ایوانِ صدر کا بندہ¿ کرکٹ.... کوئی چارہ گر ملے!

حافظ محمد عمران
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ کا کہنا ہے کہ اگر صدر آصف علی زرداری ان سے استعفیٰ طلب کریں تو وہ پانچ منٹ بھی نہیں لگائیں گے۔ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین جمشید دستی، گورننگ بورڈ سے فارغ ہونیوالے چند ارکان اور پی سی بی کے ڈائریکٹر جنرل جاوید میانداد نے ان کیخلاف جنگ کا اعلان کر دیا ہے۔ گورننگ بورڈ میں رہ کر ان کا دفاع کرنے والے آج اعجاز بٹ کی مخالفت میں سب سے آگے ہیں۔ یہ درست ہے کہ بورڈ کی موجودہ انتظامیہ کے پاس اپنے دفاع کیلئے کچھ نہیں ہے۔ ٹیم کی آسٹریلیا میں عبرتناک شکست اور اقبال قاسم کے استعفے کے بعد یہ مطالبہ اور بھی زور پکڑ گیا ہے کہ اعجاز بٹ، وسیم باری اور کوچ انتخاب عالم کو فوراً فارغ کر دیا جائے۔ بورڈ چیئرمین اور ان کے قریبی ساتھیوں نے استعفیٰ دینے کی بجائے مخالفین کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر اخبارات کا مطالعہ کریں، ٹی وی چینلز کے پروگراموں کو دیکھیں، قائمہ کمیٹی کے جارحانہ روئیے اور وزیر کھیل کے بیانات کا جائزہ لیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ اعجاز بٹ جانے والے ہیں اور کرکٹ بورڈ میں بہت جلد وسیع پیمانے پر تبدیلیاں ہونگی۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سابق ٹیسٹ کرکٹرز، قائمہ کمیٹی کے ارکان اور وزیر کھیل مل کر اعجاز بٹ کو عہدے سے ہٹا سکتے ہیں؟ کیا ان کے پاس اتنے اختیارات ہیں کہ وہ پی سی بی کے اکا¶نٹس منجمد کروا سکیں؟ گذشتہ چند ماہ میں قائمہ کمیٹی کے درجن بھر اجلاسوں اور جارحانہ بیانات کا کیا نتیجہ نکلا؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب مل کر کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ فیصلہ تو ایوانِ صدر نے کرنا ہے اور ایوانِ صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ پی سی بی کے چیئرمین اعجاز بٹ اور ان کے ساتھیوں کو فارغ کرنے کے حوالے سے کسی بھی قسم کی سفارشات ان تک نہیں پہنچیں۔ واضح رہے کہ یہ وہی سفارشات ہیں جو قائمہ کمیٹی کئی ہفتے پہلے ایوانز صدر بھیج چکی ہے اور جمشید دستی اب بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ صدر آصف علی زرداری سے جلد ملاقات کریں گے اور جمشید دستی یہ بان ستمبر 2009ءسے دے رہے ہیں۔ وہ اب تک صدر محترم سے ملاقات کا وقت ہی نہیں لے سکے تو سفارشات پر عمل کروانا تو دور کی بات.... ایوانِ صدر کی کرکٹ کے معاملات پر خاموشی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اعجاز بٹ کو بورڈ کے پیٹرن انچیف کی حمایت حاصل ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تمام تر ناکامیوں کے باوجود ایسا کیوں ہے؟ ایک اور چیز جو اعجاز بٹ کی حمایت میں جاتی ہے وہ یہ کہ صدر آصف علی زرداری نے اب تک جن لوگوں کو کوئی بھی ذمہ داری دی ہے انہیں سپورٹ بھی کیا ہے۔ ان حالات میں قائمہ کمیٹی کی کیا حیثیت ہے؟ قائمہ کمیٹی، سابق ٹیسٹ کرکٹرز اور شائقینِ کرکٹ جتنا مرضی شور مچا لیں، پتلے جلا لیں، مظاہرے کر لیں، اعجاز بٹ چیئرمین رہیں گے کیونکہ انہیں اپنے ”باس“ کا اعتماد حاصل ہے۔ اس عرصے میں کرکٹ کا کیا حال ہو گا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں!