میرے قائدؒ .... ایک کالمسٹ کی نذر!

تحریر.... عزیز ظفر آزاد
آئیے میرے قائدؒ کی فکری بالیدگی کا مطالعہ فرمائیے جب مسلم لیگ نے سر محمد شفیع کے ساتھ مل کر کچھ احباب نے گروہ بندی کی تو حضرت قائدؒ نے ان پر تنقید کی نہ مقابلہ کیا خاموشی سے لندن چلے گئے تاکہ قوم اس مرحلے میں تقسیم نہ ہو جب دوسرے گروہ نے غلطی تسلیم کرتے ہوئے واپس بلایا تو آپؒ فوری طور پر واپس آ گئے۔ سردار عبدالرب نشتر سیالکوٹ میں ایک جلسے کے دوران اپنے قائد کی صفات کچھ یوں بیان فرماتے ہیں ”میرے قائدؒ کو کوئی خرید نہیں سکتا۔ وہ انمول ہے کوئی دبا نہیں سکتا وہ بہادر ہے اسے کوئی دھوکہ نہیں دے سکتا وہ اللہ کا ولی ہے۔ دھوکہ نہ کھانا پیغمبرانہ صلاحیت ہے جو عطائے رب جلیل ہے۔“ حضرت قائدؒ انگریز اور ہندوﺅں کی تمام مکاریوں اور چالبازیوں کا ترکی بہ ترکی جواب دے کر قوم کو ساحل مراد تک لے آئے۔ حد تو یہ ہے کہ حضرت قائدؒ بیماری کی آخری نوبت پر کھڑے تھے مگر دشمن کو اس کا ادراک ہی نہ ہونے دیا۔ 13 جنوری 1948ءکو اسلامیہ کالج پشاور میں خطاب میں ارشاد فرمایا.... ”ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لئے نہیں کیا تھا بلکہ ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں۔“ آپ نے 21 مارچ 1948ءکی تقریر میں فرمایا.... ”پاکستان میں کسی ایک طبقے کی لوٹ کھسوٹ اور اجارہ داری نہیں ہو گی۔ ہر شخص کو ترقی کے برابر مواقع میسر ہوں گے۔ پاکستان امیروں، سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور نوابوں کی لوٹ کھسوٹ کے لئے نہیں بنایا گیا۔ پاکستان غریبوں کی قربانیوں سے بنا ہے۔ پاکستان غریبوں کا ملک ہے اس پر غریبوں کو حکومت کا حق ہے۔ پاکستان میں ہر شخص کا معیار زندگی اتنا بلند کیا جائے گا کہ غریب اور امیر میں تفاوت باقی نہیں رہے گا۔ پاکستان کا اقتصادی نظام اسلام کے غیر فانی اصولوں پر ترتیب دیا جائے گا ان اصولوں پر جنہوں نے غلاموں کو تخت و تاج کا مالک بنا دیا۔“ حضرت قائدؒ نے ایوب خان کو سزا کا حکم دیا۔ آپ سکندر مرزا کی اصلیت بھی جانتے تھے۔ میرے بھائیو! قائداعظمؒ زندہ ہوتے تو ایوب خان کمانڈر انچیف بنتا نہ سکندر مرزا اور غلام محمد کی سازشیں کامیاب ہوتیں۔ مشرقی پاکستان جدا نہ ہوتا بلکہ کشمیر فتح ہوتا۔ جناح ہائیڈل پراجیکٹ جسے کالا باغ ڈیم کہتے ہیں تعمیر ہو گیا ہوتا۔ پاکستان میں کئی ڈاکٹر عبدالقدیر نہ صرف پیدا ہوتے بلکہ وہ پاکستان کے بعد اسلامی دنیا کے مسائل کے حل کی تلاش میں مصروف ہوتے۔ سرحد اور بلوچستان کے پہاڑ خزانے اگل رہے ہوتے۔ علاقائی تعصب ہوتا نہ فرقہ ورانہ کشیدگی ہوتی۔ قانون کی حکمرانی، حلال رزق کی فراوانی ہوتی۔ کھیتوں میں کسان خوشحال اور کارخانوں میں مزدور مسرور ہوتے۔ اہلیت کے مطابق کام اور کام کے مطابق اجر پر کاربند ہوتے۔ جس محمد علی جناحؒ نے منتشر معاشرے کو نہ صرف ایک قوم کے قالب میں ڈھالا بلکہ کمال مہارت سے اس قوم کو علیحدہ ارض وطن بھی ہندو اور انگریز کے جبڑے سے نکال کر دیا۔ ان کی موجودگی میں کوئی ایوب، ضیا یا مشرف نہیں پنپ سکتا تھا اگر قائداعظمؒ زندہ ہوتے حالات اس نہج کو پہنچتے نہ ہی جاوید ہاشمی کو برین ہیمرج ہوتا کیونکہ حضرت قائدؒ کا مطلوب ومقصود مال غنیمت تھا نہ کشور کشائی۔ وہ تو باعمل مومن تھا اپنے رب کے سامنے سرخرو ہونے کی تمنا میں برسرپیکار تھا۔
ایک موقع پر حضرت قائدؒ نے فرمایا:۔ ”میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد اور سر بلند دیکھوں۔ میں چاہتا ہوں جب مروں تو یہ یقین اور اطمینان لے کر مروں کہ میرا ضمیر اور میرا خدا گواہی دے رہا ہو کہ جناحؒ نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی اور مسلمانوں کی آزادی تنظیم اور مدافعت میں اپنا فرض ادا کر دیا۔ میں آپ سے اس کی داد اور شہادت کا طلب گار نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ مرتے دم میرا اپنا دل میرا اپنا ضمیر گواہی دے کہ جناحؒ تم نے واقعی مدافعت اسلام کا حق ادا کر دیا۔ جناحؒ تم مسلمانوں کی تنظیم و اتحاد اور حمایت کا فرض بجا لائے میرا خدا یہ کہے کہ بے شک تم مسلمان پیدا ہوئے اور کفر کی طاقت کے غلبے میں اسلام کو سربلند رکھتے ہوئے مسلمان مرے۔ ”بھائیو! اگر ہمارا دنیا اور آخرت کا مقصود بھی اپنے قائدؒ کی پیروی ہو تو ”آج بھی آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا“!