دورہ آسٹریلیا: پاکستان ٹونٹی، 20 میچ میں بھی مسلسل شکست کی قسم نہ توڑ سکا

محمد صدیق
پاکستانی کرکٹ کا دورہ آسٹریلیا مکمل ناکام رہا ایک آخری امید تھی کہ شاید ٹونٹی، 20 کے آخری میچ میں پاکستان جیت کر مسلسل شکستوں کی قسم توڑ دے گا مگر جب ٹیم میں جان ہی نہ ہو تو قسم بھلا کیسے ٹوٹے گی حالانکہ پاکستان کو شکست صرف 2 رنز سے ہوئی اور پاکستانی باﺅلروں نے آسٹریلیا کی ٹیم کو 18 ہی اووروں میں 127 رنز پر آﺅٹ کرکے بڑا کارنامہ انجام دیا تھا مگر پاکستانی بیٹنگ نے پوری قوم کو حیران کر دیا اس شکست کی زیادہ ذمہ داری رانا نوید اور عمر گل کے کھیلے گئے 2 اوور تھے جن کے 12 گیندوں پر صرف دو رنز بن سکے اس پورے دورے میں ٹیم سلیکشن ہی پرابلم رہی اگر با¶لنگ مکمل کھلائی گئی تو بیٹنگ کمزور کھلائی اور اگر بیٹنگ مکمل رہی تو باﺅلنگ کمزور کھلائی گئی سلیکٹروں اور بی سی پی کے اعبلی عہدیداروں نے دورہ آسٹریلیا کو تجربہ گاہ بنائے رکھا ایک ٹور کیلئے 3 ٹیمیں اناﺅنس کرنا کرکٹ سے ناواقفیت کی انتہا تھی ایک دورے میں 3 ٹیمیں اناﺅنس کرنے کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ سفارشیوں کی کھپت ہو سکے حالانکہ ٹیسٹ ون ڈے اور ٹونٹی، 20 میچ کرکٹ ہی ہیں اور جو، جو کھلاڑی شروع سے ٹیم کے ساتھ جتنا زیادہ رہے گا اتنا ہی وہاں کے موسم وکٹوں سے بہتر طریقے سے آشنا اور ایڈجسٹ ہو جائے گا اور بہترین پرفارمنس دے گا مگر ٹیسٹ ون ڈے اور ٹونٹی، 20 میچوں کیلئے تین کیمپ اناﺅنس کرنا بے وقوفی اور کم عقلی کی انتہا ہے اب عمران نذیر کو ہی لیں صرف ایک ٹونٹی، 20 میچ کیلئے 17 ہزار میل کا سفر کرکے آسٹریلیا بھیجا گیا اور وہ صفر پر آﺅٹ ہو کر گھر واپس آ گیا۔ حالانکہ ون ڈے کرکٹ اور ٹونٹی، 20 کرکٹ میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا اور تین ٹیمیں بنانے سے کھلاڑیوں پر نفسیاتی دباﺅ ہر وقت رہتا ہے کیونکہ جو لڑکے ٹیسٹ ٹیم سے فارغ ہوں گے جو ون ڈے سے فارغ ہوں گے وہ پرفارمنس دینے کی بجائے اس سوچ میں رہیں گے کہ جتنی مرضی پرفارمنس دے لیں ون ڈے سے تو باہر ہیں اور ون ڈے والے سوچتے ہیں وہ ٹونٹی ٹونٹی سے فارغ ہیں کرکٹ بہت ٹیکنیکل کھیل ہے اور بیٹسمین کی زندگی صرف ایک بال ہوتا ہے اگر وہ ذہنی طور پر آزاد نہ ہو تو کبھی اچھی پرفارمنس نہیں سے سکتا۔ دورہ آسٹریلیا میں کچھ تو پاکستانی ٹیم سلیکشن میں ہی کمزور تھی اوپر سونے پر سہاگہ تین ٹیموں کے تجربے نے مروا دیا اگر تینوں ٹیموں میں تبدیلیاں ہی کرنی ہیں تو ایک دو لڑکوں کی تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں مگر ہمارے ہاں تبدیلیاں تو ہوئیں مگر تمام ناجائز تبدیلیاں کی گئیں ٹیسٹ کھیلنے والے کھلاڑیوں کو ون ڈے کھلائے گئے ون ڈے والوں کو ٹیسٹ اور باقی جو بچے ان کو ٹونٹی، 20 میں ڈال دیا گیا ایک بات خوش آئند تھی کہ پاکستان کی فیلڈنگ کافی بہتر نظر آئی کامران اکمل نے سلیکٹروں اور بی سی پی کے کرتا دھرتاﺅں کے منہ پر 33 گیندوں پر 64 رنز بنا کر طمانچہ مارا جو کامران کا متبادلہ سرفراز کو کہتے آئے اب تو پاکستانی ٹیم کو اکمل برادران ٹیم بھی کہا جا سکتا ہے۔ دونوں بھائیوں نے 127 کے ٹارگٹ میں 90 رنز کا حصہ ڈالا بقیہ پوری ٹیم نے صرف 37 رنز بنائے، خالد لطیف، فواد عالم کی جگہ ٹونٹی، 20 میچوں میں کبھی بھی نہیں بنتی اور دو نام اور شامل کر لیں رانا نویداور عمر قل ان چاروں نے ایک جیتا ہوا میچ ہروا دیا ان چاروں نے تقریباً 5 اووروں میں یعنی 32 گیندوں صرف 18 رنز بنائے جو شکست کی بنیادی وجہ تھی انسانوں ہی سے غلطیاں ہوتی ہیں اور جب ان کو پتہ چلتا ہے کہ ان کی کمزوری یا کم عقلی یا غلط سوچ سے ملک کا نام بدنام ہوا ہے یا ملک کو نقصان ہوا ہے تو وہ جینٹل مین بن کر اپنے عہدوں سے مستعفی ہو جاتے ہیں مگر ہمارے ہاں ڈھٹائی کی انتہا ہے ماسوائے اقبال قاسم کے کسی کا ضمیر نہیں جاگا۔ یہاں تو چور مچائے شور والا معاملہ ہے پوری قوم ہر غلط بات پر چیخ رہی ہے۔