دو رانوں کے درمیان

رفیق ڈوگر
یہ رانا شاہی ہے یا رانا سیاہی ہے؟ ہم نہیں جانتے۔ رانے جانیں اور ان کی شاہی یا سیاہی جو کچھ بھی ہے اس کے اصل مالک جانیں۔ ہاں البتہ یہ درست ہے کہ صوبے کے عدل اور آرڈر اینڈ آرڈر دو رانوں کے درمیان ہیں صوبے کی اسمبلی کے اجلاسوں میں ”آرڈر! آرڈر!“ کا حکم رانا اقبال جاری کرتے ہیں اور قانون یعنی لا کے شعبہ کے کمانڈر رانا ثناءاللہ بتائے جاتے ہیں گویا ”موج ہے دونوں رانوں کی“ دو رانے اور بھی ہیں مگر وہ خالی جگہ پُر کرنے کرانے کے کام آتے ہیں رانا اقبال اسمبلی میں آرڈر قائم رکھنے کی کرسی پر سے کسی مجبوری کے وقت اٹھ جائیں تو ان کی خالی جگہ رانا مشہود پُر کرتے ہیں اور زرداری پارٹی کے صوبائی ناظم اعلیٰ گورنر پنجاب کی کسی مجبوری کے وقت ان کے رانا جی اس خلاءکو پُر کرنے کی کوشش کرتے ہیں صوبے پر حکمرانی بھی ان دونوں پارٹیوں کی ہے جن سے ان رانوں کا تعلق ہے مگر ان پارٹیوں کے مالک کوئی اور ہیں اس لئے ہم اسے رانوں کی حکمرانی یا شاہی نہیں کہہ سکتے البتہ اس سے انکار ممکن نہیں کہ مزے ہیں رانوں کے۔ مسلم لیگ کے قائد میاں محمد نوازشریف اور ان کے خادم اعلیٰ بھائی بیک وقت یا باری باری نظام اور جمہوریت کے استحکام کے ہیرو‘ دوروں پر ہوں تو ان کی بیانیہ اور الزامیہ توپ بھی ایک رانا ہی ہوتا ہے اور ان کی اتحادی پارٹی کی طرف سے اس فائرنگ کا جواب بھی گورنر کے علاوہ ایک رانا ہی دیتا ہے اور اس گھن گرج میں ہمارے ذہن میں 1965ءکی جنگ میں رانی توپ کی دشمن کے مورچوں پر انھے واہ گولہ باری کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں اللہ اس نظام کی مالک دونوں پارٹیوں کی ان توپوں کو سلامت رکھے گولہ باری کی گرمی سے ان میں سے کسی کی نالی لال سرخ ہو کر پھٹ ہی نہ جائے اس سے نظام اور اس کے زردوز استحکام کی جنگ کو شدید نقصان پہنچے گا جنگ پلازہ کی شدت کے دنوں میں ن لیگ کی قانون و ضوابط کی گولہ باری کے جوابی گولوں سے اس جماعت کے گنر رانا ثناءاللہ کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے کی ضرورت پیش آ گئی ان کے اپنے پلازے کے علاوہ کوئی پلاٹوں کے گولے بھی ان کی طرف پھینکے گئے تھے جس سے جوابی فائرنگ کچھ کمزور پڑ گئی ہے چلو اس کمزوری میں تیسرا رانا ان کی مدد کو پہنچ گیا ہے اور پلازہ قوانین و ضوابط کی تفتیش کے لئے ایک پارلیمانی کمیٹی بنا دی گئی ہے دیکھیں گے کیا رپورٹ آتی ہے اور بلند اقبال رانا اس کمیٹی کے ارکان سے آرڈروں کی کتنی اور کیسی پابندی کراتا ہے۔ ہم اس سے بھی اتفاق نہیں رکھتے کہ رانا صاحبان ایک ہی طرف کے آنکھ سے دیکھ سکتے یعنی انہیں ایک طرف کا تو سب کچھ نظر آتا ہے اور دوسری طرف کا کچھ بھی وہ دیکھنے کی بصارت سے تہی دامن ہیں جنگ و جدل میں ہر گن اور گنر کی ڈیوٹی دشمن کے مورچوں پر گولہ باری کرنا ہی ہوتی ہے اور اس کی کارکردگی کا معیار دشمن کے نقصانات سے لگایا جاتا ہے ہر گنر کی آنکھیں دو ہی ہوتی ہیں مگر ان دونوں آنکھوں سے دیکھتا وہ صرف دشمن کی نقل و حرکت ہی ہے ورنہ اس کا تو کورٹ مارشل ہو جائے گا اگر وہ اپنی طرف کی حرکات اور اعمال کو دیکھنا بھی شروع کر دے اس جنگ کو رانوں کی جنگ قرار دینا بھی کافی معیاری جہالت ہے جنگ تو ان کی ہے جنہوں نے انہیں یہ ڈیوٹیاں سونپی ہوئی ہیں۔ جاتی عمرہ کے جی ایچ کیو کے کنٹرول روم میں بیٹھے سی این سی کی اور ایوان صدر کے جنرل ہیڈ کوارٹر کے کنٹرول روم میں تشریف فرما کمانڈر انچیف کی۔ ماتحت کسی بھی رینک کا ہو اس کا فرض اپنے کمانڈر کی کامیابیوں اور فتوحات کو وسیع کرنا ہوتا ہے۔ لوگ کہتے تھے کہ تمہارے شہر اور صوبہ میں اتنی شدید رانیو رانی ہو رہی ہے اور تمہیں اس کی گرج سنائی دیتی ہے نہ گرد کیا تمہاری آنکھ بھی تو ایک ہی نہیں؟ ہم عرض کرتے رہے کہ ہم تو کسی بھی سی این سی یا کمانڈر انچیف کی سپاہ چھابہ سے تعلق نہیں رکھتے ہمیں اس جنگ سے کیا غرض ہم تو عوام ہیں بے شعور ہمیں تو اپنے ملک اور اس کے اپنے جیسے عوام کو دیکھنا پڑتا ہے جن کی بیرونِ ملک نہ کوئی املاک ہیں نہ سرے محل ہیں نہ بینک اکاﺅنٹ ہیں نہ محل ماڑیاں ہیں اور نہ ہی کوئی پلازے ہیں کہیں بھی اندرون ملک یا دوبئی ابوظہبی میں وہ محکوم عوام جن کے بچے اسی ملک کے سکولوں میں پڑھتے ہیں اور پڑھ سکتے ہیں جو اپنی ہی کمائی سے اپنے ہی علاج معالجہ کے لئے بھی اور بچوں کی تعلیم کے لئے بھی ان بارلوں یعنی باہر والوں کے محتاج ہیں جو ملک کا اور ملک کے عوام کا دل کھول کر کھاتے اڑاتے بھی ہیں اور ان کے خون پسینے کی کمائی سے ان پر حکمرانی بھی کرتے ہیں اور احسان بھی کہ دیکھو ہم نے تمہاری کمائی سے تمہیں مفت ٹیکہ لگانے کا حکم جاری کر دیا ہے اور پوچھتے ہیں‘ کی تھی کبھی کسی نے تمہاری اتنی اعلیٰ خدمت؟ اور ہم یہ تک نہیں کہہ سکتے کہ یہ تو ”ساڈیاں جتیاں تے ساڈے سر“ والی خدمت ہے۔ جب ہمیں ان کی اس جوتم پتار خدمت کے سامنے سر جھکانے اور جھکائے ہی رکھنے سے فرصت نصیب ہو گی تو دیکھیں گے کون کیا ہے۔ ہمیں اس رانا شاہی اور ان کے مالکوں کی جدل اور جنگ سے کیا غرض ہمیں کونسا بلدیاتی بل کا دودھ پینا ہے۔:
کمائی ہے مطلوب و مقصودِ خدام
نہ رانا شاہی نہ خدمتِ عوام
یہ انہی کا مقدر ہے جن کے پلازے ہیں بلند جو اندر سے سب ایک ہیں ان کی آپس کی ہر قسم کی گولہ باری ہم عوام کے خلاف مشترکہ چھاپہ مار جنگ کی سٹرٹیجی ہے۔ کیا ہوا تھا ان کی چینی کی چھاپہ مار جنگ کا نتیجہ؟ مارا کون گیا ہے اور مال غنیمت کس کے خدمت خزانے میں آیا ہے اور آ رہا ہے؟ اسمبلی میں بلند اقبال رانا کی آرڈر! آرڈر! کی گولہ باری کے دوران جو بلدیاتی بل جنگ لڑی گئی اس کا نتیجہ کیا ہوا؟ زرداری نواز راضی تو کیا کریں گے رانے؟ ہمارے خلاف لڑی گئی چھاپہ مار جنگ چینی کے اخراجات بھی ہم سے وصول کئے اور فتوحات بھی ہمارے خلاف حاصل کی گئیں۔ عدل و آرڈر کے دو رانوں کے درمیان ہوتے ہوئے بھی یہ تو وہ ہیں کہ :
جو قتل بھی کرے ہیں وہی لیں ثواب اُلٹا