جموں کشمیر۔۔۔ایک خوبصورت جیل!

 یورپی یونین کے ایک ڈیلی گیشن نے  2004 میں کشمیر کا دورہ کیا اور اس نے وہاں کی صورتحال دیکھ کر کہا کہ’’ کشمیر دنیا کا سب سے زیادہ فوجی تسلط کا خطہ ہے اور یہ ایک خوبصورت جیل کی مانند ہے جس میں لوگوں کے شہری اور پیدائشی حقوق سلب کئے جا رہے ہیں‘‘۔جموں کشمیر کے عوام وطن عزیز کی آزادی کے حصول تک شہادتوں اور گرفتاریوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے ۔جموں و کشمیرکے غیور عوام حق خود ارادیت کے حصول کے لئے جانی و مالی قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔جب تک بھارت جموں کشمیر کے لوگوں کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا نہیں کرتا تب تک سیاسی جدوجہد جاری رہے گی جب تک یو این قرار دادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل نہیں کیا جاتا۔ جموں و کشمیرکے غیور اور بہادر عوام جانوں کے نذرانے پیش کرتے رہیں گے۔ حریت کے رہنما سید علی گیلانی نے انگریزوں کی بد دیانتی ،بھارتی حکمرانوں کی ہوس ملک گیری اور کشمیری قیادت کی کوتاہ اندیشی کو تنازعہ کشمیر کے پیدا ہونے کے بنیادی اسباب قرار دیتے ہوئے یورپی یونین کے ذمہ داروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انسانی بنیادوں پر اس مسئلے کو حل کرانے کے لئے کردار ادا کریںاور کشمیریوں کو اپنے مستقبل کے بارے میںفیصلہ کرنے کا موقع فراہم کرنے میں مدد کریں۔انہوں نے کہا کہ آج بھی بھارت کی ضد اور ہٹ دھرمی اس مسئلے کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے اور یہ ملک اپنے جمہوری دعووں کے بر عکس کشمیر کے بارے میں اپنی فوجی طاقت سے فیصلہ کرنا چاہتا ہے۔بزرگ رہنما سید علی گیلانی نے کہا کہ کشمیری عوام بھارت یا یہاں کے لوگوں کے دشمن نہیںہیں البتہ وہ ان وعدوں کا ایفاء چاہتے ہیںجو پنڈت جواہر لال نہرو اور دیگر لیڈروں نے ان کے ساتھ کئے ہیں اور کشمیریوں کو گارنٹی دی گئی  کہ انہیں رائے شماری کے ذریعے سے اپنا مستقبل طے کرنے کا موقع فراہم کیاجائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہماری لڑائی کسی مذہب اور فرقے کے خلاف نہیں البتہ آزادی کے لئے جدوجہد کرنا ہر انسان کا پیدائشی حق ہے۔گیلانی صاحب نے یاد دلایا کہ یورپی یونین کے ایک ڈیلی گیشن نے  2004 میں کشمیر کا دورہ کیا تھا اور اس نے وہاں کی صورتحال دیکھ کر کہا تھاکہ کشمیر دنیا کا سب سے زیادہ فوجی تسلط کا خطہ ہے اور یہ ایک خوبصورت جیل کی مانند ہے جس میں لوگوں کے شہری اور پیدائشی حقوق سلب کئے جا رہے ہیں۔یورپی یونین کے وفد نے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو کشمیر کی تنازعے کا واحد قابل عمل حل قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس عالمی ادارے کی ذمہ داری ہے کہ حق خودارایت کوہر انسان کا لازمی حق دلائے اور اس سے کسی انسان کو بھی محروم نہیں رکھا جا سکتا۔غلامی کی جنگ لڑنے والا پاکستان بابائے قوم محمد علی جناحؒ کی آنکھ بند ہوتے ہی پھر غلاموں کے ہاتھوں میں چلا گیا،یہ دیسی غلام انگریز کی غلامی سے کبھی نجات نہ پا سکے حتیٰ کہ ان کی نسلیں بھی غلام ہیں البتہ ایک فرق ہے کہ ان کے بڑے انگریز وں اور ہندو راج کے غلام تھے جبکہ نسلیں غلاموں کی غلام ہیں یعنی امریکہ کے غلام جو کہ خود ایک زمانے میں انگریز کا غلام رہ چکا ہے۔دنیاکے تمام ممالک نے آزادی کی جنگ لڑی اور آزادی لے کر دم لیا مگر فلسطین اور جموں کشمیر تنہا جنگ لڑ رہے ہیں اور الا ما شا ء اللہ مسلمان حکمران ان کے دشمنوں کے دوست بن گئے ہیں۔جموں کشمیر کا پاکستان سے الحاق کا فیصلہ 66 سال پہلے طے ہو چکا تھا مگر پاکستان میں غلام راج نے کشمیر کے ساتھ بے وفائی کی اور ملکی مفادات کو ذاتی مفادات پر فوقیت دی۔ 1947میں جب پاکستان کے قیام کی تحریک چلی تو اس میںکشمیر کے مسلمانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا،جانی ومالی قربانیاں دیں۔پاکستان کا مطلب کیا ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کے نعرے سے وادی کشمیر بھی گونج اٹھی۔17جولائی کو جب برطانوی ہائوس آف لارڈز نے آزادی ہند کا قانون منظور کیاتو جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ’’آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس ‘‘نے متفقہ طور پر الحاق پاکستان کی قرار داد منظور کر لی تھی۔برطانوی حکومت نے تقسیم ہند کا جو فارمولہ طے کیا تھااس کی رو سے جموں و کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہونا تھامگر انگریزوں اور ہندوئوں کی باہمی سازش کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا۔ میاں نواز شریف نے اپنے سابقہ دور حکومت میں جموں کشمیرکے ایشو کو سلجھانے کی مخلصانہ کوششیں کی تھیں مگر ان کی مدت اقتدار پوری نہ کرنے دی گئی ،چودہ برس بعد میاں نواز شریف کو تیسری بار اقتدار ملا ہے،کشمیری عوام نواز حکومت سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ بھارت کے ساتھ دو ٹوک بات
کریں اور مسئلہ کشمیر کو سنجیدہ لیں ۔مقبوضہ کشمیر کی جدوجہد آزادی چار نسلیں نگل چکی ہے ۔معاشی و تعلیمی اعتبار سے بھی کشمیری قوم محرومی کا شکار ہے۔قلم دوات کی بجائے ہاتھوں میں پتھر اٹھائے پھر رہے ہیں۔غربت ،بیروزگاری ، ظلم،بے انصافی کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں مگر اقوام متحدہ نے کانوں میں روئی اور آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے جبکہ مسئلہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر فلسطین کے بعد دوسرا بڑا سیاسی مسئلہ ہے۔اس حساس مسئلہ پر پاکستان دو جنگیں لڑ چکا ہے جس کی وجہ سے پاکستان معاشی ، سیاسی و جغرافیائی اعتبار سے کمزور ہوچکاہے۔مسئلہ کشمیرکے حل میں امریکہ کو بھی ثالث بنایا گیا مگر امریکہ نے یہ کہتے ہوئے مسئلہ کشمیر سے خود کو الگ کر لیا کہ یہ پاک بھارت کا اندرونی معاملہ ہے ۔ جب پاکستان نے ہی اس سنجیدہ مسئلے سے منہ موڑ لیا تو غیروں سے کیا امید ۔۔۔؟پاکستان نے جموں و کشمیر کو حقیقت میں کبھی اپنا مسئلہ سمجھا ہی نہیں ۔بلا شبہ جموںکشمیر ایک خوبصورت جیل کی مانند ہے ،جہاں خوبصورت لوگ ایک بد صورت تسلط کا شکار ہیں۔