گورنر پنجاب کی سرور کہانی

کالم نگار  |  اثر چوہان
 گورنر پنجاب کی سرور کہانی

سپریم کورٹ نے وزیر اعظم نواز شریف کی نا اہلی کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت 15 اکتوبر تک ملتوی کر دی ہے۔ دوران سماعت جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ بند دروازے میں کیا ہوتا رہا ہے؟ سب کو معلوم ہونا چاہئیے۔ بھولے جج صاحب! یہ تو اسی وقت معلوم ہو گا جب دروازہ کھولا یا توڑا جائے گا۔ جسٹس شیر عالم نے کہا کہ نااہلی کا کیس کسی کے بھی گلے پڑ سکتا ہے“۔ کسی کے بھی گلے پڑے؟ ہماری بلا سے؟ آپ فیصلہ دے کر نیک نام ہو جائیں۔صادق اور امین صرف قائد اعظم!دوران سماعت جسٹس دوسٹ محمد خان نے کہا کہ اگر درخواست گزار کی بات مان لی جائے تو ساری پارلیمنٹ نا اہل ہو جائے گی صحابہ کرامؓ کے بعد شاید ہی کوئی صادق اور امین رہا ہو؟ سود حرام ہے لیکن ہم کھا رہے ہیں۔ جسٹس دوست محمد خاں نے جو مسئلہ اٹھایا ہے وہ اس سے قبل بھی اٹھایا گیا پھر بٹھا دیا گیا دوست کی شناخت کرتے ہوئے شہزاد احمد نے کہا تھا۔دوست ہوتے تو‘ مجھے منہ پہ برا کہہ دیتےبزم میں سب نے کیا‘ میرا گلہ‘ میرے بعدحکومتی اتحاد میں شامل علماءحضرات بھی صدر مملکت اور وزیر اعظم کو نہیں بتاتے کہ خلیفہ راشد اول حضرت ابوبکر صدیقؓ مدینہ منورہ کے عام مزدور کی آمدن کے مطابق تنخواہ لیتے تھے اور انہوں نے وصیت کر دی تھی کہ میں نے اپنے دور خلافت میں بطور تنخواہ جو 6 ہزار درہم وصول کئے تھے میری جائیداد فروخت کر کے وہ 6 ہزار درہم بیت المال میں جمع کرا دیئے جائیں۔ خلیفہ دوم حضرت عمر بن خطابؓ کو بھری مجلس میں اپنے لمبے قد کے مطابق کرتے کے کپڑے کا حساب دینا پڑا۔ خلیفہ چہارم حضرت علی مرتضیؓ کے خلاف یہودی نے جھوٹا مقدمہ کیا تو امیر المومنینؓ قاضی وقت کی عدالت میں پیش ہو گئے۔ قاضی نے خلیفہ کو کرسی پیش نہیں کی جن سیاسی علماءنے 1973ءکے متفقہ آئین پر دستخط کئے تھے انہوں نے صدر مملکت کو یہ استناءکیوں دیا؟خلیفہ سوم حضرت عثمانؓ نے اپنے وسائل کا ایک بڑا حصہ عام انسانوں کے لئے وقف کر دیا تھا نوابوں اور جاگیر داروں کی طرح زندگی بسر کرنے والے مختلف مسالک کے علماءمتمول طبقے کے مسلمانوں کو یہ اہم نکتہ کیوں نہیں بتاتے؟ ہماری فیڈرل شریعت کورٹ اسلام میں جاگیرداری حلال ہے کا فتوی دے چکی ہے جن سیاستدانوں، پیر صاحبان اور مخدوم زادوں کو انگریزوں اور سکھوں نے مخصوص خدمات انجام دینے پر جاگیریں دی تھیں کیا ان کی آمدن حلال ہے؟ اس بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی منہ پر تالا لگا رکھا ہے۔صحابہ کرامؓ کے بعد پاکستان میں صرف ایک ہی حکمران سیاستدان قائداعظم ہی صادق اور امین تھے۔ اقتدار میں آکر قائداعظم نے اپنی جائیداد میں اضافہ نہیں کیا بلکہ پہلے سے موجود اپنی جائیداد کا ایک ٹرسٹ بنا کر اسے قوم کے نام وقف کر دیا۔ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح نے قیام پاکستان میں اپنے عظیم بھائی کے شانہ بشانہ جدوجہد کی تھی لیکن ”صادق اور امین“ قائداعظم نے اپنی بہن کو حکومت اور مسلم لےگ میں کوئی عہدہ نہیں دیا تھا اب تو ہر سیاسی جماعت یہاں تک کہ قیام پاکستان کی مخالفت کرنے والے علماءکے وارثوں کی باپردہ گھریلو خواتین کے بغیر پارلیمنٹ اور کوئی بھی صوبائی اسمبلی مکمل نہیں ہوتی۔مرسوں مرسوں مال نہ ڈیسوں!!جناب ممتاز علی بھٹو ایک دور میں جناب ذوالفقار علی بھٹو کے Talented Cousin سے مشہور تھے۔ 11 مئی 2013ءکے عام انتخابات سے قبل میاں نواز شریف کی سیاسی بیعت کر کے مسلم لےگ ن میں شامل ہو گئے تھے پاکستان کی صدارت اور کم از کم سندھ کی گورنر شپ کے امیدوار تھے۔ سید غوث علی شاہ پہلے سے ان دونوں عہدوں کے لئے مسلم لےگ ن میں تھے۔ ڈاکٹر عشرت العباد شاید گورنر سندھ کی حیثیت سے زندگی بھر کا پٹا لکھوا کر لائے ہیں۔ صدارت کا منصب جناب ممنون حسین نے اُچک لیا۔ اب سردار ممتاز علی بھٹو کبھی مسلم لےگ ن اور کبھی پاکستان پیپلز پارٹی پر طعن و تشنیع کے پھول برساتے ہیں۔ بلاول بھٹو نے مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈسیوں اور دوسرے صوبے کے حوالے سے نعرہ لگایا تو ممتاز علی بھٹو صاحب نے یہ بھی کہا کہ اپنے دور میں قوم کی جو دولت لوٹی تھی اس کی واپسی کا کب اعلان کریں گے۔ بلاول بھٹو نے کوئی جواب نہیں دیا مجھے سندھی زبان اتنی ہی آتی ہے کہ جتنے پنجابی زبان کے الفاظ اس میں بولے جاتے ہیں میں اگر پیپلز پارٹی میں شامل ہوتا تو جناب ممتاز علی بھٹو کو ترکی بہ ترکی بلکہ سندھی بہ سندھی یہ جواب دیتا کہ مرسوں مرسوں مال نہ ڈسیوں!گورنر پنجاب کی سرور کہانیمیں 22 ستمبر کو اسلام آباد سے لندن پہنچا تھا تو اسی شام ایک نیوز چینل پر لندن میں ایم کیو ایم کے سیکرٹریٹ میں جناب الطاف حسین اور گورنر پنجاب چودھری کی مشترکہ پریس دکھائی سنائی جا رہی تھی۔ گورنر پنجاب کی موجودگی میں جناب الطاف حسین کہہ رہے تھے کہ چودھری محمد سرور ایک دیانتدار انسان ہیں اور انہیں پاکستان کا نگران وزیر اعظم ہونا چاہئیے اور ان کی قیادت میں ٹیکنو کریٹس کی حکومت ہر کرپٹ شخص کا احتساب کرے چودھری صاحب نے الطاف صاحب کے اس خیال یا خواہش کی تردید یا تصدیق نہیں کی تھی لیکن لندن سے شائع ہونے والے بعض کمیونٹی اردو نیوز پیپرز میں شریف خاندان سے چودھری محمد سرور میں کشیدگی کی خبریں شائع ہوئیں۔ ایک اخبار نے تو چودھری محمد سرور کی گورنر شپ سے مستعفی ہونے اور وزیر اعظم کی طرف سے انہیں راضی کرنے کی خبر بھی شائع کی۔میں نیویارک پہنچا تو پنجاب کے ایک سابق نگران (دانشور) وزیر اعلیٰ نے اپنے پروگرام میں بتایا کہ چودھری محمد سرور کافی عرصہ سے بطور گورنر پنجاب خود کو UN EASY محسوس کر رہے ہیں نہ صرف وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف بلکہ ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز بھی گورنر صاحب کی پرواز کو محدود کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ اس دوران مسلم لےگ ن کے کچھ ایسے قائدین بھی زبان بیان کے میدان میں اترے جو چودھری سرور کو گورنر پنجاب بنائے جانے کے ہی خلاف تھے۔ انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف سے چودھری صاحب کی Sincerity (خلوص) کو ہی مشکوک قرار دے دیابہر حال اس وقت کمال ہو گیا جب مسلم لیگ ن کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات جناب مشاہد اللہ خان نے کہا کہ مخالف سیاستدانوں سے مذاکرات کے بعد چودھری محمد سرور کا خلوص شک و شبہ سے بالا تر ہے۔ انہوں نے کہا کہ چودھری محمد سرور برطانوی جمہوریت میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں برطانیہ اور دوسرے ترقی یافتہ ملکوں میں حزب اختلاف کی سبھی جماعتیں برسر اقتدار جماعت یا جماعتوں کی Friendly opposition ہوتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جناب الطاف حسین، گورنر پنجاب سے بہت ہی Friendly ہو گئے ہیں تبھی تو انہوں نے چودھری صاحب کو نگران وزیر اعظم بنائے جانے کی بات بھری بزم میں کہہ دی۔شریف برادران نے چودھری محمد سرور کو گورنر پنجاب بنا کر خسارے کا سوا نہیں کیا چودھری صاحب نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے بھارت کی مخالفت کے باوجود یورپی پارلیمنٹ سے پاکستان کو جی پی ایس پلس دلوایا جس کی وجہ سے پاکستان کی اربوں روپے کی مصنوعات کو ڈیوٹی فری رسائی ہوگئی۔ پاکستانی درآمدات کا حجم 13 بلین ڈالر سے بڑھ کر 26بلین ڈالر ہو گیا۔ چودھری محمد سرور کے ذاتی دوست کی حیثیت سے امور تعلیم کے لئے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اور برطانیہ کے سابق وزیر اعظم جناب گورڈن براﺅن مارچ 2014ءمیں اسلام آباد آئے اور وہاں انہوں نے تعلیم کا نامکمل ایجنڈا کے عنوان سے بین الاقوامی تعلیمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں تعلیم کی ترقی کے لئے یورپی یونین کی طرف سے 10 کروڑ امریکہ کی طرف سے 14 کروڑ اور اقوام متحدہ کی طرف سے 16 لاکھ ڈالر گرانٹ کا اعلان کیا۔چودھری محمد سرور نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان کو خاص طور پر تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں میں پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ برطانوی دارالعوام کے مسلسل 12 سال تک رکن رہنے کے بعد سیاسی طور پر کوئی بھی رجیا پجیا شخص پارٹی کے سربراہ سے تو Sincere رہ سکتا ہے لیکن اس کے بھائی بھتیجوں سے نہیں لاہور کے سابق گورنر میاں محمد اظہر کی بات اور تھی۔ وہ میاں نواز شریف کی بدولت ابھرے تھے اور پھر ڈوب گئے۔ چودھری محمد سرور (ضابطے کے مطابق) برطانوی شہریت ایک بات تو دوبارہ لے سکتے ہیں لیکن لاہور میں ان کا گھر زیر تکمیل ہے۔ ہندوﺅں کے اوتار راجا رام کی 14 سالہ جلاوطنی اور لنکا کے ولن راجا راون کو قتل کر کے بھارت کے موجودہ صوبہ اترپردیش کی قدیم ریاست ایودھیا واپسی پر سنسکرت زبان میں نظم کیا گیا تو اسے راماین یا رام کہانی کہا گیا یہ کہانی اتنی طویل تھی کہ اس کے بعد ہر طویل کہانی کو رام کہانی کہا جانے لگا چودھری محمد سرور جلا وطن نہیں ہوئے تھے۔ اس لئے وطن واپس آتے جاتے رہے اب 40 سال بعد سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر وطن واپس آگئے (واپس نہ جانے کے لئے گورنر پنجاب کی سرور کہانی کتنی طویل ہوگی؟ مجھے نہیں معلوم؟ اس لئے کہ ایک سال اور دو ماہ پہلے یہ کہانی شروع ہوئی تھی۔