لاہور میں پیپلز پارٹی کے نئے زمانے کا آغاز

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
لاہور میں پیپلز پارٹی کے نئے زمانے کا آغاز

ڈپٹی سپیکر سندھ اسمبلی شہلارضا لاہور آئیں تو ان سے ملاقات پیپلز پارٹی کے مخلص اور مستعد  لیڈر سیاست دان منور انجم  کے گھر ہوئی۔ صدر زرداری منصورہ میں سراج الحق کے ساتھ ملے۔ اس سے پہلے کسی کو نہ بتایا جو لوگ ان کے ساتھ تھے انہیں بھی شاید علم نہ تھا کہ وہ کہاں جا رہے ہیں؟ گیلانی، کائرہ، امین فہیم اور منظور۔
امیرالعظیم فرید پراچہ اور حافظ ادریس  پنجاب یونیورسٹی لاہور کی سٹوڈنٹس  یونین کے صدر تھے۔ تب برادرم جہانگیر بدر بھی یہاں تھے۔ وہ الیکشن میں ہار گئے تھے مگر انہوں نے ووٹ بہت لئے تھے پہلے صدر زرداری نواز شریف سے ملنے آئے مگر منصورہ جا کے سراج الحق سے ملے۔ سراج صاحب نواب زادہ نصراللہ  بننا چاہتے ہیں۔ وہ نواز شریف کے قابل اعتماد آدمی ہیں مگر اس ’’کام‘‘ کے لئے عمران خان کی تجویز پر آئے ہیں نواب زادہ نے بھی نواز شریف اور بے نظیر بھٹو دونوں کو اپنا مرید بنا رکھا تھا۔ باقی تفصیل برادرم منیر احمد خان سے پوچھیں۔  وہ آج کل پیپلز پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔ انہیں پیپلز پارٹی چھوڑنی نہیں چاہئے تھی۔ ابھی منظور وٹو بھی پیپلز پارٹی میں ہیں۔ وہ منیر خان  کے بہت دوست ہیں۔
کچھ لوگ مذاق مذاق میں کہہ رہے ہیں کہ کہیں یہ تو نہیں ہے کہ ’’صدر‘‘ زرداری جماعت اسلامی جائن کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں؟ وہ مفاہمت کی سیاست کے ماہر ہیں۔ پہلے رحمان ملک کو سراج الحق کے پاس بھیجا۔ اب خود سراج صاحب سے دوسری بار ملے ہیں۔ سراج صاحب اور رحمان ملک سے تو کچھ نہیں ہو سکا۔ ’’صدر‘‘ زرداری کی مفاہمت پالیسی کے لئے وقت سازگار ہے۔ وہ اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ مگر ان کے دل میں کیا ہے۔ یہ تو خود بھی کچھ دیر کے بعد انہیں پتہ چلتا ہے۔ دوسری مرتبہ بھی بلاول بھٹو زرداری ان کے ساتھ لاہور نہیں آئے۔ وہ بھی پنجاب آئے تھے۔ خیال ہے کہ وہ بار بار آئے تو پنجاب میں کچھ نہ کچھ ہو گا۔ نواز شریف نے انہیں سربراہ مملکت کا پروٹوکول اور سکیورٹی دلوائی تھی؟ صدر زرداری نے کچھ سوچ کر ہی اسے الیکشن سے آئوٹ کیا تھا۔ پنجاب میں پیپلز پارٹی والے بہت مایوس ہیں۔ وہ نواز شریف کی حمایت نہیں کرنا چاہتے اور مخالفت بھی نہیں کرنا چاہتے۔ بلاول کو انہوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ پنجاب میں پیپلز پارٹی کے مخلص لوگوں کو ان کے نزدیک نہیں جانے دیا گیا۔
سندھ میں شیری رحمان بلاول کے ساتھ ساتھ تھی۔ وہ عوامی شخصیت نہیں ہے۔ ڈیموکریٹک کی بجائے بیورو کریٹک رویہ سیاست میں نہیں چلتا۔ اس کے لئے ’’صدر‘‘ زرداری نے جو رویہ اپنا ہے وہ آئیڈل ہے۔ نجانے شیری رحمان کا آئیڈل پیپلز پارٹی میں آج کل کون ہے؟ بلاول کے ساتھ فریال تالپور ہوتی تو اچھا تھا۔ ورنہ شازیہ مری اور شہلا رضا بھی ٹھیک ہیں۔ ان تینوں کا رویہ سیاسی ہے اور سیاسی رویہ دوستانہ رویہ ہوتا ہے۔ 
منور انجم کے گھر پر شہلا رضا آئیں ان کے شوہر قادر بخش  بھی تھے۔ یہاں نوید چودھری سے بھی ملاقات ہوئی۔ اس کی دھیمی دھیمی جگتیں اور تیز تیز جملے دوستانہ انداز میں مزہ پیدا کر دیتے ہیں۔
منور انجم سے اس کی باتوں کا تبادلہ خوبصورت تھا۔ منور پیپلز پارٹی کے ساتھ بہت مخلص ہے۔ وہ بے نظیر بھٹو کے قریب تھا۔ میڈیا کے لئے اس کی خدمات قابل ذکر ہیں۔ وہ ’’صدر‘‘ زرداری کا بھی بہت مداح ہے مگر آج کل ’’صدر‘‘ زرداری کی محفلوں میں دیکھا نہیں جاتا۔ شہید بی بی سے میرا رابطہ تھا مگر اس میں منور انجم کی کوششوں کا بہت دخل ہے۔ لاہور کی جو اہمیت میڈیا کے حوالے سے ہے۔ اسے سیاست دانوں کو محسوس کرنا چاہئے۔ اس لحاظ سے اب بھی منور انجم  بہت سرگرم ہے۔ شہید بی بی سے آخری ملاقات لطیف کھوسہ کے گھر پر ہوئی۔ منور انجم نے مجھے بتایا تھا کہ چند صحافیوں کی فہرست میں تمہارا نام خود بی بی نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا۔
منور کے گھر میں بی بی شہید اور زرداری کی تصویریں ہیں۔ ایک تصویر بی بی کے لندن والے گھر کی تھی۔ تصویر میں شاہ محمود قریشی بھی کھڑے ہیں۔ جیسے آج کل عمران خان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ بختاور کی تصویر بھی منور انجم  کے بچوں کے ساتھ نمایاں ہے۔ ’’صدر‘‘ زرداری اور بلاول کا ذکر بھی ہوا اور بڑی محبت سے ہوا۔ بلاول کے لئے ان کی آنکھوں میں وہی چمک ہے جو شہید بی بی کی آنکھوں میں ہوا کرتی تھی۔ وہ اپنی شخصیت کے حوالے سے بے نظیر بھٹو کی طرح خاتون لگ رہی تھیں۔ گریس اور جمال کی وہی جھلک ان کے سراپے میں تھے۔ حیرت ہے کہ پیپلز پارٹی کی بہت سی خواتین شہید بی بی کی ہم شکل لگنے لگی ہیں۔ فائزہ ملک اور بشری ملک  تو اس محفل میں تھیں۔ فرزانہ راجہ، فہمیدہ مرزا بھی کچھ کچھ بی بی جیسی دیکھنے میں لگتی ہیں۔ حاجی عزیزالرحمان چن،  ضیااللہ بنگش اور کئی سینئر  سیاست دان مجھ سے پہلے ہی محفل سے جا چکے تھے۔  منور انجم نے شہلا رضا سے اپنی پارٹی کے بہت دوستوں کی ملاقات کا اہتمام کیا تھا۔ یہ ایک اچھی روایت ہے۔ 
شہلا رضا کی باتوں میں پیپلز پارٹی کے لئے ایک ذوق و شوق تھا۔ انہوں نے مجموعی طور پر تمام سیاسی پارٹیوں میں ’’بیگمات کلچر‘‘ کے عمل دخل کی تنقید کا نشانہ بنایا جس میں ان کی دردمندی  پوری طرح نظر آ رہی تھی۔ وہ ڈپٹی سپیکر ہیں اس کے باوجود عوامی شخصیت  ہیں گھر میں ٹیلی فون وہ خود ہی اٹھاتی ہیں۔ کوئی کارکن کسی وقت بھی آ سکتا ہے گھر کے دروازے اور دل کے دروازے پارٹی کے لوگوں کے لئے کھلے ہیں۔
شہلا رضا ہر کسی کو خوش آمدید کہتی ہیں۔ وہ خوشامد کلچر کو بھی سیاسی پارٹیوں کے لئے نقصان دہ سمجھتی ہیں۔ کئی لوگ خوشامد اور خوش آمدید میں فرق نہیں کرتے۔ وہ بتا رہی تھیں کہ ایک لیڈر کی ماں کے لئے بھی خوشامدانہ رویہ ہمارے لوگ اختیار کئے ہوئے تھے۔ میں ایسا نہیں کر سکتی تھی کہ میری ماں ان کی ماں سے بڑی ہیں۔ اپنی ماں کے لئے اس احساس میں تشکر ہے جسے تکبر نہیں کہا جا سکتا۔ ماں سانجھی ہوتی ہے۔ ’’ماواں ٹھنڈیاں چھاواں‘‘۔ مگر ماں اپنی  چھائوں سب کے لئے بچھا دے۔ وہ جہاں کھڑی ہو جائے تو ایک درخت نمودار ہو جائے۔ انہوں نے خوب باتیں کیں ان کے شوہر قادر بخش سے گفتگو کا بھی بہت مزہ آیا۔ علمی ادبی آدمی ہیں۔ میں حیران ہوا جب انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم نے شاعری کیوں چھوڑ دی ہے ان کی باتوں کے حوالے سے الگ کالم کی ضرورت ہے۔ کراچی سے لوگ آئے ہیں تو لاہور میں پیپلز پارٹی کے نئے دن آئے ہیں۔ یہ بات تحریک انصاف کے لئے کوئی پیغام ہے یا ن لیگ کے لئے کوئی خبر ہے۔