مصرمیں بنگلہ دیش ماڈل

مصر کے آرمی چیف اس حقیقت سے بے خبر معلوم ہوتے ہیں کہ آئین توڑنے اور اس کو منسوخ کرنےکا جرم غداری کہلاتا ہے اور اس پر پھانسی کی سزا ہو سکتی ہے، یہی حال وہاں کے چیف جسٹس کا ہے جنہیں شاید علم نہیںکہ آئین توڑنے میں معاونت کی سزا بھی وہی ہے، اوروہ کرسی صدارت پر براجمان ہو گئے۔
فوجی انقلاب کے لئے جوتاریخ چنی گئی ، وہ وہی ہے جب پاکستان میں جنرل ضیا الحق نے ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم بھٹو کا تختہ الٹا تھا۔ ہمارے اس وقت کے چیف جسٹس نے اقتدار میں شرکت تو نہیں کی لیکن فوجی شب خون کو نظریہ ضرورت کے تحت جائز قرار دیا تھا۔
پاکستان اور مصر کی فوجی بغاوت میں ایک مماثلت اور بھی ہے، جنرل ضیا کو بھٹو نے آرمی چیف بنایا تھا، مشرف کو نواز شریف نے فیتے لگائے تھے،مصر میں بھی معزول صدر مرسی نے جنرل عبدالفتاح السیسی کو آرمی چیف مقرر کیا تھا،اسی نے ایوان صدر کو فتح کرنے کا کارنامہ انجام دیا ہے۔
مگر کیااس فوجی بغاوت کا سارا الزام جنرل سیسی کو دیا جا سکتا ہے جبکہ اسے اقتدار میں کوئی حصہ بھی نہیں ملا ، کم از کم ابھی تک انہوںنے کوئی نئی ٹوپی نہیں پہنی، بلکہ ملک کے چیف جسٹس عدلی منصور کوعبوری صدر مقرر کر دیا ہے۔ عدلی منصور کو حسنی مبارک نے جج بنایا تھا اورایک ہفتہ قبل ہی صدر مرسی نے انہیں چیف جسٹس کا رتبہ عنائت فرمایا، گویا جن دو فرشتوںنے مرسی کے اقتدار کا گلا گھونٹا ہے، انہوں نے اسی کی گود میں پرورش پائی ہے ، میں یہ تو نہیں کہہ سکتاکہ ہر فرعونے را موسی لیکن مرسی پر چڑھائی کرنے والے جرنیل اور چیف جسٹس دونوں مرسی کی گود میں پلے بڑھے۔
کیا یہ بھی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ مصر نے بنگلہ دیش ماڈل کو اپنانے میں ہم پاکستانیوں پر سبقت حاصل کر لی ہے، ہم باتیں کرتے اور سوچتے رہ جاتے ہیں، زرداری کو ہٹانے کے لئے ہر روز ہم بنگلہ دیش ماڈل کی راہ تکتے رہتے تھے مگر اے رو سیاہ تجھ سے تو یہ بھی نہ ہوسکا!مصر میں چیف جسٹس نے پھرتی دکھائی اور فوج کی مدد سے اقتدار پر شب خون مارنے میں ایک لمحے کا تامل نہیں کیا۔
عرب بہار کے قصیدہ خوانوں سے مجھے دلی ہمدردی ہے، انہوں نے عرب بہار کے رزمیہ گیت لکھے اور شاہنامے تخلیق کئے مگر ان کی سیاہی ابھی خشک نہ ہونے پائی تھی اور بہار کے شگوفے مکمل پھول بھی نہ بننے پائے تھے کہ ان پر خزاں چھاگئی۔
 محصور صدر مرسی اور ان کے ایک نائب الحدادنے ہر چند فیس بک اور ٹوئٹر پر وارننگ جاری کی کہ ایک عوامی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے پر گلیوں ، بازاروں اورتحریر چوک میں خون کی ندیاں بہہ نکلیں گی، مگر رد عمل تو ضرور سامنے آیا ، بس شکل مختلف تھی ، لوگ خوشی کے مارے رقص کرنے لگے اور کچھ ایک تو نشے میں دھت بھی نظر آئے،یہ مناظر بھی پاکستان کے ری پلے تھے، جنرل ضیا اورجنرل مشرف کے مارشل لا پر لوگوں نے گھی کے چراغ جلائے، حلوے کی دیگیں پکائیں اور مٹھائیوں کے ٹوکرے بانٹے ، ہمارے دوست میاں محمد اظہر کے گھر پر تو ساری رات آتش بازی کامظاہرہ جاری رہا۔ آجکل محمد سرور جس بے تابی سے لندن میں ہائی کمشنر بننے کے منتظر ہیں ، اس سے زیادہ بے چینی کے ساتھ میاں محمد اظہر اسلام آباد سے ایک وی وی آئی پی طیارے کی آمد کے ساری رات منتظر رہے جس نے انہیں سیدھے اسلام آباد کے پرائم منسٹر ہاﺅس میں اتارنا تھا۔ مصر کی گلیوں میں بھی لوگوں نے فرط مسرت سے بھنگڑے ڈالے، وہ بھول ہی گئے کہ ابھی کوئی دو سال قبل انہوںنے حسنی مبارک کی معزولی پر بھی اسی انداز میںخوشیاں منائی تھیں۔ اور پھر جب اسے پنجرے میں بند کرکے عدالت میں پیش کیا گیا تو بھی انہی نوجوانوںنے دیوانہ وار رقص کیا تھا۔
امریکہ عرب بہار کے جھونکوں پر بھی مسرت کا اظہار کرتا رہا، اب اس بہار کے دم توڑنے پر بھی وہ اپنی خوشی چھپانے سے قاصر ہے۔اخوان المسلمون کی انتخابی کامیابی کو اس نے دل پر پتھر رکھ کر قبول کیا تھا، مگر اسے ہضم نہ کر سکا۔بہت دیر کی بات ہے جب صدر ناصر نے اخوان المسلمون کے رہنماﺅں کو پھانسی کی سزا دی تھی،سید قطب اپنی علمیت کی وجہ سے زندہ جاوید ہو گئے، مگر آج عرب ٹائمز نے صفحہ اول پر ایک کارٹون شائع کیا ہے جس میں ایک قبر کے کتبے پر یہ عبارت کندہ ہے: اخوان المسلمون ،تاریخ پیدائش 22 مارچ1928 تاریخ وفات30 جون2013۔یعنی صدر ناصر جن لوگوں کو پھانسی دے کر ختم نہ کر سکا، وہ ایک نئے فوجی اور عدالتی انقلاب کے ریلے میں بہہ گئے۔اخوان لمسلمون اپنا وجود برقرا رکھنے کے لئے ہاتھ پاﺅں ضرور مارے گی، صدر مرسی کو اکاون فی صد ووٹ ملے تھے اور انچاس فیصد ان کے مخالفوں کو ووٹ ملے، اس کامطلب یہ تھا کہ مصر میں لوگ یکسو نہیں ہیں اور مصری معاشرہ شدید انتشار کا شکار ہے اور حالیہ فوجی اور عدالتی بغاوت اسی انتشار کا ایک مظہر ہے۔
مجھے عرب بہار کی اصطلاح سے سخت چڑ ہے، یہ بہار نیٹو کے ٹینکوں اور توپوںکے دہانوں سے پھوٹی۔تیونس، الجزائر، مصر اور اب شام میں عرب بہار کے اسلحہ خانے میں امریکی اور نیٹو بمباروں، میزائلوں،اور ڈالروں کے انبار صاف جھلکتے ہیں۔کرنل قذافی کو نیٹو بمبار طیارے سے داغے جانے والے میزائل نے قیمہ بنا یا، شام میں نیٹو کے طیارے بمباری کرتے ہیں ۔اب عرب بہار نے ترکی کا رخ کر لیا ہے جہاں ایک چوک میں چند درختوں کی کٹائی کا مسئلہ حکومت کے لئے درد سر بن گیا ہے، مصر کی طرح ترکی میں بھی عدالت نے ملکی امور کی نکیل ہاتھ میں لے لی ہے اور تقسیم چوک کے درختوں کو نہ کاٹنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔منتخب حکومت ہاتھ ملتی نظر آتی ہے، عوام کے سامنے تو بے بس نہیں تھی مگر عدلیہ کے سامنے بے بس ہو گئی ہے۔اور تقسیم چوک کی تعمیر نو کے سارے خواب بکھر گئے۔
میڈیا کی طاقت کی بات بہت کی جاتی ہے، مصر کی تہذیب کئی ہزار سال پرانی ہے، اہرام مصر سے ملنے والی سارے مخطوطات ابھی تک پڑھے نہیں جا سکے،پاکستان تو ابھی چھیاسٹھ برس کا ہورہا ہے اور اپنے نو مولود میڈیاپر بہت اتراتا ہے۔
مصری فوج کے ٹینکوںنے سب سے پہلے سرکاری میڈیا پر کنٹرول حاصل کیا ، پھر اخوان المسلمون کے حامی میڈیا کے پانچ چینلز کو بند کر دیا جو مرسی کے حق میںمظاہرین کی لائیو کوریج میں مصروف تھے، آخر میں الجزیرہ کی باری آئی جو الجزیرہ المصر کے نام سے قاہرہ میں کام کررہا ہے۔یہاں کئی صحافیوںکی پکڑ دھکڑ عمل میں آئی۔
دنیا میں کسی نے میڈیا کو ہراساں کرنے پر صدائے احتجاج بلند نہیں کی۔نہ انسانی حقوق والوں کو اپنا فرض یاد رہا۔
 مصر کے چیف جسٹس عدلی منصور اپنے نئے عہدے کا حلف اٹھا چکے ہیں اور انہیں اپنا وہ ایک ہفتے پرانا حلف بالکل سے یاد نہیں رہا جس میں انہوںنے آئین کے تحفظ اور اس کی بالادستی کی قسم اٹھائی تھی۔بنگلہ دیش کی عدلیہ نے اقتدار کاجھولا جھولنے کےلئے ایک نئی راہ تراشی تھی، اب اس پر چلنے والے بہت ہیں۔