کیا لکھوں؟

صحافی  |  ریاض الرحمن ساغر

سوچتا ہوں کہ آج کیا لکھوں
جھوٹ‘ حسب رواج کیا لکھوں
حکمرانوں کی لکھوں میں تعریف
نہیں میرا مزاج‘ کیا لکھوں
نہیں حاجت کسی لفافے کی
بینک بیلنس میں اضافے کی
اپنے رب کے دئیے پہ جیتا ہوں
لاج رکھے ”سفید صافے“ کی
چھوٹے گھر میں سکون ملتا ہے
بڑے لوگوں کا فون ملتا ہے
پوچھتے ہیں کہ چاہتے کیا ہو
رگ غیرت کو خون ملتا ہے
مفلسوں کی گلی میں رہتا ہوں
خوش اسی زندگی میں رہتا ہوں
بھیک اور قرض کی نہیں پیتا
میں خمار خودی میں رہتا ہوں
جو بھی چاہا خدا سے پایا ہے
میں نے رزق حلال کھایا ہے
اپنی محنت سے خود پڑھا لکھا
اور اولاد کو پڑھایا ہے
سوچتا ہوں کہ آج کیا لکھوں
خود کو اچھا لکھوں برا لکھوں
آج خود اپنا احتساب کروں
جو بھی سچ ہے وہ برملا لکھوں
کیوں کہ لکھنا ہی میرا پیشہ ہے
سچ ہی لکھنا مجھے ہمیشہ ہے