ایٹمی دھماکوں کے بعد ..... ؟

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

مجھے نہیں معلوم کہ کس کتاب کی تقریب تھی میں تو وہاں گیا تھا کہ ڈاکٹر قدیر خان، ڈاکٹر مجاہد کامران، ڈاکٹر بابر اعوان وہاں آئے ہوئے تھے۔ نظریاتی آرٹسٹ، دانشور اور بہادر شجاعت ہاشمی بھی تھے۔ کتاب پیس ایکٹوسٹ (پُرامن انقلابی) فرخ سہیل گوئندی کے ادارے جمہوری پبلی کیشنز سے شائع ہوئی ہے۔ فرخ نے پیپلز پارٹی چھوڑ دی ہے۔ وہ صحیح معنوں میں دانشور پبلشر ہے۔ شاعر پبلشر خالد شریف ہے۔
جس کتاب کی تقریب تھی اس کے لئے برادر کالم نگار سعید آسی نے ایک زبردست کالم لکھا ہے۔ میرے پاس وہ کتاب نہیں پہنچی۔ ایم این اے اعجازالحق نے بھی آسی صاحب سے بات کی۔ اعجازالحق اپنے والد کے مو¿قف کے لئے جمہوری انداز میں دفاع کرتے ہیں۔ انہوں نے آج 5 جولائی کو یومِ نجات منانے کا اعلان کیا ہے۔ پیپلز پارٹی والے جب حکومت میں ہوتے ہیں تو اور طرح سے 5 جولائی مناتے ہیں، جب اقتدار میں نہیں ہوتے تو اس طرح احتجاج نہیں کرتے۔ اب صدر زرداری کی قیادت میں بالکل اور طرح سے یہ دن مناتے ہیں۔ اعجازالحق کے اعلان کے بعد حالات کے بدلنے کا امکان ہے۔ پچھلے دنوں نوائے وقت کے کالم نگار چودھری اکرم نے اعجازالحق سے ایک ملاقات کا اہتمام کیا۔ دوستانہ ماحول میں اندر کی بات ہوئی۔ اس کا تذکرہ بھی الگ کالم میں کیا جائے گا۔
تقریب میں جو تقریریں ہوئیں اور سعید آسی کے کالم سے پتہ چلا کہ کتاب کا نام ہے ”پاکستان ایٹمی طاقت کیسے بنا“ یہ تو اب پاکستان کے بچے بچے کو معلوم ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ ایٹم بم بننے کے بعد پاکستان پر کیا گزری اور گزر رہی ہے۔ حکمران بھارت دوستی کے لئے مرے جا رہے ہیں۔ نواز شریف بھی اس معاملے میں بے قرار ہیں اور بہت جلدی میں ہیں۔ ان سے یہ پوچھنا ہے کہ انہوں نے ایٹمی دھماکے کس ملک کے خلاف کئے تھے، چلیں یہ بتا دیں کہ کس ملک کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں کئے تھے۔ کئی لوگ کہتے ہیں کہ وہ ایٹمی دھماکے نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ڈاکٹر مجید نظامی کا یہ جملہ بھی بچے بچے کو یاد ہے ”دھماکے کرو ورنہ قوم تمہارا دھماکہ کر دے گی۔“ بہرحال یہ ان کا کریڈٹ ہے کہ انہوں نے دھماکے کئے۔ ڈاکٹر قدیر خان نے ایٹم بم کے حوالے سے جن لوگوں کا ذکر کیا ان میں نواز شریف کا نام بھی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو، صدر اسحاق خان، جنرل ضیاالحق اور نواز شریف!
نواز شریف نے 28 مئی کو یومِ تکبیر کا نام دلوایا، اب اس دن کو پوری طرح نہیں منایا جاتا۔ صرف نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے زیر اہتمام دوسرے شاندار قومی ایام کی طرح یومِ تکبیر بھی منایا جاتا ہے۔ اس سال بھی نعرہ¿ تکبیر گونجتا رہا۔ برادرم شاہد رشید نے ولولہ انگیز کمپیئرنگ کی۔ مجید نظامی نے ہمیشہ کی طرح صدارت کی۔ اس سال مہمان خصوصی نواز شریف تھے۔ انہوں نے اچھی تقریر کی مگر بھارت کا ذکر مجید نظامی نے کیا۔ یہ یاددہانی ہے ورنہ شاید ہمارے حکمرانوں کو بھول گیا ہے کہ ہم ایٹمی طاقت ہیں۔ یہ نہیں مانتے تو ہمیں ایٹمی ملک تو مانو۔ تقریب میں صاحبِ کتاب میاں عبدالوحید کا ذکر کم رہا اور ڈاکٹر قدیر کا ذکر زیادہ رہا۔
ڈاکٹر قدیر کو صدر پاکستان بنانے کا مطالبہ ہوتا رہا۔ ڈاکٹر مجاہد کامران نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر کو ضائع تو نہ کرو۔ ان سے کام لو وہ ایٹم بم بنانے کے بعد وطن عزیز کو ایک معاشی طاقت بنانے میں بھی ایسا ہی تاریخی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ایٹمی دھماکہ کرنے کے بعد معاشی دھماکہ کرنے کا وعدہ کرنے والے ڈاکٹر قدیر سے پھر کام لے سکتے ہیں۔ ڈاکٹر بابر اعوان تو اس سے بھی آگے چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ مجاہد کامران پنجاب یونیورسٹی میں ڈاکٹر قدیر چیئر کا اعلان کریں۔ اس پر خواتین و حضرات نے بہت تالیاں بجائیں۔ سب سے زیادہ تالیاں ڈاکٹر بابر اعوان کی تقریر کے دوران بجتی رہیں۔ سٹیج پر بیٹھے ہوئے ڈاکٹر مجاہد کامران نے ڈاکٹر قدیر چیئر کا اعلان کر دیا۔ یہ اس تقریب کا لمحہ¿ کمال تھا۔
اس سے پہلے ڈاکٹر مجاہد کامران دنیائے صحافت میں آزادی¿ اظہار کی ایٹمی طاقت حمید نظامی چیئر اور تحریک پاکستان کے نامور کارکن دوقومی نظریے کے علمبردار محمود علی چیئر کا بھی اعلان کر چکے ہیں۔ ڈاکٹر مجاہد کامران کا اعزاز یہ بھی ہے کہ انہوں نے آبروئے صحافت، جرا¿ت اظہار کی علامت مجید نظامی کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری پیش کی۔ مجیب شامی نے اسے پنجاب یونیورسٹی کا اعزاز قرار دیا۔
ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا بھٹو صاحب نے اعلان کیا تھا کہ ہم گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے۔ ہم نے گھاس کھائے بغیر ایٹم بم بنا لیا مگر اب ایٹم بم بنانے کے بعد گھاس کھانے پر مجبور ہیں۔ ڈاکٹر بابر اعوان کو معلوم ہو گا کہ ہمیں امریکی وزیر خارجہ نے نائن الیون کے بعد کہا تھا کہ ہمارا ساتھ دو ورنہ تمہیں پتھر کے زمانے میں پھینک دیں گے۔ پتھروں میں رہنے والے فریڈم فائٹر جرا¿ت ایمان سے سرشار افغان مجاہدین تو زندہ تر ہیں۔ امریکیوں کے گلے میں پتھروں کے ہار ہیں۔ مگر ہم امریکہ کا ساتھ دینے کے باوجود پتھر کے زمانے میں پہنچ گئے ہیں۔ اب تو ہم دہشت گردی کی زد میں ہیں۔ دھماکے ہی دھماکے ہیں۔
ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ کالاباغ ڈیم بناﺅ۔ مگر یہ کون بنائے گا کہ صدر زرداری کے پانی و بجلی کے ”وزیر لوڈشیڈنگ“ نے آغاز ہی میں اعلان کیا تھا کالاباغ نہیں بنے گا۔ کسی حکمران نے یہ جرا¿ت نہ کی۔ نوازشریف سے کیا امید کی جا سکتی ہے کہ وہ تیسری بار وزیراعظم بنے ہیں۔ اس بات کا اشارہ بھی نواز شریف کی طرف ہے کہ مصر کے صدر مرسی ماڈل سے بچیں پاکستان کے صدر تو زرداری صاحب ہیں اور ابھی تک ایوان صدر میں ہیں۔ ان کی پیپلز پارٹی نے امریکی اور مفاہمتی جمہوریت کے نام پر پانچ سال حکومت کر لی ہے۔ اب سارے خطرے نواز شریف کے لئے کیوں ہیں۔ وہ بھی تو صدر زرداری کے ماڈل کے مطابق حکومت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔