یوم یکجہتی کشمیر اور یوم سیاہ

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
یوم یکجہتی کشمیر بھارت کے خلاف یوم سیاہ کے طور پر بھی منایا جاتا ہے اس حوالے سے وقت ٹی وی چینل نے ایک انوکھی روایت کا آغاز کیا ہے۔ ہر آغاز میں کئی راز پوشیدہ ہوتے ہیں۔ وقت نیوز نے آج کے دن کے لئے اپنی نشریات بلیک اینڈ وائٹ کر دیں۔ یہ ایک علامتی اظہار ہے اس غم و غصے کے لئے جو بھارت کے خلاف کشمیر میں ہے اور پاکستان میں ہے۔ وقت نیوز کے پروگرام یوم کشمیر کے حوالے سے بہت اہم اور شاندار ہوتے ہیں۔ 5 فروری کو چھٹی ہوتی ہے۔ یہ بھی احتجاج کی ایک شکل ہے۔ اس دن لوگ کچھ بھی نہیں کرتے۔ دفتر بند‘ کاروبار بند مگر ایک قرینہ یہ بھی ہے کہ
عشق و مستی کے راستوں پر سفر رکتا نہیں اور کبھی دل والوں کو چھٹی نہیں ملتی !
مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھا
اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا
قربانی دینے والوں کی کہانی ختم نہیں ہوتی نئے کردار آتے رہتے ہیں اور بات آگے بڑھتی رہتی ہے۔ خاندان عشق کے لوگ عجیب لوگ ہوتے ہیں۔ ع
کہ ہوتے جاتے ہیں قتل اور کم نہیں ہوتے
نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی طرف سے 5 فروری سے ایک دن پہلے ایک شاندار تقریب ہوئی۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے زیر اہتمام وہ دن بھی منائے جاتے ہیں جو سرکاری طور پر نہیں منائے جاتے۔ مجاہد صحافت نظریہ پاکستان کے صاحب نظر پاسبان مجید نظامی ہر تقریب میں موجود ہوتے ہیں۔ ان کی ہدایات کے مطابق شاہد رشید سب سے زیادہ تقریبات کرنے کا ریکارڈ قائم کرنے والے ہیں۔ سرکاری طور پر یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے ضلعی حکومت لاہور نے بھرپور طریقے سے یہ دن منایا اور یہ دن ہزاروں دنوں کا ایک دن بن گیا۔ ڈی سی او لاہور سجاد بھٹہ نے ذاتی نگرانی میں سارے معاملات کو دیکھا۔ ضلعی حکومت کے چیف پی آر او ایسے موقعوں پر بہت سرگرم ہوتے ہیں۔ وہ شاعر ادیب اور کالم نگار ہیں۔ یہ ایک سرکاری تقریب تھی اس کی کامیابی کی دلیل یہ ہے کہ آغاز سے لے کر اختتام تک غیر سرکاری انداز غالب رہا۔ غیر سرکاری لیکن غیر سیاسی نہیں۔ مسلم لیگ ن کے ایم این اے خواجہ سعد رفیق‘ ایم پی اے خواجہ عمران نذیر اور پنجاب حکومت کے وزیر جیل خانہ جات چودھری غفور کی موجودگی میں بھی سیاست غالب نہ آ سکی تاہم اسے روایتی قسم کی سرکاری تقریب بھی نہیں کہا جا سکتا۔ میرے لئے اعزاز کی بات تھی کہ اس یادگار تقریب کی کمپیئرنگ کا موقعہ ملا۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ میں اہتمام اور انتظام کے علاوہ تقریب کی نظامت بھی شاہد رشید کے سپرد ہوتی ہے۔ رفاقت ریاض اس کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے۔ مجید نظامی نے کہا کہ شہید بھٹو کی شہید بیٹی کے شوہر صدر زرداری بھارت کے ساتھ ایک ہزار سال تک جنگ کرنے کا وعدہ پورا کریں۔ شہید بھٹو نے یہ نعرہ لگا کر لوگوں کے دل جیت لئے تھے۔ تب لاہور شہر بھٹو کا شہر بن گیا تھا۔ اب نواز شریف کو اس شہر کی سرداری حاصل کرنے کے لئے بھارت کو للکارنا ہو گا۔ یہ بھی للکار تھی کہ ان کے زمانے میں واجپائی جیسے ہندو لیڈر نے مینار پاکستان پر پاکستان کو ایک حقیقت تسلیم کیا تھا۔ مگر ابھی تک ان کے لئے یہ تلخ حقیقت بنی ہوئی ہے۔ اس بات کی طرف چودھری غفور نے اپنی تقریر میں اشارہ کیا تھا۔ سٹی گورنمنٹ کی تقریب میں مجید نظامی کا بڑا ذکر رہا لگتا ہے کہ یہ دونوں تقریبات جڑواں اجلاس کی طرح تھیں۔
خواجہ سعد رفیق‘ چودھری عبدالغفور اور عمران نذیر نے مجید نظامی کی رہنمائیوں اور معرکہ آرائیوں کا ذکر کیا۔ میں نے انہیں بتایا کہ ایک بار جنرل ضیاءکی طرف سے بھارت جانے کی دعوت کے جواب میں نظامی صاحب نے کہا کہ اگر آپ مجھے ٹینک پر بٹھا کر بھارت لے جا¶ گے تو میں تمہارے ساتھ آنے کو تیار ہوں۔ بہادر سیاستدان خواجہ سعد رفیق نے بہت دردمندی سے ایک بات کی کہ آج کے دن کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی میں پارلیمنٹ کا اجلاس بلانا چاہئے تھا یہ ایک دن کا اجلاس پورے سال سے اہم ہوتا۔ ایک محبت کشمیریوں کے لئے اور ایک پیغام بھارتی قیادت کے لئے اور پوری دنیا کے لئے یہ ایک وارننگ ہوتی کہ پاکستان کی ساری قیادت اس معاملے میں یکجا ہے۔ یہ یکجائی اور یکجہتی ایک یگستائی کی طرف ہمیں لے جاتی۔
خواجہ سعید رفیق کی تقریروں کو مجید نظامی نے بھی پسند کیا۔ وہ سیاستدان سے زیادہ ایک سکالر لگتا ہے۔ مسلم لیگ ن میں شاید اس کے جیسی جچی تلی بات کوئی بھی نہیں کرتا۔ عوامی انداز میں علمی گہرائی لا کے دلچسپ گفتگو کرنا سیاست میں کسی کسی کو آتا ہے۔ چودھری غفور جب تک وزیر جیل خانہ جات ہے تو ایک قیدی کی طرح ہے اس نے عید بھی قیدیوں کے ساتھ منائی تھی۔ آج کل پاکستان میں قیدیوں کی حکومت ہے۔ قیدی اور قائد میں کچھ فرق نہیں۔ مگر جب سیاستدان قیدی ہوتے ہیں تو قائد ان کے دل کے پاس ہوتا ہے مگر جب وہ اپنے طور پر قائد بنتے ہیں تو پورے کے پورے حکمران ہوتے ہیں اور اقتدار کے ایوانوں کے قیدی ہونے کے بعد بھی اپنے آپ کو قیدی نہیں سمجھتے۔ چودھری غفور نے لال قلعے پر جھنڈا لہرانے کی علامتی بات دہرائی تو الطاف حسین وانی نے کہا کہ یہ صرف نعرے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ لال قلعے پر جھنڈا نہ لہرانے دیں۔ مگر اس طرف جاتے ہوئے ہمیں ڈنڈا لہرانے کی اجازت تو دیں۔ حکمران اور دانشور صرف اتنا کریں کہ ڈنڈی نہ ماریں۔ پاکستان میں رہتے ہوئے بھارت کی نمائندگی نہ کریں۔ احسن اختر ناز نے میرے لئے بزرگ کا خطاب استعمال کیا تو میں نے انہیں کہا کہ بزرگ ہوں گے آپ کے بزرگ۔ میری مشکل یہ ہے کہ میں انہیں اپنا برخوردار بھی نہیں کہہ سکتا۔ وہ پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ اطلاعات اور ابلاغ عامہ کے ڈائریکٹر ہیں اور ڈاکٹر مغیث کی طرح شعبے میں بہت شاندار تقریبات کرتے رہتے ہیں۔
سجاد بھٹہ باہر سے بیورو کریٹ مگر اندر سے صوفی ہیں۔ انہیں کئی مقررین نے پیرومرشد کہا۔ میرے خیال میں مرشد اور محبوب کو خوبصورت ہونا چاہئے۔ اس جملے کے بعد سب کی نگاہیں سجاد بھٹہ کی طرف اٹھ گئیں۔ وہ لاہور شہر کو خوبصورت بنانے میں مگن ہیں۔ یوم یکجہتی کشمیر دل والے لاہوریوں کے ساتھ منا کے انہوں نے کمال کر دیا ہے۔ انہیں ندیم الحسن گیلانی کی وجہ سے اس حوالے سے بڑی آسانی ہو گی۔ ندیم نے سابق ناظم لاہور عامر محمود کے مختلف تعمیری اور فلاحی منصوبوں کے لئے بھی بہت محنت کی ہے۔ اسے کشمیری نیلسن منڈیلا سید علی گیلانی کی نسبت کو یاد رکھنا چاہئے۔ تقریب میں فاطمہ غزل نے ولولہ انگیز نظم سنائی۔ آخر میں سجاد بھٹہ نے عجب دعا کی۔ انہوں نے شہید کشمیریوں کی زندہ روحوں کو آواز دی اور کہا تم زندہ ہو۔ ہمارے لئے دعا کرو کہ ہم کشمیر کو آزاد کرانے میں کامیاب ہوں!!