جمہوریت کا نور این آر او کا نور نہیں

صحافی  |  رفیق ڈوگر

ایک پنجابی محاورے کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ ”ہوا چل رہی ہو تو چوہے کے بل میں بھی محسوس ہوتی ہے“۔ سورج کا کوئی محکمہ اطلاعات نہیں اس کی روشنی اس کے طلوع کا پیغام ہرکونے کھدرے میں پہنچا دیتی ہے اس کی گرمی سے اندھوں کو بھی پتہ چل جاتا ہے کہ سورج چمک دمک رہا ہے کچھ ایسا ہی حال نظم حکمرانی کا بتایا جاتا ہے کہ گڈ گورننس کے ہونے یا نہ ہونے کا ملک کی عدالت عالیہ کے چیف جسٹس سے لیکر کسی جنگل میں بھیڑ بکیریاں چرانے والوںتک سب کو حال معلوم ہوتا ہے۔ توکیا وطن عزیز و غریب میں جمہوریت کا سورج طلوع ہو چکا ہے ؟ جمہوریت اور جمہوری نظام نے آمریت کے اندھیارے دور کرکے ہر سو اپنی روشنی پھیلا اور پہنچا دی ہے؟ آمریت کے دور کی بیڈ گورننس کو کفنا دفنا دیا گیا ہے؟ وہ جو بے نظیر پرویز مشرف کے کئے یا امریکہ کے ان سے کرائے این آر او کے تحت انتخابات ہوئے تھے اورجن کے نتیجے میں آئے ہوئے نظام کو بے نظیر جمہوریت کا سنہری دور بتایا اور سمجھایا جاتا ہے اس کی عمر کتنی ہوچکی ہے؟ فروری 2008 اور اگست 2010 کتنے مہینوں سے چل رہی ہے ملک میں بے نظیر جمہوریت کی کالی آندھی؟ اڑھائی سال ہونے کو ہیں توکیا پہنچ چکی ہے اس کی روشنی ملک کے عوام کے ہر گھر اور گھر میں؟ مان لیا آپ عوام کے ہی سامنے جواب دہ ہیں مگر ملک کے سترہ کروڑ عوام وخواص میں سے کتنے کے گھروں میں اس جمہوریت کی اور اس کی گڈ گورننس کی روشنی پہنچ چکی ہے؟ اگر نہیں تو اس میں قصور کس کا ہے؟ عوام کا ہی ہونا چاہئے کہ ان کے انتخاب لاجواب کا تو موقف ہے کہ عوام کے سوا ہم سے کوئی اور پوچھ ہی نہیں سکتا کہ بے نظیر جمہوریت کی کالی آندھی سب کچھ اڑا کر کیوں لے گئی ہے کہیں۔ عوام تو بقول ان کے اتنے دم مست ہیں اس کالی آندھی کے سرور میں کہ انہوں نے تو ان سے کبھی پوچھا ہی نہیںتو پھر اس کالی آندھی کی بربادیوں کے ذمہ دار بھی تو وہی ہوئے ووٹ ان کا انتخاب ان کا جمہوریت ان کی کالی آندھی ان کی سب کچھ تو ہے ہی عوام کا آصف علی زرداری اور ان کی حکمران لمیٹڈ کمپنی عوام کی سترہ کروڑ پر ان سترہ کروڑ کی ہی تو حکمرانی ہے ان کی ہی اپنی حکمرانی بھی ان کی ہی ہے ملک بھر میں ہر جھونپڑی میں جو بھی روشنی ہے ان عوام کی اپنی ہی تو جلائی اور پھیلائی ہوئی ہے وہ روشنی تو کیا ہم ان عوام سے دست بستہ درخواست کر سکتے ہیں کہ ہمیں بھی عطا کر دو اپنی جمہوریت کی روشنی میں سے کچھ؟ اس سے توہین عدالت تو نہیں ہو جائے گی ملک کے عوام کی اس عدالت کی جس کے چیف این آر او شاہ جی ہیں؟ لوگ پوچھتے ہیں عوام ڈوب رہے ہیں سیلابوں میں مر رہے ہیں برباد ہو رہے ہیں اور آصف علی زرداری پیرس اور لندن میں اپنے محلات کی آرائش و زیبائش دیکھتا پھر رہا ہے۔کیوں؟ اوہ بھائی عوام زرداری کے زرداری عوام کا تم پوچھنے والے کون ہوتے ہو؟ جیسا منہ ویسی چپیڑ.... معلوم نہیں پنجاب کے اور ” جیسا منہ ویسی چپیڑ“ کے خادم اعلیٰ ان عقل کے بندوں کو الٹا لٹکانے کیلئے کوئی وقت کیوں نہیں نکال رہے جو کہتے پھرتے ہیں کہ کہاں ہے آمریت کی بیڈ گورننس کی جگہ لینے والی بے نظیر جمہوریت کی گڈ گورننس؟ ہماری خادم اعلیٰ سے عقل بستہ درخواست ہے کہ ا ن کے پاس ان سب کو الٹا لٹکانے کا وقت نہ ہو تو بھی انہیں ہمارا مطلب ہے ان عقل کے بندوں کو سمجھانے کیلئے کوئی جاتی عمرہ تا ایوان صدر طویل مضمون لکھوائیں ان کو سمجھانے کے لئے جو کہتے پھرتے ہیں کہ جمہوریت میں تو اصل حکمران پارلیمنٹ ہوتی ہے وہی پالیسیاں بناتی ہے اور ان پر عمل کراتی ہے مگر بے نظیر جمہوریت نے اڑھائی سال میں اس کیلئے کوئی وقت ہی نہیں نکالا ملک کی آزاد اور خود مختار خارجہ پالیسی کی قرارداد منظور کرکے سالوں سے اس کے اوپر سوئی کیوں ہوئی ہے؟ وہ ڈرون حملے رکوانے کیلئے کوئی لب کشائی کیوں نہیں کر رہی؟ امریکہ کی غلامی کی چوسنی کیوں نہیں نکال رہی وہ پارلیمنٹ اپنے منہ سے؟ اس نے 18ویں ترمیم منظور کرکے بے چارے بھٹو گدی کی مریدی کے مارے یوسف رضا گیلانی کو زردار زرداری سے آزادی کا جو خواب دکھلایا تھا وہ کیوں پورا نہیں کر رہی کیوں پورا نہیں کر سکی؟ عقل کے بندے کہیں کے.... بے نظیر نے پرویز مشرف کے ساتھ امریکہ سے آزادی کا این آر او کیا تھا یا اس کی غلامی کے پرویز مشرف کے آمرانہ منصوبے کو جاری و ساری رکھنے کا؟غلامی کا این آر او اس کے تحت غلامی کے دوام کے لئے کرائے گئے انتخابات اور اس ایجنڈے پر منتخب ہونے والوں کی پارلیمنٹ۔ وہ ہماری اور ہمارے ملک کی آزادی کے لئے اپنے منہ سے چوسنی نکال دے؟ عقل کے بندے کہیں کے۔ نظام حکمرانی کی کارکردگی اور روشنی سورج کی روشنی کی مانند ہوتی ہے اور وہ روشنی غریب کی کٹیا سے امیروں کی پارلیمنٹ تک خود بخود پہنچ جایا کرتی ہے اور جو نظام امریکہ کی غلامی کے این آر او کی عطا ہے اس کی روشنی اور گرمی سے اس کے تحت وجود میں آئی پارلیمنٹ کیسے محروم رہ سکتی ہے؟ اوہ بھائی عقل کے بندے! :۔
چشم زرداری بھی کر خدا سے طلب
جمہوریت کا نور این آر او کا نور نہیں
اس پارلیمنٹ کے ہر رکن اور ارکان کے قائد ایوان اور بے نظیر جمہوریت کے چیف ایگزیکٹو سید یوسف رضا گیلانی کی آنکھیں کس نور سے روشن ہیں؟ جمہوریت کے نور سے یا بے نظیر این آر او کے نور حضور سے؟ ان ارکان کی اور ان کے قائد ایوان کی آنکھیں جو اپنے آقاومولیٰ بلوچوں کے سردار آصف علی زرداری کے ”بہتا کھاﺅ تھوڑا بولو .... کھاتے جاﺅ منہ نہ کھولو“ کے حکم شہنشاہی کے وفادار ووفا شعار ہیں اور یہ مینڈیٹ انہیں بقول سید یوسف رضا گیلانی کے ملک کے ”باشعور“ عوام نے دیا ہوا ہے تو گویا اس غلامی کے مینڈیٹ کی شان میں کوئی گستاخی ان” با شعور“ عوام کی شان میں گستاخی ہے ان عوام کی شان میں جنہوں نے اس این آر او ایجنڈے کو وو ٹ دیا ہوا ہے جو اس ملک اور قوم کی خدمت ہے این آر او کرنے اور کرانے والوں کی تاریخی خدمت ہے۔ دنیا کی ساری تاریخ میں کہیں بھی ایسی اپنے ملک و قوم کی اور اس کے دشمنوں کی مشترکہ خدمت کی کوئی ہے مثال کہیں؟