ضرورت رشتہ....!

ہم سے ہماری ایک عزیزہ نے یہ کہا: ”لکھتی ہو لڑکیوں کی حمایت میں تم سدا،لڑکے کی ماں ہوں پر بڑی مشکل میں مبتلا،ہمت ہے گر تو میرے مسائل لکھو ذرا،بیٹے کے واسطے مجھے دلہن کی ہے تلاش،پھرتی ہوں چار سُو لئے اچھی بہوکی آس،لیکن کھلا کہ کام یہ آساں نہیں ہے اب،خود لڑکیوں کی ماﺅں کے بدلے ہوئے ہیں ڈھب،پڑھ لکھ کے لڑکیاں بھی ہیںکاموں پہ جا رہیں،لڑکوں سے بڑھ کے بعض ہیں پیسے کما رہیں،معیار شوہروں کا کچھ ان کی نظر میں ہے،مشکل سے کوئی سماتا دل معتبر میں ہے،اک ماں سے رابطہ کیارشتے کے واسطے،کہنے لگی گھر آنے کی زحمت نہ کیجئے،لڑکی ہے بینک میں وہیں لڑکے کو بھیجئے ،سی وی بھی اپنا ساتھ وہ لے جائے یاد سے ،مل لیں گے ہم بھی بیٹی نے ”اوکے“ اگر کیا،ورنہ زیاں ہے وقت کا ۔۔۔ملنے سے فائدہ؟اک اور گھر گئے تو نیا تجربہ ہوا،لڑکی کی ماں نے چھوٹتے ہی برملا کہا،نوکر ہیں کتنے آپ کے گھر میں بتائیے؟ ہر بات کھل کے کیجئے،کچھ نہ چھپایئے،بیٹی کو گھر کے کام کی عادت نہیں ذرا،اس کے لئے تو کام کچن کا ہے اک سزا،شوقین ہے جو لڑکااگردال ساگ کا ،لڑکی کی پھر نگاہ میںپینڈو ہے وہ نِرا ،برگر جسے پسند ہے پیزا پسند ہے،رُتبہ نگاہِ زن میں اس کا بلند ہے،اک اور گھر گئے طبیعت ہی دہل گئی ،پاﺅں تلے سے گویا زمیں ہی نکل گئی،پوچھا ہمیں جو لڑکی نے نظروں سے ناپ کے،کیا کیا پکانا آتا ہے بیٹے کو آپ کے ؟گر شوق ہے کُکنگ کا تو بے شک سلیکٹ ہے،بیڈ ٹی بھی گر بنا نہ سکاتو ریجکٹ ہے،گو تیز ہوں مزاج کی دل کی بھلی ہوں میں،چونکہ اکیلی بیٹی ہوںلاڈوں پلی ہوں میں،اک گھر کیا جو فون تو لڑکی ہی خود ملی،کہنے لگی کہ گھر پہ نہیں ہیں مدر مری ،کہتی تھیں فون آئے گا رشتے کے واسطے،گھر لوٹتی ہوںجاب سے آنٹی میں دیر سے ،ہاں چاہے بیٹا آپ کا گر جاننا مجھے،کہئے کہ فیس بک پہ مجھے ایڈ وہ کرے،لکھ لیجئے احتیاط سے آپ آئی ڈی مری،موجود فیس بک پہ میں ہوتی ہوں ہر گھڑی،اک دوسرے کو کر لیں گرانڈرسٹینڈ ہم،بعد اس کے ہی بجائیں گے شادی کا بینڈ ہم،اک اور گھر گئے تو عجب حادثہ ہوا،لڑکی نے بے دھڑک میرے بیٹے سے یہ کہا،ورکنگ ہوں میںسو ہیں میرے کچھ مرد بھی فرینڈ،امید ہے کہ آپ نہیںنیرو مائنڈیڈ،دنیانکل گئی ہے کہاں سے کہاں جناب،اب بھول جائیں آپ بھی غیرت کا وہ نصاب،جس گھر گئے وہاں ہمیںجھٹکے نئے لگے،آخرکھلا یہ راز کہ اپنی ہے سب خطا،بیٹے کی تربیت میں بہت رہ گیا خلا،کھانا پکا سکے جو نہ چائے بنا سکے،وہ کس طرح سے آج کی لڑکی کو بھا سکے،لڑکی کے دوستوں سے بھی ہنس ہنس کے جو ملے،دل میں لائے رنج نہ ہونٹوں پہ ہوں گلے،بیو ی کے وہ مزاج کا ہر پل غلام ہو،تیور اسی کے دیکھتا وہ صبح شام ہو“....ایک پریشان ماں کا حال ہم نے جوں کا توں لکھ دیا ہے اور ان حقائق میں رتی بھر شبہ نہیں کیا جا سکتا بلکہ بہت سے نکات ابھی لکھنا باقی رہ گئے ہیں مثال کے طور پر لڑکی کی خواہش ہوتی ہے کہ جس لڑکے کے ساتھ اس کی شادی کی جائے اس کی ماں مر چکی ہو یا مرنے کے قریب ہو،لڑکے کا باپ امیر آدمی ہو اور لڑکے کی فیملی مختصر ہو۔ اول تو لڑکے کی کوئی بہن نہ ہو اور اگر ہو تو ایک سے زیادہ نہ ہو اور وہ بھی شادی شدہ ہواور اس کا اپنے مائیکہ وزٹ کا سلسلہ روزانہ یا ماہانہ نہیں بلکہ سالانہ ہو۔ لڑکے کا گھرانہ مذہبی نہیں ہو ۔۔۔مزید برآںشادی میں بخل سے کام نہ لیا جائے،تمام رسومات پر جدید تقاضوں کو پورا کیاجائے ۔اور ہاں وہ زمانہ گیا جب لڑکے کی شرافت اور روزگار کی بنیاد پر رشتے ہوا کرتے تھے،لڑکی اب پہلے لڑکے کی شکل و صورت اور قد کاٹھ دیکھتی ہے ،اس کے بعد اس کی گاڑی ،گھر بار اور روزگار کا تحقیقی جائزہ لیتی ہے۔لڑکاعمر میں پانچ یا چھ سال بڑا ہو تو چلے گا ،اس سے زیادہ عمرکا ہوا تو اسے ”ابا“کہہ کر مسترد کر دیا جائے۔”جیب،جوانی اور جاب“کی بنیاد پر رشتے طے ہوتے ہیں۔ ذات پات اور خاندانی معیار پیچھے رہ گیا ہے۔وہ زمانہ بھی گیا جب بڑے کہا کرتے تھے کہ صرف خاندان دیکھو ،پیسہ تو” کنجروں “کے پاس بھی بڑا ہے۔آج پیسے والے شرفا کہلاتے ہیں ۔مگر زمینی حقائق سر چڑھ کر بول رہے ہیں وہ یہ کہ شریف اور کماﺅ لڑکوں کے پاس بہت چوائس ہے،لڑکیاں زیادہ اور لڑکے کم ہوتے جا رہے ہیں لہذا بہو کی تلاش اتنی بھی مشکل نہیں رہی البتہ بہو کی تلاش کی فہرست میںاعتدال کی ضرورت ہے۔
 حسن کی تلاش بری بات نہیں کہ انسان جب خربوزہ یا تربوز بھی خریدنے نکلتا ہے تو پہلے اس کا حسن دیکھتا ہے البتہ مٹھاس کا عقدہ اسے گھر لانے کے بعد کھلتا ہے۔اگر انتہائی بے مزہ ہو تو گھر سے باہر پھینک دیا جاتاہے۔ بہو کی تلاش میں صورت کو نہیں سیرت کو مقدم رکھا جائے۔بھارتی ایکٹرس کی تلاش میں نکلو گے تو خود بھی اس کی اداﺅں پر ناچنا پڑے گا۔ کسی کے خاندانی ہونے کا پیمانہ اس کی دولت، مرتبہ یا حسن نہیں بلکہ خاندانی لوگ وہ ہوتے ہیں جو خاندانوں کو جوڑ کر رکھنے کے قائل ہیں۔لڑکی والوں سے دو ٹوک الفاظ میں کہاجائے کہ ہمارا لڑکا شادی کے بعد بھی ہمارے ساتھ رہے گا ،لڑکی والے انکار کر دیں تو سمجھ جائیں کہ معاملہ خاندانی نہیں کیوں کہ خاندانی لوگ خاندان توڑنے والے نہیں بلکہ خاندان جوڑنے والے ہوتے ہیں۔ خاندانی لوگ چاہتے ہیں کہ ان کی لڑکی ایک ایسے خاندان میں بیاہ کر جائے جہاں اسے والدین کی دعائیں اور شفقت میسر ہو۔قبر میں بھی تنہائی ہے لہذا گھروں کو قبریں بنانے سے گریز کیا جائے۔