وزیر اعظم صاحب کے نام کھلا خط۔۔۔ بجٹ اورکشمیر کاز

تحریر: ماروی میمن...............
محترم وزیر اعظم صاحب!
پاکستانی پارلیمان ہونے کے ناطے میرا یہ آئینی فرض ہے کہ میں کشمیر کاز کی حفاظت کروں ۔جب میں دیکھوں کہ کشمیر کاذ کو نقصان پہنچ رہا ہے تو میں اسے قومی سلامتی کے معاملے کے طور پر اٹھاﺅں۔
آزاد جموں کشمیر کے بجٹ میں کٹوتی کا نیشنل سیکورٹی پر ، عوامی فلاح و بہبود پر اور تعمیر نو پر بہت گہرا اثر ہو گا۔ اسی لئے ایسے نتائج سے بچنے کے لئے آزاد کشمیر کو پوری Budget Allocationدینا پڑے گی۔
حال ہی میں جولائی 2تا 4میں نے آزاد کشمیر کا دورہ کیا ، بجٹ کٹوتی کا مظفر آباد، باغ، راولا کوٹ، کوٹلی ،لائن آف کنٹرول پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا۔ میں ان مشاہدات کو آپ کے سامنے پیش کرنا چاہوں گی۔ میں امید کرتی ہوں کہ ان پر فوری ایکشن لیا جا ئے گا۔ تاکہ آزاد جموں کشمیر کی حکومت اور عوام کا حکومت پاکستان پر اعتماد بحال ہو اور جو نقصان ہوا ہے اس کی تلافی ممکن ہو سکے۔
۱۔ERRAاوراس کے ذیلی اداروں SERRA، DRUاور TMUکے کردار کو آزاد جموں کشمیر کے عوام سچ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ حالانکہ 2005ءکے زلزلہ کے بعد ان اداروں نے Adversityکو Opportunityمیں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ کرپشن ،پیسوں اور وقت کے ضیاع جیسے الزامات سے بچنے کے لئے ERRAکو اپنی پانچ سالہ کارکردگی کی مکمل رپورٹ پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔ جس سے بین الاقوامی امداد، فنڈز کی وصولی ، فنڈ کہاں , کب اور کس پراجیکٹ پر خرچ ہوئے۔ مزید کتنے فنڈز درکار ہیں اور پراجیکٹس کی حقیقی لاگت کیا ہے وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہو۔ اگرچہ آزاد جموں و کشمیر میں یہ خیال کیا جا تا ہے کہ ERRAان کے سامنے جواب داں نہیں ہیں۔ مگر ERRAٹیکنیکلی پاکستانی پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ ہیں اور جہاں اسے سپیشل سیشن میں اپنے تمام اکاﺅنٹ کا جواب دینا ہے۔ اس رپورٹ کو عوام کے سامنے بھی لانا چاہیے۔ جہاں بے قاعدگیاں سامنے آئیں وہاں پبلک اکاﺅنٹ کمیٹی اپنا کردار سپیشل کمیٹی کے ذریعے جس میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان بھی شامل ہو ادا کرنا پڑے گا۔
۲۔ آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی پر ہائیر ایجوکیشن کمشن کے بجٹ کی کٹوتی کا بہت برا اثر ہو گا۔ جس کا اثر سٹوڈنٹس کے سکالر شپ ڈویلپمنٹ پراجیکٹ اور دیگر پروگرا م پر ہو گا۔ میری یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے ملاقات بھی ہوئی اور میں آپ کو یہ تجویز دینا چاہوں گی کہ یونیورسٹی کو پورے فنڈ دئیے جائیں۔ یہ ہماری حکومت کا ایک بڑا کارنامہ تھاجو پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے میں مدد دیتا ۔ بجٹ کٹوٹی کی وجہ سے پاکستان Brain Drainکا شکار ہو چکا ہے۔ Finance Teamکو وائس چانسلر سے رابطہ کر نا ہو گا اور ان کی معاشی ڈیمانڈ پوری کرنا ہوں گی۔
۳۔ 2009-10ءمیں آزاد جموں و کشمیر کو 1.815بلین روپے کا ADPجاری نہیں کیا گیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے 2010-11ءکے ADPمیں یہ بقایاجات اضافی طور پر شامل کئے جائیں۔
۴۔ 2010-11ءکے ADPکو 6 ارب روپے سے بڑھا کر 11 ارب روپے کر دینا چاہیے جو آزاد جموں و کشمیر کے پانچ ارب روپے کے بجٹ خسارہ کو پورا کر دے گا۔
۵۔ Member Legislative Assemblyکے2009-10ءکے سپیشل گرانٹ کو 2009-10ءمیںADPکا حصہ بنایا گیا۔ جسے آزاد جموں و کشمیر کے نارمل ADPمیں اضافی طور پر شامل کرنا چاہیے تھا۔ کیونکہ وزیر اعظم کی سپیشل برانچ کو ADPسے نہیں کاٹا جا تا ۔
۶۔ پیارا کشمیر پراجیکٹ Review Boardکی منظوری کا معاملہ فوری طور پر حل کیا جائے۔ تاخیر کی وجہ سے پہلے ہی نیشنل سیکورٹی کو کافی رسک کا سامنا ہے۔
۷۔ پاکستان کی قومی اور بین الاقوامی ساکھ کے لئے ضروری ہے کہ زلزلہ کے بعد ملنے والی امداد سے پراجیکٹس جلد از جلد مکمل کئے جائیں۔اور حکومت پاکستان کی طرف سے فنڈ ز نہ روکے جائیں ۔اس ضمن میں SERRAکے 27 ارب روپے اس سال ریلیز کئے جائیںاگر ایسا نہ کیا گیا تو پراجیکٹ رک جائیں گے۔ (جو پہلے ہی ہو چکا ہے)اور کنٹریکٹرز ایسے ہی سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں گے جس کا تعطل بد امنی کا باعث بنے گا جو پاکستان کی سلامتی کے لئے اچھا ثابت نہیں ہو گا۔
۸۔ ERRAکے پراجیکٹس کے لئے بجٹ واضح نہیں اسے واضح اور مکمل بجٹ دینا ہو گا۔
۹۔ تین شہروں کے ماسٹر پلان کی تکمیل دو ر دور تک دکھائی نہیں دیتی اسے عوام کی تسلی کے مطابق مذاکرات کے بعد مکمل کرنا ہو گا۔ Terms & Conditionsسے متعلق خدشات کو متعلقہ Stake Holdersکو چائنیز کے ساتھ مل کر حل کر نا ہو گا۔
۱۰۔ میں نے LOCکے گاﺅں تتری نوٹ کا دورہ کیا گاﺅں کی سڑکوں کی مرمت بہت ضروری ہے کیونکہ وہاں لائن آف کنٹرول سے تجارتی سامان گزرتا ہے۔ تجارتی اشیاءکی لسٹ اور دنوں میں اضافہ کیا جائے ، LOCکے پار جانے کےلئے پرمٹ کی وصولی آسان بنائی جائے ۔ کشمیری شہداءاور زخمیوں کو اتنا ہی معاوضہ دیا جائے جتنا پاکستان کے دوسرے علاقوں میں دیا جا تا ہے کیونکہ یہ پاکستان کے دفاع میں سب سے آگے اپنی جانیں دے رہے ہیں۔ علاقے کے لئے پانی اور مارکیٹ کا قیام بہت ضروری ہے کیونکہ ٹرکوں اور اشیاءکی ترسیل میں کافی انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ان کی تمام ایشوز کو فارن آفس اور دوسرے متعلقہ لیول پر حل کیا جائے۔ میرا مشورہ ہے کہ ان Stake Holdersکی LOCپر واقع علاقوں کے عمائدین کے ساتھ میٹنگ ہوتاکہ مسائل کا حل ممکن ہو سکے ۔ عمائدین کی شمولیت کے بغیر بیورو کریٹک لیول پر حل کسی طرح بھی پائیدارنہ ہو گا۔
۱۱۔ میں نے گل پور کوٹلی میں مہاجرین کیمپ کا دورہ کیا۔ وہاں کے لوگ اپنے ماہانہ الاﺅنس میں مہنگائی کی وجہ سے اضافہ چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ حکومت پاکستان ان کا دو کروڈروپے بجلی کا بل ادا کرے۔ 118کنالوں کی مرمت ضروری ہے کیونکہ حالات نا قابل برداشت طور پر خراب ہو چکے ہیں۔ کشمیر کمیٹی کے چئیرمین کی طرف سے وعدہ کئے گئے پانی کے ٹینک کی فراہمی فوری طور پر ضروری ہے تاکہ پانی کے فراہمی کے مسائل حل کئے جائیں۔ پرائمری سکول کو کم از کم مڈل سکول کا درجہ دیا جائے۔ اور آخر میں کوٹلی ، مظفر آباد اور باغ میں تمام دس کیمپوں میں موجود مہاجرین کو میڈیا کے سامنے لایا جائے۔ تاکہ وہ اپنے اوپر ہونے والی بھارتی زیادتیوں کو سامنے لائیں جو وہ مسئلہ کشمیر کے حل نہ ہونے کی وجہ سے سہہ رہے ہیں۔
۱۲۔ پولیس کی تنخواہوں میں پاکستان کے دوسرے صوبوں خصوصاً پنجاب کی پولیس جتنا اضافہ کیا جائے۔
۱۳۔ وزیر اعظم اور صدر پاکستان کی جانب سے میڈیا پریس کلب کے لئے سپیشل گرانٹ کے وعدوں کو پورا کیا جائے۔
۱۴۔ تنخواہوں میں 50%اضافہ بڑی مشکل سے مانا گیا لیکن حالیہ بجٹ کٹوتی کی وجہ سے آزاد جموں و کشمیر کی حکومت ایسا نہیں کر پائے گی ۔ کیونکہ دوسرے صوبوں کی طرح کشمیر کو NFCمیں تبدیلی اور اضافے کے بعد کوئی اضافی فنڈ ز نہیں دئیے گئے اس لئے بجٹ میں آزاد جموں و کشمیر کے لئے خصوصی گرانٹ رکھی جائے ۔
۱۵۔ حکومت پاکستان کے بھارت کے ساتھ حالیہ معذرت خواہانہ رویہ کی وجہ سے کشمیر کاز کو بہت نقصان ہوا ہے ۔ مسئلہ کشمیر پر فارن آفس کی اور کشمیر کمیٹی کی کارکردگی کی رپورٹ کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش ہونا چاہیے تاکہ مسئلہ کشمیر پر مثبت پیشرفت ممکن ہو سکے ۔مقبوضہ کشمیر میں حالیہ بھارتی جارحیت کے خلاف پارلیمنٹ میں قرارداد پیش ہونی چاہیے اس پر قومی اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے تاکہ اس مسئلہ کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر بھرپور طریقے سے نہ صرف اٹھایا جائے بلکہ اہمیت دی جائے جو اس کا حق ہے ۔ کشمیر کمیٹی کی کارکردگی کو آزاد جموں و کشمیر میں عوامی سطح پر ڈسکس کیا جا تا ہے جو خطرے کی علامت ہے۔ یقینا اس کمیٹی کی اکاﺅنٹبیلیٹی بھی ضروری ہے۔
۱۶۔ Mangla Raisingکے 5 ارب روپے ابھی دینا باقی ہیں اس کے ساتھ ساتھ واپڈا کے 40 کروڑ روپے بھی دینے ہیں۔
۱۷۔ آزاد جموں و کشمیر کو اس کے تمام ہائیڈل پراجیکٹ میں نیٹ ہائیڈل پرافٹ دیا جائے۔
۱۸۔ آزاد جموں و کشمیر کونسل کو آزاد جموں و کشمیر حکومت 1.59بلین روپے دینے ہیں۔ اس مسئلہ کو بھی حل کیا جائے۔
۱۹۔ اوپر دئیے گئے تمام ایشوز منسٹراور وزارت امور کشمیرو گلگت بلتستان کے ذریعے حل ہو جانا چاہئیں تھے ۔ کیونکہ یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ آزاد جموں و کشمیر حکومت اور حکومت پاکستان کو اس ضمن میں مدد فراہم کرے۔ تاہم آزاد جموں و کشمیر کے لوگوں کے مطابق KAGBمنسٹری اپنے Colonianرویے سے آج تک نکل نہیں سکی اور لوگوں کی خدمت نہیں کر سکی۔ بہت برا تاثر پیدا ہو تا ہے کہ جب یہ بات سامنے آتی ہے کہ آزاد کشمیر کے مسائل سے غفلت برتی جارہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیرو گلگت بلتستان کی میٹنگ میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ جو اچھی بات نہیں ہے ۔
۲۰۔ ERRAکی کارکردگی سے متعلق شکایات سے متعلق رپورٹ کو آپ کے حوالے کیا جا ئےگا جب میرے پاس وہاں کے لوگوں کا مکمل فیڈ بیک موصول ہو جائےگا۔
اگر اوپر دئیے گئے مسائل کو آپ کے آفس کے ذریعے حل نہ کیا گیا تو آزاد جموں و کشمیر اور پاکستان کے لوگوں میں اعتماد کو سخت نقصان ہو گا ، بین الاقوامی سطح پر کشمیر کاز کو نقصان ہو گا۔ Adversityکو Opportunityمیں تبدیل نہیںکیا جا سکے گا۔ وزیر اعظم صاحب،پاکستان کی شہ رگ کے لئے ڈلیور کرنے کےلئے Good Luckتاکہ حقیقی معنوں میں کام کیا جائے نہ کہ محض نعرہ بازی ہو۔ خیر خواہ / ماروی میمن