لولی لنگڑی پارلیمنٹ!

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

عزیزم حمزہ شہبازشریف ممبر قومی اسمبلی نے بہت ذو معنی بلکہ معنی خیز بات کی ہے کہ لولی لنگڑی پارلیمنٹ کا حصہ نوازشریف نہیں بننا چاہتے۔ اسی پارلیمنٹ کو بچانے کے لئے انہوں نے فرینڈلی اپوزیشن کا طعنہ بھی سنا ہے، یہ پارلیمنٹ جیسی بھی ہے رہے گی تو نواز شریف اور ان کی فیملی کی باری آئے گی۔ وہ صدر زرداری کی صدارت کے لئے پریشان نہیں ہیںمگر جس نظام کے تحت وہ صدر ہیں اگر نہ بچا تو پھر بہت دیر ہو جائے گی۔ میں ہمیشہ آمریت کے خلاف لڑتا رہا ہوں مگر جمہوریت کے دعویدار کیا کر رہے ہیں۔ کیا اقتدار کا حصول جمہوریت ہے؟ اس پارلیمنٹ کے سربراہ مخدوم گیلانی ہیں۔ وہ نہ صرف وزیراعظم ہیں بلکہ چیف ایگزیکٹو بننے کی کوشش کر رہے ہیں اس کوشش میں نوازشریف شہبازشریف ، حمزہ شہباز شریف اور ہر سیاسی شریف مخدوم گیلانی کے ساتھ ہے۔ مگر جب وزیراعظم نوازشریف کا نعرہ گونجتا ہے تو مخدوم صاحب کا دل کانپنے لگتا ہے۔ وہ سترھویں ترمیم بالخصوص تیسری بار وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بننے کی شق کے خلاف ہیں اور اس طرح خلاف ہیں کہ ہم وزیراعظم ہوں اور وزیراعلیٰ بھی ہماری فیملی سے ہو میں تو صدر کے لئے بھی تیسری بار کی شرط اس میں شامل کرنے کے حق میں ہوں چونکہ تیسری بار صدر بننے کا امکان کم کم ہے اس لئے یہ ضروری نہیں سمجھی گئی جبکہ اس وقت جنرل مشرف خود صدر تھے اس لئے بھی یہ شرط ضروری نہ سمجھی گئی۔ یہاں اقتدار کی باریاں مقرر ہیں اور اس کا تعلق ”بار بار“ سے ہے۔ بی بی صاحبہ اور میاں صاحبان دو دو دفعہ باری لے چکے ہیں اسی لئے تیسری بار کی شرط فوراً ختم ہونا چاہیے۔ میں تو یہ بھی کہتا ہوں کہ کوئی آدمی ممبر قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹر بھی تیسری بار نہ بنے۔ سیاستدانوں نے اپنے لئے یہ کریڈٹ بنا رکھا ہے کہ میں چھ سات دفعہ ممبر اسمبلی رہ چکا ہوں جیسے کہتے ہیں کہ میں 25 عمرے کر چکا ہوں۔ ممبران اسمبلی کا یہ شیوہ ہے کہ میں نے پہلے بھی کوئی کام نہ کیا تھا اور اب بھی کوئی کام نہیں کروں گا لوگوں سے پوچھا جائے کہ آپ ایسے شخص کو ووٹ کیوں دیتے ہیں۔ کئی لوگ تکلفاً مانگتے ہیں اس بات کا شیخ رشید کی اس بات سے تعلق نہیں کہ میرے مخالف کو جتوایا گیا ہے۔ وہ جب جیت جاتے تھے تو انہیں کون جتواتا تھا۔میں نے بات حمزہ شہبازشریف کی اس بات سے شروع کی تھی کہ یہ پارلیمنٹ لولی لنگڑی ہے کیونکہ نوازشریف اس کے ممبر نہیں بننا چاہتے ہیں وہ تو وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔ شہبازشریف کے لئے اس منصب کی آسانی ہے پھر پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لئے بھی پریشانی نہ ہو گی۔ حمزہ شہبازشریف ہیں نا۔!
لولے لنگڑے لوگ زندگی گزار جاتے ہیں تو ہماری لولی لنگڑی پارلیمنٹیس بھی زندگی گزار جاتی ہیں۔ یہ زندگی شرمندگی ہے ورنہ درندگی ہے کچھ لوگ شرمندگی سے بھی درندگی کا کام لینا جانتے ہیں، پچھلی پارلیمنٹ تو پھر بالکل ہی لولی لنگڑی تھی مگر وہ اپنی پوری عمر یعنی مدت گزار گئی۔ اس لولی لنگڑی پارلیمنٹ کے کئی ارکان اب بھی ایم این اے ہیں جمہوریت آنے کے بعد اب یہ بھی لولی لنگڑی پارلیمنٹ ہے تو پھر صحیح سالم پارلیمنٹ کب آئے گی ۔ ہمارے ملک میں پارلیمنٹ کی تاریخ ایسی ہی ہے۔ پارلیمنٹ سیاسی جرنیلوں اور سیاستدانوں کے ادوار میں ایک سی رہی ہے۔ یقیناً حمزہ شہباز کے خیال میں وہ پارلیمنٹ لولی لنگڑی نہ تھی جس کے وزیراعظم نوازشریف تھے مگر وہ اپنی عمر ہی پوری نہ کر سکی۔ ع
حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مر جھا گئے
اگر وہ پارلیمنٹ جمہوری ہوتی اور کچی پکی نہ ہوتی تو جس وقت توڑی گئی تھی تو نہ ٹوٹتی۔ سارے پارلیمنٹیرین ڈٹ جاتے مگر ہمارے سیاستدانوں میں یہ جرا¿ت اہلیت، دیانت، استقامت اور غیرت ہی نہیں ہے کہ وہ ثابت قدمی دکھائیں، یکجہتی پیدا کریں عوام کےلئے کچھ کریں خزانے پر حق صرف ان کی فیملی کا نہیں ہے۔ خدا کرے اب سیاست پر بُرا وقت نہ آئے مگر مجھے ان سیاستدانوں سے کوئی امید نہیں ہے۔ جمہوریت کی بات کرنے والے اپنے رویے اور اپنی سیاست اور اپنی جماعتوں میں جمہوریت نہیں لاتے کسی کی جرا¿ت نہیں کہ پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں یا کہیں بھی اپنے سربراہ سے اختلاف کر سکے۔ ہمارے ملک میں نہ جمہوریت آئی، نہ آمریت آئی۔ آمریت کے بھی جو ثمرات ہو سکتے تھے وہ عوام کو نہیں ملے۔ یہاں آمرانہ جمہوریت رہی ہے یا جمہوری آمریت۔حیرت ہے کہ خود حمزہ شہباز اسی لولی لنگڑی پارلیمنٹ کا حصہ ہیں۔ جس ٹکٹ پر نوازشریف تھوکتے بھی نہیں وہی ٹکٹ حاصل کر کے پرویز ملک پھولے نہیں سماتے۔ وہ پہلے بھی ممبر قومی اسمبلی تھے اور تب پارلیمنٹ بہت لولی لنگڑی تھی ۔ پرویز ملک کو پہلے ٹکٹ نہ دیا گیا تھا جس کا افسوس ہم نے مل کر کیا تھا۔ ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ بظاہر یہ تھی کہ وہ جسٹس (ر) اور اٹارنی جنرل ملک قیوم کے بھائی ہیں۔ جسٹس قیوم پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے نوازشریف کے کہنے پر بے نظیر بھٹو کے خلاف فیصلہ دیا تھا۔ ملک قیوم میں کوئی خوبی تو ہو گی کہ اس کے بعد انہیں وکیلوں نے صدر سپریم کورٹ بار بنا دیا۔ سب نے سیاست و حکومت میں اس طرح کے فیصلے کئے ہیں۔ پرویز ملک اب بھی ملک قیوم کے بھائی ہیں اب کیا ہوا ہے کہ انہیں اس ٹکٹ کا حقدار سمجھا گیا ہے۔ ان کی سگی بہن محترمہ یاسمین رحمان پیپلز پارٹی کی طرف سے پہلے بھی ممبر قومی اسمبلی تھیں اب بھی ہیں، بے نظیر بھٹو کو شاید معلوم نہ تھا کہ وہ ملک قیوم کی بہن ہیں؟ شریف فیملی میں کریڈٹ صرف ان کی پسند و ناپسند ہے اور یہ پسند و ناپسند بدلتی رہتی ہے۔ اس سے پہلے شہباز شریف نے پرویز ملک کو اپنا اسسٹنٹ یا مشیر بھی بنا لیا تھا۔ میری ملاقات پرویز ملک سے ہے۔ وہ سلجھے ہوئے آدمی ہیں دھیمے اور دوستانہ مزاج والے ہیں۔ انہیں ان دونوں سیاسی نوازشوں کو قبول نہیں کرنا چاہیے تھا۔ میرے لئے یہ بات بھی ناقابل فہم ہے کہ اس وقت خواجہ سعد رفیق ، مرغوب احمد، نصیر بھٹہ بھی موجود تھے اور بھی ممبران اسمبلی ہوں گے۔ حیرت صرف خواجہ سعد رفیق کے لئے ہے وہ شہید خواجہ رفیق کے بیٹے ہیں۔ فطری طور پر سیاستدان اور لیڈر ہیں کہ بنیادی طور پر ورکر ہیں۔ ن لیگ میں شاید ان سے بہتر مقرر کوئی نہیں ۔!