خریدار کے اور اس کے نظام کے مضبوط کرتے آ رہے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ انہوں نے بھی جمہوریت کو بوڑھے کے ہاتھ بیچ دینے کے سودے سے کوئی کمیشن وغیرہ وصول کر رکھی ہے؟ خدانخواستہ جس طرح حضرت اور مولانا فضل الرحمٰن نے اس معصوم کی خرید و فروخت کو اور خریدار سے نکاح کو عین جمہوری شریعت کے مطابق قرار دینے کے کمیشن میں اپنے بھائی کے لئے وزارت اور اپنے لئے کشمیر کو آزاد کرانے کی چیئرمینی وصول کی ہوئی ہے۔ شریفین اس مظلومہ کو بیچ دینے اور خرید لینے کے غیر جمہوری غیر اخلاقی اور غیر قانونی فعل کے خلاف اور کہیں نہیں تو دادو کے پولیس تھانے میں ہی رپٹ درج کرا دیں۔ پنجاب میں ایسی کوئی رپٹ درج کرا دینے سے ملک کے اس سب سے بڑے صوبے پر حکمران ان کی اپنی جمہوریت کا خادمانہ توازن خراب ہو سکتا کہ اس ناک کی سنہری نتھ جمہوریت کے اس بابا خریدار کی ہی عطا ہے۔ پھر ان کا رشتہ بھی تو آپس کا بڑا مقدس ہے۔ بھائی بھائی کا رشتہ۔ سید ابواستثنٰی گیلانی تو کہہ سکتے ہیں کہ ان کے پیر جمہوریت کی گدی کے بزرگ نشین کو نوزائیدہ جمہوریت کو خرید کر گھر میں ڈال لینے کے معاملے میں بھی استثنیٰ حاصل ہے مگر شریفین تو اس گدی کے مریدین نہیں ان کی تو اپنی ایک گدی ہے جس کے مریدوں میں پروفیسر ساجد میر سے لے کر ہر قسم کے رانے سیانے شامل ہیں اور ہاں کسی پنگھوڑے میں اس کی گنجائش سے زیادہ پنگھوڑا جھولنے والے بھر دئیے جائیں تو کیا ہوتا ہے؟ پڑھی نہیں آپ نے خبر کہ کسی میلے میں پنگھوڑے کے مالک نے اس کی گنجائش سے زیادہ شوقین بھر دئیے تھے اور پنگھوڑا اپنے عشاق کا بوجھ برداشت نہیں کر سکا تھا اور کافی بڑا حادثہ ہو گیا تھا اور سارا میلہ خراب ہو گیا تھا۔ جمہوریت کی موج والے میلے میں جہاں بھی کہیں جس بھی کسی نے میلہ لوٹنے کے لئے پنگھوڑا لگا رکھا ہے اس نے اس میں بہت زیادہ جھولنے والے بھر رکھے ہیں دعا کریں کہ جمہوری میلے کے پنگھوڑوں کے مالکوں کے اس لالچ اور میلہ لوٹنے کے جنوں میں کوئی پنگھوڑا سواروں کے بوجھ کے سامنے دم نہ توڑ دے اس سے بڈھے نال ویا ہی نابالغ جمہوریت کے وارثوں کے دل ٹوٹ جائیں گے۔ کتنے لاتعداد بھر رکھے ہیں شریفین کی جمہوریت کے میلے والے آصف علی زرداری نے اپنے پنگھوڑے میں؟ این آر او قبیلہ تو سارے کا سارا جمہوریت کے اس میلہ منڈی کے پنگھوڑے میں بھرا ہوا ہے اس بڈھے نے، جسے سید ابو استثنیٰ ہلارے چڑھاتے چڑھاتے دبلے ہو گئے ہیں۔