”دےکھتی آنکھےں“

کالم نگار  |  نوازرضا۔۔۔ںوٹ بک

ےہ نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہےں ، مےرا زمانہ طالب علمی مےں انوار فےروز سے اس وقت تعارف ہوا جب مےں روزنامہ تعمےر مےں ” طالبعلم کی ڈائری“ کی اشاعت کے لئے جاتا تھا تو اےک چھوٹے سے کمرے پر مشتمل رپورٹنگ روم مےں جس جواں سال شخص سے ملاقات ہوتی وہ انوار فےروز تھے البتہ ان سے دوستی کا آغاز 1968ءمےں اےوب حکومت کے خلاف تحرےک مےں ہوا اس دور مےں راولپنڈی مےں جہاں گنتی کے چند اخبارات تھے وہاں اخبارنوےسوں کی تعداد بھی انگلےوں پر گنی جا سکتی تھی انوار فےروز راولپنڈی کے ان نماےاں اخبارنوےسوں مےں سے اےک تھے اس دور مےں اکرام الحق شےخ جےسے قد آور صحافی تھے انوار فےروز کا شمار بھی ان ہی قد آور صحافےوں کے قبےلہ مےں ہوتا تھا اس دور کے صحافی کے پاس گاڑی تھی اورنہ کوئی اور سہولت۔ بلکہ اس دور کا صحافی پےدل ہوتا تھا انوار فےروز کی پےدل چلنے کی عادت نے عمر بھر گاڑی مےں سفر کرنے سے آزاد کر دےا مےلوں پےدل چلنے کی عادت نے ہی انہےں ”کمزور دل “ کے باوجود 75سال تک چلتے پھرتے رکھا وہ مسجد مےں باقاعدگی سے نماز کی ادائےگی کرتے اور اےک کونے مےں جا کر بےٹھ جاتے اور اللہ اللہ کرتے ، عارضہ قلب مےں مبتلا تو تھے ہی لےکن انہوںنے کبھی اس بےماری کو اپنے دل سے لگاےا اور نہ ہی اسے اپنی مجبوری بنائی مرحوم انوار فےروز کا صحافتی کےرےئرصدی پر محےط ہے وہ روزنامہ تعمےر کے چےف رپورٹر رہے جہاں راہی کے نام سے ان کا مختصر کالم شائع ہوتاتھا ےہ کالم قارئےن مےں بڑی دلچسپی سے پڑھا جاتا تھا وہ کچھ عرصہ تک انگرےزی اخبار نےو ٹائمز راولپنڈی کے شعبہ رپورٹنگ اور رےڈےو پاکستان سے وابستہ رہے وہ روزنامہ نوائے وقت سے 35سال سے زائد عرصہ تک وابستہ رہے اور مختلف حےثےتوں مےں کام کےا وہ رپورٹنگ،اور نےوزڈےسک کے سےنئر رکن رہے وہ کئی سال تک روزنامہ نوائے وقت کے ادبی صفحہ کے انچارج رہے مرحوم روزنامہ نوائے وقت مےں ڈسٹرکت نےوز اےڈےٹر کے فرائض انجام دےتے رہے ہےں انوار فےروز” دےکھتی آنکھےں “، کے عنوان سے کالم لکھا کرتے تھے مرحوم ملنسار شخصےت تھے جب کوئی شخص ان سے پہلی بار ملاقات کرتا تو ان کاہی ہو جاتا وہ پےشہ صحافت مےں جونئےر ساتھےوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے ۔انوار فےروز کہنہ مشق صحافی،کالم نگار، صاحب طرزادےب و شاعر تھے رےٹائرمنٹ کے بعد وہ اپنا زےادہ وقت ادبی تقرےبات مےں گزارتے تھے کچھ عرصہ قبل جب ان کی اہلےہ محترمہ اس دنےا سے اٹھ گئےں تو انوار فےروز بھی اندر سے ٹوٹ پھوٹ گئے انہوں نے کبھی اپنے دل کی بات کسی سے شےئر نہےں کی وہ اندر ہی اندر گھلتے جا رہے تھے پچھلے دنوں ان سے زاہد حسن چغتائی کی والدہ محترمہ کی نماز جنازہ کی ادائےگی کے موقع پر ملاقات ہوئی تو مےں نے ان سے ان کی گرتی ہوئی صحت کے بارے مےں استفسار کےا تو وہ طرح دے گئے وفات سے اےک روز قبل بھی انہوں نے اےک مشاعرہ میں شرکت کی اور روزنامہ نوائے وقت اسلام آباد مےں اپنے پرانے ساتھےوں سے ملاقات کے لئے آئے شاےد موت کے فرشتے نے ان کو اپنے پرانے ساتھےوں سے آخری ملاقات کا موقع دےا مرحوم انوار فےروز ہنس مکھ اور محفل آرائی کرنے والے صحافی تھے وہ خوش خوراک تھے ہی لےکن ہر روز باقاعدگی سے گھر سے اپنا لنچ لے کر آتے تھے اور اپنے ساتھےوںکو” دعوت شےراز “مےں شرکت کرتے جب تک ان کی اہلےہ محترمہ بقےد حےات تھےں وہ باقاعدگی سے اپنی رہائش گاہ پر دعوتوں کا اہتمام کرتے تھے ان کے معالج ڈاکٹر انعام جو مےرے دوست بھی ہےں اپنے” مرےض خاص “ کی وفات پر دل گرفتہ تھے ان کاکہنا ہے انوار فےروز طوےل عرصہ سے عارضہ قلب مےں مبتلا تھے وہ اپنی قوت ارادی سے اےک عام آدمی جےسی زندگی بسر کر رہے تھے انہوں نے کبھی کسی سے اپنے علالت کا ذکر نہےںکےا جب پےر کی دوپہر ان کو دل کی تکلےف ہوئی تو وہ منٹوں مےں اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ انہےں جہاں صحافتی حلقوں مےں قدر ومنزلت کی نگاہ سے دےکھا جاتا تھا وہان وہ ادبی حلقوں کے روح رواں تھے وہ عمر کے آخری حصے تک ادبی و علمی کتب پر تبصرے اور کالم نوےسی کرتے رہے ان کے شعری مجموعہ ”سمندر مضطرب“کو علمی وادبی حلقوں مےں زبردست پذےرائی حاصل ہوئی ہے ان کا کلام ملک کے پاےہ کے ادبی رسائل و جرائد مےں شائع ہوتا ہے انوار فےروز نے ملک کی اہم سےاسی وغےر سےاسی شخصےات کے انٹروےوز کئے اور اہم تقرےبات کی کورےج کی وہ اس دور کے صحافی ہےں جب اےک رپورٹر بےک وقت کئی کئی شعبے کور کےا کرتا تھا پچھلے 50 سال کے دوران ان کے سےاست دانوں سے ذاتی تعلقات قائم ہوئے تھے ان کے ہاں بڑے بڑے سےاست دان حاضری دےا کرتے تھے لےکن ان کی نماز جنازہ مےں جہاں ان کے عزےزو اقارب اور صحافتی برادری نے کثےر تعداد مےں شرکت کی وہاں پاکستان مسلم لےگ (ن) کے چےئرمےن سےنےٹر راجہ محمد ظفر الحق عبدالرشےد ترابی، خالد ابراہےم راحت قدوسی، ڈاکٹر جمال ناصر اور ملک حاکمےن کے سوا سےاسی قبےلے کی بڑی شخصےات مےں سے کوئی بھی نہ تھی جو ان کی زندگی مےں ان سے اےک پل بھی دور نہےں ہوا کرتی تھےں ےہ صحافت کا المےہ ہے جب کوئی صحافی اخبار کی سےڑھےاں اتر جاتا ہے سےاسی دوست بھی اس سے آنکھےں پھےر لےتے ہےں انوار فےروز بھی ان ہی صحافےوں میں سے اےک ہےں جب وہ کلاس ون اخبار مےں تھے تو ان کا طوطی بولتا تھا دور حاضر کے صحافی جس نے بھوک و افلاس کا دور نہےں دےکھا وہ کس طرح انوار فےروز کو پہچان سکے گا وہ تو اسے وقار عمران، افتخار احمد خان اور شہرےار خان کے والد ،محسن رضا خان کے چچا کے طور پر ہی جانتے ہےن جب کہ مےں ےوسف زئی قبےلے کے اس سپوت کو جانتا ہوں جس کا تعلق اٹک سے تھا لےکن وہ کم و بےش 50،60سال سے راولپنڈی کے ہوکر رہ گئے وہ اپنے پورے خاندان کو صحافت کے پےشہ مےں لے کر آئے جس مےدان صحافت مےں نام پےدا کےا ہے لےکن ان سب کی پہچان انوار فےروز ہےںانوار فےروز کا شمار ان صحافےوں مےں ہوتا ہے جنہون نے عمر بھر اپنے قلم سے نظرےہ پاکستان کی آبےاری کی اسلام اور پاکستان کے دشمنوں کے لئے برہنہ تلوار تھے پاکستان کا دوست ان کا دوست اور پاکستان کا دشمن ان کا دشمن تھا وہ اےک نظرےاتی صحافی تھے انہوں نے اپنے نظرےات پر کبھی کمپرومائز نہےں کےا مےں نے انوار فےروز کے ساتھ مختلف حےثےتوں سے کام کےا ان سے بہت کچھ سےکھاان کے ساتھ روزنامہ نوائے وقت مےں کم وبےش 30سال اکھٹے کام کےا ان سے بے تکلفی کا ےہ عالم کہ جب ان سے محفل آرائی ہوتی چھوٹے بڑے کی تمےز ختم ہو جاتی وہ اپنی عمر سے چھوٹوں کے ساتھ چھوٹے بن جاتے اور مذاق کرنے اور مذاق برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے تھے ان کا ےہی کھلاپن ان کی مقبولےت کا باعث بن گےا تھا ےہی وجہ ہے آج ان کی وفات پر جہاں نوائے وقت کا ہر کارکن افسردہ ہے وہاں راولپنڈی و اسلام آباد کی علمی و ادبی محفلےں بھی اجڑ گئی ہےں۔