”روزہ کھولنے کی اداکاری!“

کالم نگار  |  اثر چوہان

پاکستان میں پہلا روزہ۔ 11جولائی کو ،متوقع ہے ۔غریب غُرباءپریشان ہیں ،ا ِس لئے کہ روزے تو،سال میں ایک مہینے کے ہوتے ہیں اور اُن کا ثواب بھی مِلتا ہے ،لیکن ہر روز بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے ، اُن کے باقی گیارہ مہینے بھی تو ،فاقہ کشی میں گُزرتے ہیں۔ اور فاقہ کشی کا ، ثواب بھی نہیں مِلتا ۔اولیائے کرامؒ ۔ اپنی مرضی سے ، فاقہ کشی اِس لئے کرتے تھے کہ ،رات کو نیند کم آئے اوروہ زیادہ وقت، یادِ الہیٰ میں گُزار سکیں ۔متحدہ ہندوستان میں ،افغان اور پھر مُغل بادشاہوں نے ، اولیائے کرامؒ کی درگاہوں کے لئے، زرعی زمینیں وقف کر رکھی تھیں ،جِن کی آمدن سے،اُن درگاہوں کے لنگر چلتے تھے،جہاں سے ہر شخص کو، مُفت کھانا مِل جاتاتھا ۔چشتیہ سِلسلے کے ولی ، بابا فرید شکر گنج ؒکے بھانجے اور خلیفہ ۔( بھارت میں)۔ کلئیر شریف کے ، حضرت علاﺅ اُلدّین صابرؒ کا لنگر چل رہا تھا ۔لوگ انواع و اقسام کے کھانے کھا رہے تھے اور لنگر خانے سے کچھ دُور۔ حضرت علاﺅ اُلدّین صابر ؒ ۔پانی کے ساتھ روٹی کھا رہے تھے ۔ایک شخص نے حضرت صابرؒ کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے، لنگر کے مُنتظم سے کہا ۔” دیکھو!۔ وہ بزُرگ ،پانی سے روٹی کھا رہے ہیں۔ آپ اُنہیں بھی، اچھی چیزیں کھانے کو کیوں نہیں دیتے؟“۔ لنگر کے مُنتظم نے کہا ۔”یہ لنگر انہی بزُرگ کی طرف سے تقسیم کِیا جا رہا ہے اور وہ اپنی مرضی سے، پانی کے ساتھ روٹی کھا رہے ہیں !“ ۔
اولیائے کرامؒ کے وِصال کے بعد، کچھ مُدّت تک اُن کی درگاہوں پر لنگر کا نظام جاری رہا ۔پھر اُن کے صاحبزدگان اور خُلفاءنے، درگاہوں کے لئے، وقف کی گئی زمینوں کو، اپنی ذاتی ملکیت بنا لِیا ۔مسلمان بادشاہوں، کی طرف سے، غریبوں کے لئے ،ہر شہر میں سرکاری خرچ پر، چنے کی دال کی کھچڑی کی دیگیں پکتی تھِیں۔مُغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر کی تو خوراک ہی کھچڑی تھی ۔ ایک دِن اورنگ زیب عالمگیر کے ایک مصاحب نے ،جان کی امان پا کر عرض کِیا ۔” جہاں پناہ!۔ میری بیٹی کی شادی ہے ۔کچھ مدد فرمائیں !“۔ بادشاہ نے کہا ۔” تمہیں سرکاری خزانے سے کچھ دوں گا تووہ، خیانت ہو گی اور میں کہاں سے مدد کروں کہ، میں تو، خود ٹوپیاں سی کر اور اُنہیں فروخت کر کے، گُزر اوقات کرتا ہوں!“۔ پھر بادشاہ کو مصاحب پر ترس آگیا اور اُس نے کہا ۔” تم کل مجھے میرے ۔” مطبخ “۔ ( باورچی خانے ) ۔میں مِلو!“۔ اگلے روز مصاحب۔ بادشاہ کے مطبخ پہنچا تو بادشاہ اُس کا منتظر تھا ۔ کھچڑی کے چند تھال ، سادہ سے رومالوں سے ڈھکے پڑے تھے اور اُنہیں، اُٹھانے کے لئے، اُتنے ہی خادم۔ بادشاہ نے مصاحب سے کہا کہ۔” فلاں فلاں پنج ہزاری اور دس ہزار ی کے پاس، کھچڑی کے یہ تھال لے جاﺅ!۔ اور کہو کہ۔ عالمگیر بادشاہ نے، تمہارے لئے کھچڑی بھجوائی ہے اور ساتھ ہی اپنی ضرورت بھی بیان کر دینا!“۔ مصاحب نے ایسا ہی کِیا ۔ہر پنج ہزاری اور دس ہزاری نے ، شکریے کے ساتھ،بادشاہ کی طرف سے،بھجوائی گئی کھچڑی قبول کر لی اور مصاحب کو مالا مال کر دِیا ۔
جمہوری دَور میں ایسا نہیں ہوتا ۔ کوئی بھی صدر یا وزیرِاعظم ۔ریاست کے مختلف شہروں میں،غریب، غرباءکی بھُوک مٹانے کے لئے،سرکاری خرچ سے کھچڑی کی دیگیں نہیں پکواتا ۔خود بھی کھچڑی نہیں کھاتا اور نہ ہی اُس کے پاس، اتنا وقت ہوتا ہے کہ وہ ٹوپیاں سینے میں اپنا قیمتی وقت ضائع کرے ۔ پھر امورِ مملکت کون انجام دے گا ؟۔ خلیفہءدوم حضرت عُمر بِن خطابؓ نے، اپنی مملکت کے تمام انسانوں کے لئے روزگار اور ضروریات ِ زندگی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ، دریائے فرات کے کنارے پر کھڑے یا بیٹھے کتّے کو خوراک فراہم کرنا بھی، ریاست کی ذمہ داری قرار دیا۔ سندھ ، چناب اور جہلم دریاﺅں کے اردگرد آباد انسانوں اور اِن دریاﺅں پر کھڑے ، بیٹھے یا لیٹے کتّوں کی کفالت تو، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمرانوں کی ذمہ داری ہے ۔ قرآنِ پاک میں مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہُوئے کہا گیا ہے۔” تُم پر روزے فرض کئے گئے ہیں ،جِس طرح تم سے پہلے قوموں پر، فرض کئے گئے تھے “۔تمام مذاہب کے لوگ، اپنے اپنے عقیدے کے مطابق روزے رکھتے ہیں۔حضرت گوتم بدھ۔انسانوں میں مساوات کے علمبردار تھے ۔ہندوﺅں کے اوتار۔ شری کرشن جی مہاراج نے، کہا تھا کہ۔” جو لوگ اکیلے کھاتے ہیں اور کھانے میں دوسروں کو شریک نہیں کرتے وہ پاپ (گناہ) کھاتے ہیں “۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے کہا تھا کہ۔ ”اونٹ ۔سوئی کے ناکے میں سے گُزر سکتا ہے ،لیکن خدا کی راہ میں ( غریبوں پر) ۔خرچ نہ کرنے والا دولت مند خُدا کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو گا“۔قرآن پاک میں فرمایا گیا ہے کہ۔” جو لوگ سونا ،چاندی جمع کرتے ہیں اور خُداکی راہ میں خرچ نہیں کرتے ،قیامت کے دِن، اُسی سونے اور چاندی کو آگ میں، تپا تپا کر ،اُن کی پیشانیوں اور پُشتوں کو داغا جائے گا “۔سِکھّ مذہب کے بانی۔بابا گرُو نانک جی نے کہا تھاکہ۔”میرے سِکھّوں کو ، بانٹ کر کھانا چاہیئے“۔ امریکہ اور یورپی مُلکوں میں، کرسمس ، ایسٹر اور عیسائیوں کے دوسرے تہواروں سے پہلے، اشیائے خورونوش کی قیمتیں کم کر دی جاتی ہیں ۔یوں بھی اُن مُلکوں میں،کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتیں، دس دس سال اور پندہ پندہ سال تک بڑھنے نہیں دی جاتیں ، لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ماہِ رمضان میں۔” تھوک فروش برادران ِاسلام “۔مصنوعی مہنگائی کا ایسا چکر چلاتے ہیں کہ۔درمیانے اور غریب طبقے کی زندگی عذاب بن جاتی ہے ۔ حکومت سے تو خیر، وہ ڈرتے ہی نہیں،لیکن ۔” عُلمائے اسلام“۔ بھی ایسے لوگوں کو ،خُداکے عذاب سے ڈرانے کے لئے وقت نہیں نکال سکتے،کیا مصنوعی طور پر پیدا کی گئی مہنگائی کے خلاف آواز بُلند کرنا،عُلمائے اسلام کا مسئلہ نہیں ۔
مختلف نیوز چینلوں پر ،عُلما دِین کے بارے میں عوام کی معلومات میں اضافہ کرتے ہیں ۔ اچھی بات ہے۔لیکن یہ کیا ہو رہا ہے کہ۔ ماہِ رمضان سے ایک مہینہ پہلے ہی ۔ کوکنگ آئلز ،مشروبات و ماکولات ، تیار کرنے والی کمپنیوںکے اشتہارات میں بھی، ماہِ رمضان کی فضیلت اور برکات کو، انوکھے انداز میں پیش کیا جا رہا ہے؟ ۔ آپ نے بھی دیکھا ہو گا کہ، زرق برق کپڑے پہنے بزُرگ اور جوان مرد و خواتین اور بچوں کے سامنے ،بچھے دستر خوان پر، انواع و اقسام کی نعمتیں سجی ہیں اور وہ، بڑے۔” خشوع خضوع “۔سے روزہ افطار کر رہے ہیں ۔کئی اشتہاروں میں روزہ افطار کے بعد ۔( مرد ،خواتین اور بچوں ) ۔ کو نماز پڑھتے ہُوئے بھی دِکھایا جاتا ہے ۔پس منظر میں ،قوالی بھی سُنائی جا تی ہے ۔ شاید عُلمائے کرام، نیوز چینلوں پر، صِرف اپنے ہی ریکارڈ کئے گئے پروگرام دیکھتے ہونگے کہ اُنہوں نے۔اِس۔”بدّت“۔ کا نوٹس نہیں لیا۔ میں عام مُسلمان کی حیثیت سے سوچتا ہوں کہ، ماہِ رمضان سے ایک ماہ قبل، نیوز چینلوں پر، بزرگ اور جوان مردوں ، عورتوں اور بچوں سے روزہ کھولنے کی اداکاری کیوں کرائی جا رہی ہے؟۔ اُن کے دسترخوان پر سجی نعمتوں کو دیکھ کر، اُن مفلُوک اُلحال مسلمانوں کے دِ لوں پر کیا گُزر تی ہو گی ، جو عیدین پر بھی ،اُن کے نصیب میں نہیں ہوتیں۔ کیا فرماتے ہیں ، عُلمائے دِین۔ بیچ اِس مسئلے کے؟۔