سارے برے پھنسے مگر عمران اور نواز شریف

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

سارے پھنس گئے بلکہ دھنس گئے ہیں۔ حکمران سیاستدان طالبان صحافیان اور عمران خان عرف طالبان خان، اب اس خاک و خون کی دلدل سے نکلیں گے تو مل کر نکل سکتے ہیں وہ اپنے مفاد اور ذاتی عناد کی بنیاد پر ایک دوسرے سے مل سکتے ہیں۔ ان میں کسی کو پاکستان کا کوئی درد نہیں ہے۔ پاکستانی عوام کا کوئی خیال نہیں ہے۔ بس اپنے لئے کچھ کرنے اور کچھ نہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ان کا کچھ نہ کرنا بھی کچھ کرنے سے کم نہیں ہوتا۔ بے معنی تجزئیے ٹی وی چینل پر ہوتے ہیں۔ اپنی ریٹنگ بڑھانے کے چکر میں ایک ہی پروگرام چلائے چلے جا رہے ہیں۔ وہی سات آٹھ آدمی ہیں وہی تین چار عورتیں ہیں۔ ان کے پاس وہی باتیں ہیں جو پہلے پروگرام میں کی گئی تھیں۔
میں پھر گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کی بات دہرا رہا ہوں۔ ’’طالبان ہم سے بہتر سیاستدان ہیں‘‘ ان کی سیاسی اور عسکری قیادت ایک ہے۔ انہوں نے مذاکرات میں خود شرکت نہیں کی اور انکار بھی نہیں کیا۔ پاکستان کے لوگوں کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہے۔ پرو طالبان اور انٹی طالبان۔ پاکستان کے سیاستدان صحافیان وغیرہ وغیرہ پہلے ہی دو حصوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ہم نے بھی انہیں دو حصوں میں لگانے کی ناکام کوشش کی۔ اچھے طالبان اور برے طالبان۔ ہمیں تو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ دہشت گرد کون ہیں۔ کیا واقعی وہ طالبان ہیں یا طالبان بنے ہوئے ہیں۔ ہمیں تو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ ان کی طرف سے مطالبے کس کی طرف سے آتے ہیں۔ میرے اس جملے کو بہت پسند کیا گیا۔ بہت دوستوں اور لوگوں نے رابطہ کیا ہے یہ طالبان ہیں یا ’’مطالبان‘‘ ہیں۔ ہماری طرف سے تو ایک ہی مطالبہ ہے کہ دہشت گردی بند کرو۔ وہ حیران ہو کر ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ انہوں نے دہشت گرد کس کو کہا ہے۔
طالبان نے مذاکرات کے لئے ہمیں پھنسا دیا ہے بلکہ دھنسا دیا ہے کہ اب آپس میں لگے رہو۔ ہمیں اپنا کام کرنے دو۔ ان کی وجہ سے ’’شہید‘‘ کا خطاب متنازعہ بن گیا ہے۔ جہاد متنازعہ بن گیا ہے۔ اب انہوں نے عمران خان کو ان کا اصل چہرہ دکھا دیا ہے۔ طالبان کے حمائتی بنتے ہو۔ پہلے طالبان کے نام پر اپنے لئے لانگ مارچ کیا تھا۔ اب شارٹ ڈھونڈتے ہو؟ طالبان سے مذاکرات کی حمایت کرتے ہو تو اب کرو ہماری طرف سے مذاکرات۔ عمران پہلی دفعہ پریشان ہوئے ہیں۔ ان کو ڈر ہے کہ کہیں یہ آخری دفعہ نہ بن جائے۔ عمران انکار نہیں کرنا چاہتے تھے۔ شاہ محمود قریشی نے عمران خان کی طرف سے انکار کر دیا ہے۔ اب پتہ چلا ہے کہ ان کی لگامیں کس کے ہاتھ میں ہیں اور شاہ محمود قریشی کے عزائم کیا ہیں۔ نواز شریف نے شاہ محمود کو اشارہ کیا ہو گا۔ تو کیا طالبان کو بھی نواز شریف نے اشارہ کیا ہے۔ پھنس تو نواز شریف بھی گئے ہیں۔ وہ تو صرف سیاست کرتے ہیں۔ سیاست جو ابھی تک ان کی سمجھ میں نہیں آئی۔ نواز شریف کی سیاست بھی اب ’’صدر‘‘ زرداری کی سیاست کی طرح ہوتی جا رہی ہے۔ دونوں نے تھرکول کا ایک ساتھ افتتاح کیا ہے۔ یہ افتتاح پہلے بھی ہو چکے ہیں۔ تھرکول منصوبہ بھی وہی نہیں ہونے دے گا جو کالاباغ ڈیم نہیں بننے دیتا۔ کہتے ہیں کوئلے کی دلالی میں منہ کالا۔ کوئی ہے جو سیاست کو دلالی نہ بننے دے۔
’’صدر‘‘ زرداری سے نواز شریف نے کہا کہ بلاول کو سمجھائو وہ ہتھ ہولا رکھے ’’صدر‘‘ نے وعدہ کر لیا جبکہ بلاول کوئی بیان ’’صدر‘‘ زرداری کی سیاست کے باہر جا کے نہیں دیتا۔
جانتے تھے دونوں ہم اس کو نبھا سکتے نہیں
اس نے وعدہ کر لیا میں نے بھی وعدہ کر لیا
بلاول بھٹو زرداری نے نواز شریف سے پوچھا کہ چودھری نثار حکومت پاکستان کا وزیر داخلہ ہے یا طالبان کا وزیر داخلہ ہے۔ بلاول نے دوبارہ رحمن ملک کو پیش کیا ہے کہ اسے اپنا وزیر داخلہ بنا لو۔ نواز شریف کبھی بھی زرداری سیاست کو نہیں سمجھیں گے۔ وہ سندھ میں اکیلے تھرکول کا افتتاح نہیں کر سکتے تھے۔ صدر زرداری نے طالبان سے جنگ نہ کی۔ مشرف کے خلاف مقدمہ نہ چلایا مگر نواز شریف پر زور دے رہے ہیں کہ یہ دونوں کام کرو اور پھنس جائو بلکہ دھنس جائو۔
طالبان نے مذاکرات کمیٹی کے لئے اپنے نمائندے نہیں بنائے۔ نہ ان کا کوئی اختلاف ہے۔ ان کے کئی گروپ ہیں مگر وہ پاکستانی حکومت کے مقابلے میں ایک ہیں۔ پاکستان میں بھی بہت سیاسی پارٹیاں ہیں۔ حکومت بھی اپنی اپنی اپوزیشن بھی اپنی اپنی۔ علمائے دین نے ڈیڑھ اینٹ کی الگ ایک مسجد بنائی ہوئی ہے۔ کسی وکیل نے کہا کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو کمیٹی میں شامل کرو مگر اس سے پلے انہیں بلٹ پروف گاڑی تو دو۔ وہ گھر سے باہر کیسے نکلیں گے۔ عاصمہ جہانگیر نے خوب بات کی ہے کہ خواتین کو بھی کمیٹی میں نمائندگی دو۔ فضل الرحمن نے اپنا نمائندہ واپس لے کے صرف دعائوں پر ٹرخایا ہے۔ ’’نااہل‘‘  وزیراعظم گیلانی نے قیدیوں کے تبادلے میں اپنے بیٹے کو یاد رکھنے کی التجا کی ہے۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ آپریشن ہو گا پھر کہا  کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے تو پھر ناکام کون ہو گا؟
طالبان کے سارے حامی پھنس گئے ہیں۔ طالبان نے انہیں آئینہ دکھا دیا ہے کہ تم ہماری حمایت نہیں کرتے ہو اپنی سیاست کرتے ہو۔ وہ جو طالبان کے ساتھ لڑائی کے حق میں ہیں یہ پہلے روس کے ساتھ تھے اب امریکہ کے ساتھ ہیں۔ یہ سیاسی لوٹوں سے زیادہ بڑے لوٹے ہیں۔ یہ بین الاقوامی لوٹے ہیں۔ بھارت کا بھی یہی حال ہے۔ وہ اس کے ساتھ ہے اور امریکہ کے ساتھ بھی ہے۔ ہمیں پتہ نہیں کہ ہم کس کے ساتھ ہیں۔ ہمارے حکمران سیاستدان اور میڈیا کے لوگ سب ایک جیسے ہیں۔
اس حوالے سے جنرل حمید گل کی بات بہت اہم بامعنی اور گہری ہے۔ امن مذاکرات سے یہ فائدہ ہو گا کہ اگر اب دہشت گردی ہوتی ہے تو یہ ثابت ہو جائے گا کہ یہ کوئی تیسرا فریق ہے جو دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہا ہے۔ طالبان اور پاکستانی حکومت کو بیرونی طاقتوں کے حوالے سے واضح ہو جائے گا کہ کون دشمن ہے اور انتشار کی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ پوری طرح بے نقاب ہو جائیں گے مگر حیرت یہ ہے کہ طالبان نے جنرل حمید گل کا نام اپنی کمیٹی میں شامل کیوں نہیں کیا۔ طالبان کی طرف سے اس دوران برادرم اوریا مقبول جان اور انصار عباسی کا نام بھی سامنے آیا ہے۔ میرے خیال میں برادرم عرفان صدیقی کے بعد اوریا مقبول جان کا نام خوش آئند ہے۔ دونوں نوائے وقت کے سابق کالم نگار ہیں مگر پھر مجھے اعتراض یہ ہے کہ کیا اوریا مقبول جان طالبان ہے۔ وہ اوریا مقبول خان ہوتے تو بات سمجھ میں آتی۔ عمران خان کو طالبان خان کہتے تھے۔ اب انہیں کیا پکا طالبان سمجھا جانے لگا ہے۔ مگر طالبان عمران خان کو صرف ایک روایتی پاکستانی سیاستدان سمجھتے ہیں۔ عمران کو ایکسپوز کرنے میں شاہ محمود قریشی کا بڑا ہاتھ ہے۔ وہ اگر طالبان کی طرف سے یہ پیشکش قبول کرتے تو یورپ اور امریکہ کو کیا منہ دکھاتے۔ پہلے ہی مولانا فضل الرحمن عمران خان کو یہودیوں کا ایجنٹ کہتے ہیں۔ اب عمران نے انکار کیا ہے تو ان کی پاکستانی سیاست کو بہت دھچکا لگا ہے۔ لگتا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کی بات عمران خان کو پھنسانے کے لئے ایک سازش ہے۔ اللہ کرے یہ سازش پاکستان کے خلاف نہ ہو۔ میں تو اصولی طور پر عمران خان کے خلاف بھی سازش کے خلاف ہوں۔ عمران پہلے سیاست کے دائو پیچ سمجھ لیں مگر اس کے لئے شاہ محمود قریشی کے مشوروں پر نہ چلیں۔ وہ باتیں یاد کریں جو بابا عرفان الحق نے انہیں بتائی ہیں۔