خدا محفوظ رکھے ہر بلا سے!

کالم نگار  |  خالد احمد

صدر مملکت خداداد، برطانیہ عظمٰی کے سرکاری دورے پر لندن پہنچے اور ہیتھرو ائرپورٹ پر طیارے سے باہر آئے تو سرکاری دوروں میں زیر استعمال سرکاری ملبوسات کی تاریخ ایک نیا موڑ کاٹ گئی! جناب آصف علی زرداری کے کسرتی بدن پر ’جینز اور سفید ٹی شرٹ‘ کی دھج، ان کے تخلیقی مزاج کی بہار دکھلا رہی تھی! اس ’جینز اور ٹی شرٹ‘ کی تراش خراش، اس تاریخی موڑ کے کٹاﺅ سے لگا کھاتی نظر آئی مگر پاکستانی دریاﺅں کے کٹاﺅ کی بھینٹ چڑھ جانے والے بچوں اور بوڑھوں کی تعداد بھلاتی دکھائی دی! اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر انتہائی غیر رسمی لباس میں تشریف آور ہوئے اور اپنی اختراعی فکر کے نقش چھوڑتے آگے بڑھ گئے! مگر برطانوی میڈیا، پاکستانی دریاﺅں کے بہاﺅ اور کٹاﺅ کے رخ بہہ گیا اور جناب آصف علی زرداری کے دورہ برطانیہ کے لئے، ’بلاول کی نرم رو تقریب رونمائی‘ کی پھبتی کستا دیکھا گیا! حالانکہ وہ جناب نکولائی سرکوزی کے بعد جناب ڈیوڈ کیمرون سے بھی پاکستانی مفادات کی نگہبانی کی تصدیق حاصل کرنے وہاں پہنچے تھے!
سیلاب کی آفت میں گھرے پاکستانیوں کے لئے امدادی کارروائیوں میں مشغول بری دستوں کے حوصلے اور ولولے پر کاری ضرب لگانے کی نیت سے پشاور میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے کمانڈنٹ صفوت غیور پر خودکش حملہ، پاکستان کی بنیادوں پر ضرب لگانے کی خواہش مند غیر ملکی قوتوں کا ایک وار تھا مگر تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لینا، ہمیں ایک نئے نتیجے پر چھلانگ لگانے پر مجبور کر رہا ہے مگر ہم اسے ایک بار پھر ’ناقابل فہم اعتراف‘ کہہ کر دم سادھ لینے پر مجبور ہیں!
ہم حیران ہیں کہ یار لوگ ’جعلی کیمپ‘ لگا کر پانچ پانچ ہزار کی نقد امداد لے کر رفوچکر ہو گئے اور ہمارے پیر سائیں نے ’باطنی‘ آنکھ تک اٹھانے کی زحمت گوارا نہ فرمائی!
جناب نواز شریف نے ’ویژن 2035‘ کے تحت اگلے 25 برس تک ایک قومی ایجنڈے کے لئے ’یک دل اور یک جان‘ ہو کر آگے بڑھنے کا پروگرام دیا تو ہم حیران رہ گئے! وہ لوگ جنہیں بے نظیر شہید کے دستخط کردہ ’میثاق جمہوریت‘ پر عملدرآمد کا ’ذوق‘ نہیں، وہ لوگ یہ ’شوق‘ کیسے پالنے پر تیار ہو جائیں گے؟ ہاں! انہیں 2035 تک ’ملک پر حکمرانی‘ کا عندیہ دیا جائے تو شاید وہ اس طرف ایک آدھ بار آنکھ اٹھا کر دیکھنا پسند فرما ہی لیں!
ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ ہم کچھ لوگوں کو ملک میں پاﺅں نہیں رکھنے دینا چاہتے اور ان کے غیر ممالک میں کاروبار پر بھی معترض ہیں اور وہ جنہیں غیر ممالک میں یہ سہولت مہیا ہے، انہیں وطن لا کر، ہم پر دوبارہ مسلط کرنے کا پروگرام بھی جاری و ساری ہے! ہمارے اپنے، ہمارے جوانوں پر حملے کر رہے ہیں؟ یہ کیسے اپنے ہیں؟ جنہیں ’آفت‘ کے دوران نئی نئی آفتیں پیدا کرنے کا ’شوق‘ لاحق ہے! اور ایک وہ ہیں، جنہیں ’کھمبوں پر لگے میٹروں سے بجلی چوری کرنے والے لوگوں کا کھوج لگانے کا‘ شوق دامن گیر ہو گیا ہے! کچھ تو پتہ چلے کہ کھمبوں پر لگے میٹروں سے بجلی چوری ہونے پر کتنے متعلقہ میٹر ریڈروں اور لائن سپرنٹنڈنٹوں کے خلاف پرچے کاٹے گئے ہیں؟ یہ ’میٹر‘ لیسکو حکام کی تحویل میں ہیں! اور ان میں ہر ’گڑ بڑ‘ پر متعلقہ اہلکاروں کے سوا کسی اور سے پوچھ گچھ کا کوئی قانونی جواز سرے سے موجود نہیں! لیسکو ایسے برقی بل کیونکر جاری کر رہا ہے؟ جن پر ’حوالہ نمبر‘ درج نہیں! ہمارا بل آپ! اور آپ کا بل ہم ادا کر رہے ہیں! یہ سب ’اہتمام‘ کون لوگ کر رہے ہیں؟ کوئی ہے؟ کہ ان کا ’حساب کتاب‘ کرے!
لیکن ’حساب کتاب‘ تو وہاں ہوتا ہے، جہاں پشتے ’دریا کے بچاﺅ‘ کی جگہ ’سیاسی دباﺅ‘ پر نہ توڑے جاتے ہوں! جہاں ’قومی املاک‘ ڈبو کر اپنی فصلیں نہ بچائی جاتی ہوں! اور جہاں آفات میں گھری قوم کو اس کے حال پر چھوڑ کر ’ذاتی مستقبل‘ سنوارنے کے لئے بیرون ملک پرواز کر جانا معمول کی معمولی سی بات نہ گردانا جاتا ہو! کراچی سے محترمہ حمیرا راحت نے شاید اسی پس منظر میں لکھا ہے ....
وہی محفوظ رکھے گا! مرے گھر کو بلاﺅں سے
جو بارش میں شجر سے گھونسلا گرنے نہیں دیتا
سچ ہے! خدا کے سوا کون ہمارا پشت پناہ ہے!