تے فیر سانوں ستے ہی خیراں نیں

کالم نگار  |  فاروق عالم انصاری

سوال : امریکہ میں مارشل لاءکیوں نہیں لگتا؟ جواب : امریکہ میں امریکی سفارتخانہ جو نہیں۔ سوال ہندوستان میں امریکی سفارتخانہ بھی موجود ہے لیکن وہاں کبھی مارشل لا نہیں لگا۔ کیوں؟ جواب : اس ملک میں جمہوریت بھی تو ہے۔ سوال : کیا پاکستان میں جمہوریت نہیں؟ جواب : کیوں میرا منہ کھلواتے ہو، کیا آپ خود نہیں جانتے۔ سوال : پھر ہم کس جمہوری سسٹم کو بچانے کے لئے آخری حد تک جانے کو تیار بیٹھے ہیں؟ جواب : آپ اس سوال کا جواب میاں نواز شریف سے ہی پوچھے تو زیادہ بہتر ہے۔ آپ میاں نواز شریف سے یہ بھی تو پوچھ سکتے ہیں کہ کیا ابھی آخری حد نہیں آئی۔ ایک مرتبہ نواز شریف سے پوچھا گیا کہ حضور یہ آخری حد کی حدود کہاں سے شروع ہوتی ہیں۔ انہوں نے فرمایا ”میں بیس کلو میٹر فی گھنٹہ کے حساب سے بھی گاڑی چلانے کو تیار ہوں“ ۔۔ لو! اب آگے راستہ بند ہے کا بورڈ بھی پڑھ لیں۔ اب میاں صاحب بیس کلو میٹر فی گھنٹہ والی رفتار بھی کیسے برقرار رکھ سکیں گے۔ نوائے وقت کے سینئر رپورٹر، رپورٹ کرتے ہیں کہ ”میاں شہباز شریف نے جمعرات کی شب ساڑھے دس بجے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے وفاقی اداروں کو دہشت گردی سے متعلق معلومات پنجاب حکومت کو پہنچانے سے روک دیا ہے۔“ حضرت سید علی ہجویریؒ کے دربار میں لگے ہوئے کلاک کی سوئیاں گیارہ بجے پر ٹھہری ہوئی ہیں۔ کیا یہ بات دہرانے کی ضرورت ہے کہ دھماکے کا وقت جمعرات کی رات گیارہ بجے تھا۔ رحمان ملک نے میاں نواز شریف کے الزام کی فی الفور تردید تو کر دی لیکن یار لوگ خوب سمجھتے ہیں کہ سرکاری تردید کی کیا اہمیت ہوتی ہے۔ ایک آواز اندرون ملک سے بھی آئی ہے۔ اخباری بیان پر دو اور نام بھی درج ہیں۔ اہم تر نام خواجہ سعد رفیق کا ہے۔ ”اگر حکومت نے اپنا قبلہ درست نہ کیا تو اب مسلم لیگ ن فرینڈلی نہیں بلکہ ڈیڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔“ پُرجوش مقرر خواجہ سعد رفیق قافیہ ردیف کے چکر میں پھنسے نظر آ رہے ہیں۔ لفظ ”ڈیڈلی“ کی بس اتنی ہی اہمیت ہے کہ گزرے وقتوں میں فاقہ مست شاعر اقبال ساجد نے ایک شعر کہا تھا
ندیم و فیض فراق و فراز کچھ بھی نہیں
نئے زمانے میں ان کا جواز کچھ بھی نہیں
پھر احمد فراز ملاقات پر اقبال ساجد سے گلہ گزار ہوئے کہ بھئی آپ نے ہمیں پرانے زمانے کا شاعر بنا کر رکھ دیا۔ اقبال ساجد چہک کر بولے کہ تم تو نہ ہی پرانے زمانے کے شاعر ہو اور نہ ہی نئے زمانے کے، تمہارا نام تو مجھے محض قافیہ کی مجبوری سے لانا پڑا ہے۔ ن لیگ میں اک جہان آباد ہے۔ ادھر صرف بڑے خاندان والوں کا نام چلتا ہے۔ سیاسی وراثت کا قانون بھی لاگو ہے۔ یہاں کئی دھارے الگ الگ بہتے ہیں۔ پھر ان سب کے بہنے کی سمت بھی ایک نہیں۔ اس کو خود اپنے اندر کی لڑائیوں سے فرصت نہیں، یہ باہر کیا جھانکیں گے۔ قومی اسمبلی کا حلقہ نمبر 100 نوشہرہ ورکاں اور متصل دیہات پر مشتمل ہے۔ یہاں سیاسی جماعتوں کی بجائے ذات برادریوں کا اثر رسوخ زیادہ ہے۔ پچھلے الیکشن میں یہاں بلال اعجاز ق لیگ کے امیدوار تھے، مدثر ناہرا آزاد امیدوار تھے۔ ق لیگ اپنے امیدواروں کو ووٹ فراہم نہیں کیا کرتی، صرف ٹکٹ ہی عطا فراہم کرتی ہے۔ ووٹوں کا بندوبست امیدوار کو گرہ خود سے کرنا پڑتا ہے۔ مقابلہ برابر کا تھا۔ مدثر ناہرا تھوڑے سے ووٹوں کی برتری سے جیت گئے۔ نیچے صوبائی اسمبلی کی دونوں نشستوں پر ق لیگ کے امیدوار کامیاب ہوئے۔ مدثر ناہرا کے دونوں امیدوار ہار گئے۔ بیچارہ خوش خلق نوجوان رفاقت گجر ایڈووکیٹ صرف چند ووٹوں سے ہارا ۔۔۔ پھر
دیا جلنے لگا ہے اس دریچے کی طرف دیکھو
مری منزل یہی ہے کارواں ٹھہرا دیا جائے
دونوں اطراف کے سیاسی مسافر ”جاتی عمرہ شریف“ میں بیعت کے لئے ٹھہر گئے۔ نذر میں ایک گروہ قومی اسمبلی کی نشست اٹھا لایا۔ دوسروں نے صوبائی اسمبلی کی دو نشستیں ”فارورڈ“ کیں۔ ادھر ن لیگ کے بھی کیا حوصلے زیادہ ہیں کہ کوئی آئے آئے کہ ہم دل کشادہ رکھتے ہیں۔ ان دونوں کو ’قبول‘ کر لیا گیا۔ اب مدثر ناہرا اور بلال اعجاز دونوں ’ن‘ لیگ میں شامل تھے۔ مدثر ناہرا کے خلاف بلال اعجاز کی انتخابی عذرداری اڑھائی سال چلتی رہی۔ جماعتی قائد نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ شاید میاں نواز شریف کو ”آپے ہیر تے آپے ای رانجھا“ والا فلسفہ زیادہ بھاتا ہے۔ بیرسٹر کامران شیخ کی قانونی مہارت اور ذہانت نے مدثر ناہرا کو چاروں شانے چت گرا دیا۔ شہروں میں مرغوں کو لڑانے کا رواج ختم ہو چکا ہے۔ یہ جماعت کیا ”ڈیڈلی“ اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔ یہ صرف اپوزیشن کا کردار ہی سنبھال لے۔ ”تے فیر سانوں ستے ہی خیراں نیں۔“