چین میں پاکستان کی آخری امید

ہم پاکستانی بہت جذباتی واقع ہوئے ہیں، ہماری امیدوںکاا ٓخری مرکز چین رہ گیا ہے یا کسی حد تک سعودیہ ، جس کے دورے کو نواز شریف نے اولیت نہیں دی۔
صدر زرداری نے پانچ برسوں میں چین کے سات دورے کئے، اولمپک گیمز کے دوران ایک دورہ ان کے بچوں کا بھی گن لیا جائے تو کل دورے ہوئے آٹھ، حاصل کیا ہوا، صفر جمع صفر مساوی ہے صفر۔میرے لئے ذاتی طور پر اس سے زیادہ صدمے والی بات اور کوئی نہیں۔میںنے زرداری کے دوروں کو ہائی لائٹ کرنے میں جوش وجذبہ دکھایا، زرداری صاحب سے مجھے کتنی محبت ہو گی ، اس کا اندازہ اس امر سے ہو سکتا ہے کہ میں ان کے آموں والے صحافیوں کی لسٹ میں شامل نہیں ہوں لیکن وہ قول جسے میں نے حدیث کا درجہ دے رکھا ہے کہ علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے، اس کے پس منظر میں مجھے چین سے بہت زیادہ محبت ہو گئی تھی اور میں نے بھٹو دور میں پتن اور بشام کا زلزلہ کور کرنے کے لئے شاہراہ ریشم کا سینکڑوں میل تک سفر کیا تھا تو جگہ جگہ چینی شہیدوں کی قبروں پر خاموش سلام پیش کیا تھا، انہوں نے ہمالیہ اور قراقرم سے اونچی دوستی کو مستحکم بنانے میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔ایوب دور میں چو این لائی لاہور کے دورے پر آئے تو میں اپنے گاﺅں سے خاص طور پر ان کے استقبال کے لئے ا ٓیا تھا، چو این لائی کا جادو مجھے کھینچ لایا تھا۔گورنر ہاﺅس کے سامنے فٹ پاتھ پر کھڑے ہو کر میں نے اس عظیم لیڈر کو دیکھ کر وارفتگی سے ہاتھ ہلائے تھے اور مجھے یقین ہے کہ چینی مہمان نے میرے جواب میں ہاتھ ہلا کر اپنے دلی جذبات کااظہار کیا تھا۔
میں نے کبھی چین کا سفر نہیں کیا۔ اب شاید کبھی نہ کر سکوں گا کیونکہ حکومت خود تو قومی خزانے سے سفر کرنے کو جائز سمجھتی ہے مگر صحافیوں پر قومی خزانہ حرام قرار دے چکی ہے۔اور جب صحافی اپنے خرچ پر جائیں گے تو انہیں وزیر اعظم سے اتنی ہی ہمدردی ہوسکتی ہے کہ وہ ان کی قیمتی ریشمی ٹائی پر توجہ مرکوز رکھیں ، یہی ایک خبر ہے جو آج کے اخبارات میں دلچسپی سے پڑھی گئی ہے،قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں تو من پسند صحافیوں کو سرکاری خرچ پر بلایا گیا تھا مگر کسی دل جلے کو اپنے خرچ پر اسلام آباد جانا پڑا ہو گا چنانچہ ایک رکن قومی اسمبلی کی چھیالیس کروڑ کی گھڑی کی در فنطنی چھوڑ دی گئی۔
میں نے کالم لکھنے سے پہلے چینی اخباروں کو انٹرنیٹ پر کھنگالنے کی کوشش کی ہے، چین کے سرکاری میڈیا کی جاری کردہ چند تصویروں کو میںنے غور سے دیکھا ہے، مجھے نواز شریف کی ٹائی میں کوئی غیر معمولی چمک نظر نہیں آئی۔ البتہ لباس بیش قیمت معلوم ہوتا ہے، چین دنیا کی اب بھی سپر پاور ہے، مگر چینی صدر کا روائتی لباس ہے۔
 وزیر اعظم نے دورہ تو چین کا کیا ہے مگر ابھی تک وہاں سے کوئی خوش کن خبر نہیں آئی اور اگر کوئی اچھی خبر ملی ہے تو وہ اسلام آبا د سے ہی پھوٹی ہے جہاں ہمارے وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف سے کامیاب مذاکرات کے بعد نوید سنائی ہے کہ پاکستان کو قرض مل جائے گا۔اس قرض کے ساتھ شرائط تو ہیں لیکن ڈیفالٹ ہونے سے کہیں بہتر ہے کہ ہم کڑوی گولی نگل لیں۔ ڈیفالٹ کر جاتے تو ہماری حکومت اور اشرافیہ پر کڑا وقت آتا،اور ان کی چیخیں نکل جاتیں ، چیخیں تو اب بھی نکلیں گی لیکن غریبوں کی جن پر بہت سارے ٹیکس پہلے ہی لاد دیئے گئے ہیں اور ابھی منی بجٹ کی شکل میں قطارا ندر قطار ٹیکس چلے آئیں گے۔غریب آٹے دال کا بھاﺅ بھول جائیں گے۔جس طرح دمشق میں ایک بار ایسا زور کا قحط پڑا کہ یار لوگ عشق کے ناز نخرے بھول گئے تھے۔
زرداری صاحب نے چین کے سات دورے کئے، نواز شریف نے ابھی پہلا دورہ کیا ہے اور بے چین دکھائی دیتے ہیں ۔ انہوں نے حکم جاری کیا ہے کہ چین سے آنے والے منصوبوں کی سات روز کے اندر منظوری دی جایا کرے۔سات روز کے اندر تو بیجنگ کے بنک سے اسلام آباد کو بھیجا گیا چیک بھی شایدکلیئر نہیں ہو سکتا۔نواز شریف کا سارا زور چینی سرمایہ کاری پر ہے، انہوںنے ایک سرمایہ کار سے کہا کہ وہ پاکستان آئیں، جواب ملا، اکتوبر میں پروگرام بناﺅں گا، کہنے لگے ایک ہفتے کے اندر کیوں نہیں، دو دنوں میں کیوں نہیں ، ایک چینی سرمایہ کار نے کہا کہ وہ چار سال میں کارخانہ لگائیں گے، ہمارے وزیر اعظم کو عجلت پڑی ہوئی ہے ، کہا کہ دو سال میں مکمل کریں۔چینیوں نے سمجھایا کہ آپ کے ہاں لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ ہے، جا ن محفوظ ہے، نہ مال۔ افسر شاہی روڑے اٹکاتی ہے، وزیر اعظم نے کہاکہ مجھ سے براہ راست رابطہ قائم کریں، کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہو گا۔ کیسے نہیں ہو گا، مجھے اس کی سمجھ نہیں آئی، چینی سیاحوں کو نانگا پربت کی چوٹیوں پر نشانہ بنایا گیا ہے، چینی ماہرین کو گوادر میں بارود سے اڑایا گیا۔چینیوں سے کہا جا رہا ہے کراچی میں انڈر گراﺅنڈ ریل بچھائیں ، وزیر اعظم نے بڑے چاﺅ سے چینی انڈر گراﺅنڈ میں سفر کیا ہے، اس پر بریفنگ لی ہے لیکن کراچی میں جاری قتل و غارت کا کیا کریں گے۔چینیوں کو اس پر بریفنگ کیا الطاف بھائی دیں گے۔
ذکر پھر زرداری صاحب کے سات دوروں کا۔وہ ہر بار یہ دیکھنے گئے کہ چین نے سمال ڈیمز کیسے بنائے۔انہوںنے چین سے سینکڑوں نہیں تو درجنوں ایم او یو سائن کئے، پاکستان کے ہر صوبے میں ایک سمال ڈیم۔مگر نتیجہ کچھ نہ نکلا ، زرداری کی حکومت کو کسی نے چلنے نہیں دیا، دو وزیر اعظم بدلنے پڑے اور پتہ نہیںکتنے محکموں کے اعلی افسر اور وزیر یا تو جیل گئے، یا معطل ہوئے یا ملک چھوڑ کر بھاگ گئے۔ایسی طوائف الملوکی میں چین کیا خاک مدد کرتا، میاں صاحب کو بھی پہلے گھر کی حالت بہتر کرنا چاہئے تھی۔پھر کشکول پکڑ کر باہر نکلتے۔اب توکشکول میں بھی ڈائنامائٹ لگا ہوا ہے۔
مجھے یقین ہے چین کسی مشکل کو خاطرمیں نہیں لاتا۔ اس نے تو اپنے ہاں مسلم انتہا پسندی کی آڑ میں پاکستان کے خلاف وار آن ٹیرر شروع نہیں کی، بس ہولے سے پاکستان کو سمجھا دیتا ہے کہ فاٹا میں موجود چینی مجاہدین کو کنٹرول کیا جائے۔پاکستان کو بہت کچھ کنٹرول کرنا ہے تاکہ چین اس کی امیدوں کا مرکز ثابت ہو سکے۔آخر چین کی بھی کچھ امیدیں ہیںجن پر ہمیں پورا اترنا ہے۔وہ مسئلہ کشمیر پر بھی صبر کا درس دیتا ہے۔
ہمیں چین اور بھارت کی دوستی پر نظر رکھنا ہو گی، چینی وزیر اعظم نے حال ہی میں بھارت کا دورہ کیا ، پھر پاکستان بھی آئے۔اس وقت جب ہمارے وزیر اعظم اور وزیر دفاع نواز شریف چین میں ہیں تو بھارتی وزیر دفاع بھی بڑے وفد کے ساتھ وہاں پہنچ گئے ہیں۔اس دوڑ کا مقابلہ کیسے کر پائیں گے شاید وزیر اعظم کے وفد میں شامل شعیب بن عزیز اس پر کوئی مصرع ارشاد فرمائیں۔اس دورے میںان سے زیادہ خطے کی ڈپلو میسی کا ایکسپرٹ اور کون ہوگا۔پرویز رشید وفاقی وزیر اطلاعات ہیں ، انہیں حکومتی ترجمان بھی مقرر کر دیا گیا ہے مگر وہ چین سے موصول ہونے والی تصویروں میں کہیں نظر نہیں آتے۔نظر آنا چاہئے تھا۔