”کرایہ ۔اپنا اپنا!“

کالم نگار  |  اثر چوہان

وزیرِاعظم کے دورہ¾ چِین پر ،نجی میڈیا گروپس کے، چھ ارکان بھی، اُن کے ساتھ ہیں ۔ ایسا پہلی مرتبہ ہُوا ہے کہ وزیرِاعظم کے ساتھ، بیرونی دَورے پر جانے والے صحافی، اپنے ہوائی سفر اور بیرونِ مُلک، قیام و طعام کے اخراجات خود یا اُن کے میڈیا گروپس برداشت کررہے ہیں۔ حکومت کا یہ اقدام سرکاری خزانے پر بوجھ کم کرنا ہے ۔فی صحافی،اخراجات کا تخمینہ 3,48,407روپے لگایا گیا ہے۔ایسی پالیسی کو ۔"American System" ۔ بھی کہا جاسکتا ہے ۔یعنی۔ جب کچھ دوست،کسی رَیستوران میں اکٹھے کھانا کھائیں یا پکنک منائیںاور اپنا خرچ خود اُٹھائیں،لیکن یہ سسٹم توہمارے یہاںموجود رہاہے ۔مَیںنے لڑکپن میں دیکھا ہے کہ، جب ،سرگودھا شہر میں ۔” سِیرة اُلنبی “ ۔تبلیغ یا کسی دِینی مقصد کے لئے، بڑا جلسہ ہوتا تھا تو،پہلے سے ہی قصبوں اور دیہات کی عام گُزر گاہوں پرپوسٹر لگادئیے جاتے تھے ،جِن پر ،فرزندانِ اسلام سے ،جلسے میں شرکت کی اپیل کے ساتھ ساتھ،یہ بھی لِکھا ہوتا تھا کہ۔”براہِ مہربانی ،جلسے میں شرکت کے لئے،موسم کے مطابق ،بسترہمراہ لائیں!“۔ جلسے کے شُرکاء۔موسم کے مطابق بستر ہمراہ لاتے اور جلسے کے اختتام کے بعد، جلسہ گاہ میں ،بچھی درِیوں پر ہی سو جاتے تھے اور جلسے کے مقرّرین۔ ( مولانا صاحبان) ۔کا قیام و طعام کسی مسجد یا مدرسے میں ہوتا تھا ۔
آج کے دَور میں ،ہر شہر میں مذہبی جلسوں کے شُرکاء،موسم کے مطابق بستر ہمراہ نہیں لاتے ۔ اپنے کسی رشتہ دار /دوست کے گھر یا ہوٹل میں ٹھہر جاتے ہیں۔ 23دسمبر2012ءکو، پاکستان کے مختلف شہروں اور دیہات سے جو۔” 20لاکھ لوگ“۔ لاہور میں، علّامہ طاہر اُلقادری کے جلسے میںگئے تھے ، لاہور میں قیام و طعام کی ذمہ داری ،اُن کی اپنی تھی ۔علّامہ القادری نے بتایا تھا کہ ۔” میرے جلسے میں شریک ہونے کے لئے، اکثر لوگ ،اپنے سکوٹر/موٹر سائیکل ،مکان اور عورتیں اپنے زیورات فروخت کر کے آئی ہیں“۔ وزیرِاعظم کے ساتھ بیجنگ جانے والے کسی بھی صحافی کو، اپنی کوئی چیز فروخت نہیں کرنا پڑی ،کیونکہ ہر صحافی کا میڈیا گروپ، اُس کے لئے ،3,48,407روپے ،خرچ کر سکتا ہے ۔ ہمارے یہاں ۔”قومی بچت“۔ کا ادارہ پہلے سے موجود تھا،لیکن اُس نے اپنی گُوناگُوں مصروفیات کی وجہ سے، کسی بھی حکومت کو یہ نُسخہ نہیں بتایا کہ۔” اگر صدریا وزیرِاعظم کے ساتھ ،بیرونی دَورے پر جانے والے صحافی، اپنے اخراجات خود برداشت کریں تو۔” قومی خزانے پر بوجھ“۔ کم ہو سکتا ہے !“۔ظاہر ہے کہ، وزیرِاعظم کے ساتھ بیجنگ جانے والے سرکاری میڈیا کے اخراجات تو، حکومت ہی برداشت کرے گی۔بیرونی دَوروں پر، عام طور پر ہمارے حُکمران پہلے سے لِکھی ہُوئی تقریریں ہی پڑھتے ہیں، جووزارتِ اطلاعات کی طرف سے، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو ،پہلے ہی مہیا کر دی جاتی ہیں ،پھر ہر میڈیا گروپ ،اپنے کسی کارکن پر محض ۔” مَیں بھی حاضر تھا وہاں!‘۔ لکھنے کے لئے، ساڑھے چار لاکھ روپے کیوں خرچ کرے گا؟ ۔میرا تجربہ ہے کہ، صدر یا وزیرِاعظم کے ساتھ جانے والا صحافی، اپنے ساتھ جتنا بھی چاہے سامان، لے جا اور لے آ سکتا ہے۔اب اپنے بیرونی دَوروں میںاپنے اخراجات خُود برداشت کرنے والے صحافیوں کو۔” نجی تجارت“۔ کے فروغ میں دلچسپی لینا ہو گی۔” نالے حج تے نالے وپار!“۔
مجھے خوشی ہے کہ سرکاری سطح پر، کفایت شعاری کا آغاز ،جناب وزیرِاعظم کے دَورہءچِین سے ہُوا ۔چِین ۔جو ہمارا عظیم دوست ہے۔ جنرل ضیاءاُلحق، چِین کا دَورہ کر کے آئے ۔تو وزارتِ اطلاعات نے،مُلک بھرسے، سرکاری خرچ پر،سینئر صحافیوں کواسلام آباد مدعو کِیا۔ یکم جنوری کو ،راولپنڈی کے فلیگ سٹاف ہاﺅس میں،خطاب کرتے ہُوئے، جنرل صاحب نے کہا کہ۔” اگر ہمارے لوگ پان کھانا اور سگریٹ پِینا کم کر دیں تو، سال میں اربوں روپے کی بچت ہو سکتی ہے !“۔ جنرل صاحب کو ، چِین جا کر پتہ چلا تھا کہ، وہاں۔ وزراءاور اعلیٰ سرکاری افسران ، سائیکلوں پر دفتر آتے جاتے ہیں۔ جنرل ضیا ءاُلحق نے بھی، ایک دِن اسلام آباد میں ۔” سائیکل سواری کا مظاہرہ کیا۔خُفیہ ایجنسیاں اور قانون نافذ کرنے والے سارے ادارے ،جنرل صاحب کی سیکورٹی پر مامور تھے ۔اُدھر بعض لوگوں نے امریکی سفارت خانے کو آگ لگا دی ۔ لاہور کے معروف ماہرِ تعلیم( سیّد محمد علی جعفری ایجوکیشنل سوسائٹی) کے رُوح ِ رواں، سیّد یوسف جعفری راوی ہیں کہ۔”جنرل ضیاءاُلحق سے، وہ سائیکل چودھری ظہور الہی(مرحوم) نے ،تحفے میںلے لی تھی، جو ترکے میں، چودھری شجاعت حُسین کو مِلی۔ پھِر چودھری صاحب نے ۔”سائیکل“۔ کو مسلم لیگ ق کے انتخابی نشان کے طور پر،الیکشن کمیشن سے رجسٹر کرا لِیا ۔
خاکسار تحریک کے بانی ،علاّمہ عنایت اللہ خان المشرقی خاکسار تحریک کے دوسرے عہدیدار اور کارکن، جب کسی کے گھر جاتے تھے تو میزبان کو ۔”مہمان نوازی کا نقد معاوضہ“۔ ادا کر دیتے تھے۔ مَیں نے یہ واقعہ پڑھا ہے کہ، علّامہ مشرقی ، ایک بار، قائدِاعظمؒ سے مِلنے گئے ۔قائدِاعظمؒ کے خدمت گارنے ،علّامہ صاحب کو شربت پیش کِیا ۔علّا مہ صاحب نے شربت پی کر، تین پیسے جیب سے نکال کر میز پر رکھ دئیے اور کہا کہ۔” ہم میزبان پر بوجھ نہیں بنتے ۔یہ ہے شربت کی قیمت!“۔ قائدِاعظمؒ نے کہا۔ ”یہ آپ نے کیسے اندازہ کر لیا کہ شربت کا گلاس تین پیسے میں تیار ہُواہے؟۔ علّامہ صاحب بولے۔” مَیں عالمی سطح کا حساب دان ہوں،مُجھے اندازہ ہے“۔ قائدِاعظمؒنے کہا کہ۔ کبھی بازار جائیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ،شربت کے اِس گلاس کی لاگت چھ پیسے ہے“۔ پولیس کے ا علیٰ افسران کو، اشیائے خورو نوش کی قیمتوںکے بڑھنے کا عِلم نہیں ہوتا ۔اِس لئے کہ اُن کی یہ ذمہ داری تو، متعلقہ تھانے کے ایس ۔ایچ۔او نے سنبھالی ہوتی ہے ۔
بہرحال مَیں تو، اس فیصلے کے حق میں ہُوں کہ جو بھی صحافی ،صدر یا وزیرِاعظم کے ساتھ بیرونی ملک دَورے پر جائے، اپنے ہوائی سفر اور وہاں قیام و طعام کے اخراجات خود برداشت کرے ۔ اُن اخباری مالکان کے لئے کوئی مُشکل نہیں جنہوں نے،صحافت اور سیاست سے رغبت نہ رکھنے کے باوجود،صدر یا وزیرِاعظم کی قُربت کے حصول کے لئے ،میڈیا گروپس بنا رکھے ہیں۔ وہ تو ہر بیرونی دورے پر ،حکومت کے رفاحی منصوبوںکے لئے ، مُنہ مانگا چندہ بھی دے سکتے ہیں ۔ مَیں تصّور کی آنکھ سے دیکھ رہا ہوں ۔ آپ بھی دیکھئے کہ۔ لاہور ،کراچی ،کوئٹہ یا پشاور سے کوئی میڈیا پرسن ، اسلام آباد آکر،اپنے خرچ پر کسی ہوٹل میں ٹھہرتے ہےں اور اخلاقاً کسی حکومتی میڈیا چِیف سے، اُن کے دفتر میں ملاقات کرتے ہےں ۔میڈیا چِیف ۔بچت سکیم کے تحت ،مہمان کو، خالی چائے پیش کرتے اور پوچھتے ہیں ۔” آپ ٹھہرے کہاں ہیں ؟“۔ میڈیا پرسن۔انہیں ہوٹل کا نا م بتاتے ہیں ۔تو میڈیا چِیف پوچھتے ہیں ۔” بھابھی بھی ساتھ ہیں؟“۔ میڈیا پرسن بتاتے ہیں ۔”جی ہاں!۔ بچے بھی ساتھ ہیں“۔ میڈیاچِیف کہتے ہیں۔” تو پھر ٹھیک ہے ،مَیں آپ کی بھابھی اور بچوں کو ساتھ لے کر آپ سب سے مُلاقات کے لیے ،ٹھیک 8 بجے آپ کے ہوٹل پہنچ جاﺅں گا“ ۔