اتنا زہر، اتنی مٹھاس؟

کالم نگار  |  سعید آسی

یہ کیا تماشہ ہے، کس کا کھیل ہے اور کس کو دکھایا جا رہا ہے؟ سری نگر میں کرفیو راج ہے، بھارتی فوجوں نے دہشت ووحشت کا بازار گرم کیا ہوا ہے، نہتے انسانوں کو اپنے حقِ خود ارادیت کیلئے آواز بلند کرنے پر گولیوں سے بھُونا جا رہا ہے۔ پاکستان کے ساتھ یکجہتی کے اظہار اور الحاق کی تمنا کی پاداش میں کشمیری لیڈران چن چن کر پابند سلاسل کئے جا رہے ہیں۔ بزرگ کشمیری لیڈر سید علی گیلانی کے انتہاءدرجے کو پہنچے ہوئے عارضہ¿ قلب کا بھی خیال نہیں کیا جارہا اور وہ سنگینوں کے سائے میں ہسپتال میں داخل ہیں۔ کوئی ایسا ظلم نہیں جو جذبہ¿ آزادی کو سرد کرنے کیلئے کشمیری عوام بشمول خواتین اور بچوں پر نہ آزمایا جارہا ہو مگر اتنی تلخی، ترشی اور کشیدگی میں بھی بغل میں چھری، منہ میں رام رام کی کیفیت طاری کئے بزدل اور مکارہندو بنیاءہماری جانب دوستی کا ہاتھ بڑھائے بھاگا چلا آرہا ہے۔
دو دن پہلے تک تو اس کی رعونت دیکھی نہیں جا رہی تھی۔ چھانٹا ہاتھ میں پکڑے ہمیں رگیدے، گھسیٹے چلا جارہا تھا۔ اس کی نگاہ میں کوئی جرم ایسا باقی نہیں رہ گیا تھا جو ہماری جانب سے اس کے خلاف سرزد ہونے سے رہ گیا ہو۔ دہشت گردی کا اتنا ڈھول پیٹا گیا کہ ”واعظ کے منہ سے آنے لگی بُو شراب کی“۔ بھارت کے کسی کونے کھدرے میں درخت سے گرے ہوئے کسی پتے سے کھڑکھڑاہٹ کی موہوم سی آواز سنائی دیتی تو لالہ جی چہرے پر ہوائیاں اڑائے، ہذیانی کیفیت طاری کئے جھٹ سے الزام دھر جاتے،”یہ پاکستانی دہشت گردوں کی کارروائی ہے، روکو، انہیں روکو۔“ ہماری سرزمین پر اپنے تربیت یافتہ سفاک دہشت گردوں کے ذریعہ آگ اور خون کی ہولی کھیل کر اور انسانی خون کے دریا بہا کر اس کا الزام بھی ہمارے سرمنڈھ دیا جاتا۔ مقصد صرف ایک کہ دنیا کو باور کرایا جائے ”مقبوضہ کشمیر میں اپنی آزادی کیلئے ہمارے فوجیوں کے ہاتھوں کٹ مرنے والے کشمیری مجاہد نہیں، دہشت گرد ہیں“آج بھی مقبوضہ کشمیر میں اسی ظلم، اسی وحشت، اسی بربریت کا راج ہے۔ آزادی کی تحریک اور حق کی آواز سنگینوں کی زد میں ہے۔ آزادی کے متوالوں کو مارنے، مدھولنے، تباہ کرنے اور راندہ¿ درگاہ بنانے کا جنونی، طولانی سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
پھر ایسا کیا ہوا ہے کہ اس ظالم شاطر لومڑی کے دل میں ہمارے لئے اپنائیت کا جذبہ امڈ پڑا ہے اور ہمارے والیان ملک و قوم کی یہ کیا حکمت ہے کہ جس سوراخ سے بار بار ڈسے جا چکے ہیں، اسی کے آگے ہاتھ دینے کیلئے پھر اس موذی سانپ کا استقبال کرنے چل نکلے ہیں۔ امن کی آشا کا راگ الاپتے الاپتے کہیں راکھ کا ڈھیر نہ ہوجائیں۔ اس ”اِچّھا“ میں کیا آپ کو اس چالاک لومڑی کی کھسیانی ہنسی کی جھلک نظر نہیں آرہی، کیا آپ بے لوث کشمیری عوام کے ان 93 ہزار 83 جانوںکے نذرانوں کو بھی بے ثمر کرنا چاہتے ہیں جو انہوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کی لگن میں ظالم بھارتی فوجوں سے اپنے جسموں کو چھلنی کرا کے گزشتہ 21 برس کے دوران پیش کئے ہیں۔ وہ تو اپنے خوابوں کی سنہری تعبیر والی اپنی منزل کی جانب سرفروشی کی تمنا لئے سرشاری سے دوڑے چلے آرہے ہیں اور ان کیلئے یہ منزل پاکستان کے سوا اور کچھ نہیں اور ہمارے ارباب حلِ و عقد امن کی آشا کے چھیڑے گئے سازشی راگ پر سردُھنتے، مدہوش ہوتے اسی سفاک ہذیان گو کے سحر میں ڈوب کر اس کی جانب سے پھینکے گئے دوستی کے جال میں پھنسنے کیلئے لپک رہے ہیں، جستیں بھر رہے ہیں جس نے آزادی کے متوالوں کو دہشت گرد بنانے اور اس کی آڑ میں اپنے ”اٹوٹ انگ“ کو اپنے ناپاک وجود کے ساتھ جوڑے رکھنے کا گندہ اور گھناﺅنا کھیل اپنی مرضی کے نتیجے کی جانب بڑھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
ابھی کل ہی کی بات ہے۔ بھارتی ”چہ پدی چہ پدی کا شوربہ“ بڑھکیں لگا رہا تھا کہ ہم تو پاکستان ہی نہیں، چین کو بھی بیک وقت 96 گھنٹے کے اندر ٹوپل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ منحنی منموہن کی ”سِکھانی“ رال ٹپکا رہی تھی، ”کشمیر کو بھول جاﺅ“ چدم برم کی آنکھیں نشیلی ہوئی پڑی تھیں ”پاکستان کے اندر سرجیکل سٹرائیکس ہمارا بھی حق ہے“ لالہ جی کی دھوتی سنبھل نہیں پارہی تھی۔ ڈَبّ میں دابے خنجر کا نظارہ کرائے چلا جا رہا تھا اور ہمیں نکّو بنائے چلا جارہاتھا۔ مذاکرات کو ٹھٹھا مذاق بنائے ہوئے تھا۔ ”ہم نہیں بیٹھیں گے مذاکرات کی میز پر جب تک ممبئی حملوں کے ملزم ہمارے حوالے نہیں کئے جاتے۔ جب تک دہشت گردوں کے خلاف سخت آپریشن کا ہمیں یقین نہیں دلایا جاتا“ اور جناب دیکھئے، اس کا سرپرست امریکہ بھی تو اسی کی زبان بنا ہوا تھا، اسی کے رنگ میں رنگا ہوا تھا، کیا آپ نے دہلی سے پاکستان آتے ہوئے امریکی وزیردفاع رابرٹ گیٹس کی للکار نہیں سنی تھی ”اگر اب بھارت میں ممبئی حملوں جیسا کوئی دوسرا واقعہ ہوا تو وہ (بھارت) خاموش نہیں بیٹھے گا، اس کے صبرکا پیمانہ امڈ پڑے گا۔“
اتنی رعونت؟ اتنا خناس؟ اتنا تکبر؟ اتنا جنون؟ اور پھر یکایک اتنی لچک؟ اتنی مٹھاس، اتنی اپنائیت کہ جسے شودر سمجھ کر مذاکرات کی میز الٹا دی اور پھر اس کے قریب بھی نہ پھٹکنے کا رعب دکھا یا۔ اب اسی کو مذاکرات کی باضابطہ دعوت بھی دے ڈالی ہے۔ پلک جھپکتے میںایسا کیا ہوگیا ہے کہ نہ مٹنے والے فاصلوں کو قربتوں میں سمیٹا جانے لگا ہے۔ کہیں ہمیں میٹھا بنا کر کھا جانے کا ارادہ تو نہیں؟ اس لئے حضور مکار دشمن کی جانب دوستی کا قدم بڑھانے اور اس کے بہکاﺅے میں آنے سے پہلے سوچ لیجئے، اردگرد کے ماحول کا جائزہ لے لیجئے، ٹوٹ کر برسنے کا ارادہ باندھنے والوں کی ازل سے جاری پیاس کا اندازہ لگا لیجئے۔ کہیں آپ کی موت کا سامان تو نہیں ہورہا۔ عقلِ کُل مت بنیں،قوم کو اعتماد میں لے لیں، قومی منتخب نمائندگان سے مشاورت کرلیں۔ ساتھی مخالف سب سیاسی لیڈروں سے بات کر لیں۔ تدبر کے سانچے میں آجائیں ۔ گھات لگاکر بیٹھے دشمن کے ساتھ مذاکرات کا کھیل بچوں کا نہیں، فی الحقیقت موت کا کھیل ہے۔ وہ ہمیں مارنے چلا ہے تو ہم اپنی گردن اس کی جانب کیوں بڑھائے جا رہے ہیں۔ پھر کیا بہتر نہیں کہ دشمن کے ہاتھوں مرنے کی بجائے خود ہی پھندا لے لیں۔ کم ازکم غیرت کا نشان تو بچا رہے گا۔