بھرچونڈی شریف (سندھ) میں پاکستان پائندہ باد کانفرنس

کالم نگار  |  نعیم احمد
بھرچونڈی شریف (سندھ) میں پاکستان پائندہ باد کانفرنس

برصغیر میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے شخص کا تعلق سندھ کی دھرتی سے تھا‘ اسی لیے سندھ باب الاسلام کہلاتا ہے۔یہ دھرتی حضرت عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندر صاحبؒ کے حوالے سے جانی جاتی ہے اور حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ اور حضرت سچل سرمستؒ کی نسبت سے پہچانی جاتی ہے۔اللہ پاک کے اولیائے کرام کی عبادتوں اور ریاضتوں کی بدولت اِس دھرتی پر دینِ متین کو فروغ ملا۔ تحریک پاکستان کو منزل مقصود سے ہمکنار کرنے کیلئے بھی سندھ سے تعلق رکھنے والے مشائخ عظام نے روحانی‘ اخلاقی‘ مادی غرضیکہ ہر لحاظ سے بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ کی مدد کی۔ اِن کی مساعیٔ جمیلہ کے طفیل ہی سندھ اسمبلی کو دیگر تمام اسمبلیوں کے مقابلے میں سب سے پہلے قیامِ پاکستان کے حق میں قراردادمنظور کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔یوں تو پاکستان کے سبھی علاقوں کے لوگ محب وطن ہیں تاہم سندھ کے باسیوں کو "First among equals" قرار دیے بغیر چارہ نہیں۔ جدوجہد آزادی کے دوران جن مشائخ عظام نے بانیٔ پاکستان کو بھرپور عملی معاونت فراہم کی‘ اُن میں مجاہدِ اسلام حضرت پیر عبدالرحمن بھرچونڈیؒ کا اسمِ گرامی بہت نمایاں ہے۔آپ کی ساری زندگی کفر و الحاد کے خلاف جہاد میں گزری۔ سندھ میں ہندو کانگرس کا زور توڑنے اور مسلمانوں کی تنظیم نو کیلئے آپ نے ’’جماعت الاحیاء الاسلام‘‘اور’’جمعیت المشائخ‘‘ کی بنیاد رکھی۔اِن دونوں جماعتوں نے نہ صرف مسلمانوں کو خوابِ غفلت سے بیدار کیابلکہ مسلم لیگ کے حق میں فضا ہموار کرنے کیلئے شب و روز کام کیا۔آپ کی زیرنگرانی اخبار ’’الجماعتہ‘‘ نے بھی رائے عامہ تک مسلم لیگ کا پیغام پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ڈھرکی میں واقع درگاہ عالیہ قادریہ بھرچونڈی شریف آج بھی مطلع انوار ہے جس کے سجادہ نشین حضرت پیر عبدالخالق القادری کو قیامِ پاکستان کے سلسلے میں اپنے آباء کی نظریاتی جدوجہد پر بڑا ناز ہے۔نظریۂ پاکستان ٹرسٹ ہر اُس شخصیت‘ گروہ اور جماعت کا صدقِ دل سے قدردان ہے جس نے ریاست مدینہ کی ثانی اِس مملکت خداداد کی تخلیق میں دامے درمے سخنے حصہ لیا۔چنانچہ جب خانقاہ بھرچونڈی شریف کے اکابرین نے تقریبات یوم آزادی کے سلسلے میں پاکستان پائندہ باد کانفرنس کے انعقاد کا ارادہ ظاہر کیا تو ٹرسٹ نے انہیں اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔واضح رہے کہ 1842ء سے قائم یہ خانقاہ صوبہ سندھ میں دین اسلام کے پروانوں کیلئے حریت و عزیمت کی علامت ہے کیونکہ جب انگریز سامراج نے سندھ پر قبضہ کیا تو اِس خانقاہ کے بزرگوں اور وابستگان نے اُس کی بھرپور مزاحمت کی اور سندھ دھرتی پر دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں ذرہ بھر رکاوٹ پیدا نہ ہونے دی۔4اگست 2017ء یہ کانفرنس منعقد ہوئی جس میں نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید اور ڈپٹی سیکرٹری پروگرامز اینڈ کوآرڈینیشن پر مشتمل وفد نے شرکت کی۔وفد جب گھوٹکی ریلوے اسٹیشن پہنچا تو رحیم یار خان میں قائم نظریۂ پاکستان فورم کے سیکرٹری رانا اشفاق رسول خان اور دیگر عہدیداران و کارکنان نے اُن کا پرتپاک استقبال کیا اور اُن پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔ اِس موقع پر حافظ الملت فائونڈیشن کے عہدیداران بھی موجود تھے۔ پچاس موٹر سائیکلوں اور متعدد گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلے کی صورت انہیںخانقاہ کی طرف لے جایا گیا۔ہر موٹر سائیکل سوار قومی پرچم تھامے ہوئے تھا۔ عشاقانِ پاکستان کا یہ قافلہ جب منزل پر پہنچا توحضرت پیر عبدالخالق القادری نے خانقاہ سے باہر آکر اُن کا خیرمقدم کیااور اُنہیں روایتی سندھی اجرکیں اور ٹوپیاں پہنائیں۔وفد کو خانقاہ میں موجود اُس کتب خانے کا بھی دورہ کرایا گیا جہاں نادر و نایاب کتب موجود ہیں۔وفد کو کمال محبت سے مختلف تبرکات کی زیارت بھی کروائی گئی جن میں حضورِ پاکؐ کی تربت مبارک کا وہ غلاف بھی شامل ہے جو سلطنت عثمانیہ کے حکمرانوں نے حضرت پیر عبدالرحمن بھرچونڈیؒ کے بزرگوں کو عطا کیا تھا۔وہ جھاڑو بھی دکھلائی گئی جو اللہ کریم کے حبیب حضرت محمد مصطفیﷺ کے روضۂ اقدس کی صفائی کے لیے استعمال ہوتی تھی۔
سہ پہر کو خانقاہ کی وسیع جامع مسجد کے اندر پاکستان پائندہ باد کانفرنس کا آغاز حضرت پیر عبدالخالق القادری کی زیر صدارت ہوا جس میں گھوٹکی‘ دیگر اضلاع اور دور دراز مقامات سے سینکڑوں کی تعداد میں مشائخ عظام‘مریدین و معتقدین اور خواتین و حضرات نے شرکت کی۔شدید گرمی کے باوجودشرکاء کا جوش و جذبہ دیدنی تھاجو نعرۂ تکبیر اور پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے۔سٹیج پر متعدد ایسی شخصیات موجود تھیں جن کے بزرگوںنے تحریک پاکستان میں سرگرم کردار ادا کیا تھا۔کانفرنس کے دوران تحریک پاکستان کے مخلص کارکن‘ سابق صدر مملکت اور نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین محترم محمد رفیق تارڑ کا پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا جس میں اُنہوں نے کانفرنس کے منتظمین اور شرکاء کو اِس نظریاتی اجتماع کے انعقاد پر تہہ دل سے مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ تحریک پاکستان میں اِس خانقاہ کے بزرگوں کی گرانقدر خدمات تاریخ کے صفحات میں سنہرے حروف سے قلمبند ہیں۔حضرت پیر عبدالخالق القادری نے اپنے خطاب دل پذیر میں کہا کہ ہمارے بزرگوں نے تحریک پاکستان کو منزل مقصود سے ہمکنار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا اور ہمیں وطن عزیز کی حرمت اور تحفظ کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا مکمل ادراک ہے۔ہم نظریۂ پاکستان فورم بھرچونڈی شریف کے پلیٹ فارم سے نہ صرف گھوٹکی بلکہ پورے سندھ میں نظریۂ پاکستان کا پیغام عام کرنے اور 70واں سالِ آزادی شایانِ شان انداز میں منانے کی خاطر اُسی جوش و جذبے سے کام کریں گے جو ہمارے بزرگوں کا طرۂ امتیاز تھا۔اُنہوں نے اپنے مریدین کو تاکید کی کہ وہ یومِ آزادی پر اپنے گھروں میں چراغاں کریں اور پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرائیں۔
نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے اپنے خطاب میں خانقاہ بھرچونڈی شریف کے اکابرین کی ملی و قومی خدمات اور تحریک پاکستان میں سندھ کے بے مثال کردار کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ درحقیقت ہمارے چیئرمین محترم محمد رفیق تارڑ بذاتِ خود اِس کانفرنس میں شرکت کے خواہش مند تھے تاہم اس سخت موسم میں وہ اتنے طویل سفر کے متحمل نہیں ہوسکتے تھے۔اُنہوں نے کہا کہ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ ایک قومی نظریاتی ادارہ ہے جو پاکستان کے ہر علاقے کے لوگوں کو قیامِ پاکستان کے حقیقی اسباب و مقاصد سے آگاہ کرنے اور پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے دفاع کیلئے تیار کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ آبروئے صحافت اور نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سابق چیئرمین رہبر پاکستان محترم مجید نظامی کی ہدایت پر 2011ء میں پاکستان پائندہ باد کانفرنسوں کے اس سلسلے کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد یہ ہے کہ وطن عزیز کے محفوظ اور روشن مستقبل پر پاکستانی قوم کے اعتماد اور یقین کو پختہ کیا جائے اور اُنہیں اِسے ایک جدید اسلامی‘ جمہوری اور فلاحی مملکت بنانے کی جدوجہد میں شریک کیا جائے۔کانفرنس میں محترم مفتی محمد ابراہیم نے بھی نہایت وقیع اور جامع خطاب کیا اور تحریک پاکستان میں سندھ کے کردار کے مختلف پہلوئوں پر سیر حاصل گفتگو کی۔انہوں نے دین اسلام کی ترویج و اشاعت اور تحریک پاکستان میں مشائخ عظام اور علمائے کرام کی جدوجہد پر بھی روشنی ڈالی۔
کانفرنس کے موقع پر نظریۂ پاکستان فورم بھرچونڈی شریف کا قیام بھی عمل میں لایا گیا جس کے سرپرست اعلیٰ حضرت پیر عبدالخالق القادری ہوں گے جبکہ عہدیداران میں میاں عبدالمالک القادری صدر‘جام عبدالفتح ایڈووکیٹ نائب صدر‘ میاں عبدالمطلب قادری نائب صدر‘ مولانا عبدالمجید قادری جنرل سیکرٹری‘حافظ غلام رسول جوائنٹ سیکرٹری‘ ڈاکٹر اللہ وسایوسومرو جوائنٹ سیکرٹری اور زاہد حسین فنانس سیکرٹری مقرر ہوئے۔جناب شاہد رشید نے اِن عہدیداران کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اِس اُمید کا اظہار کیا کہ وہ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے اغراض و مقاصد کو آگے بڑھانے میں سرگرم کردار ادا کریں گے۔اُنہوں نے محترم سید احسان احمد گیلانی کا بطور خاص شکریہ ادا کیا جنہوں نے پاکستان پائندہ باد کانفرنس کے انعقاد اور وفد کے دورے کے انتظامات میں گہری دلچسپی لی۔